وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور وزیر اعلیٰ کے پی کے محمود خان کے کارنامے

جب سے جہانگیر ترین سے وزیراعظم ہاؤس کے فاصلے بڑھے ہیں اور ماضی کے قصے نئے انکشافات کی شکل میں عوام کے سامنے آرہے ہیں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کافی مشہور ہو گئے ہیں ۔خیبر پختونخواہ میں وہ چیف سیکرٹری رہے اس لئے وہاں کے عوام تو انہیں پھر بھی جانتے ہیں اور وزیراعظم ہاؤس کے چکر لگانے والے عوام اور سرکاری افسران بھی اعظم خان سے بخوبی آگاہ ہیں لیکن باقی صوبوں کے عوام کے لئے اعظم خان کا نام اتنا عام نہیں تھا جتنا آپ جہانگیرترین کے حالیہ انٹرویوز اور عمران خان سے اختلافات کی وجوہات میں ان کا نام آنے سے مشہور ہوگیا ہے ۔میڈیا میں اعظم خان کے حوالے سے کافی خبریں گردش میں ہیں مختلف تجزیہ نگار اور سیاسی مبصرین بھی ان کا نام لے کر مختلف باتیں کر رہے ہیں سینئر اینکر پرسن وی اپنے پروگراموں میں اعظم خان فذکر بار بار کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ناظرین اور قارئین کا تجسس اور اعظم خان کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی جستجو بڑھ گئی ہے ۔
مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان کے کارناموں پر ایک نظر ڈالی ہے ان کا کہنا ہے کہ ایک کیس ہے جو نیب کے پاس کافی دنوں سے پڑا ہوا ہے اس کا نام مالم جبہ ریزارٹ کیس ہے یہ 275 ایکڑ سرکاری اراضی کا معاملہ ہے جیسے ایک نجی کمپنی کو لیز پر دینے کی کارروائی میں بے قاعدگیاں اور غیر قانونی اقدامات کی نشاندہی پر شکایت نہیں تک پہنچی اور اس پر چیئرمین نیب بھی لب کشاہی کر چکے ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ پرویز خٹک اور سینیٹر محسن عزیز اور اعظم خان اس معاملے میں نیب میں پیش ہو چکے ہیں ۔
وزیراعلیٰ کے پی کے کی صدارت میں ایک اجلاس 27 فروری 2014 کو منعقد ہوا جس میں تیس سال کے ٹھیکے اس بھائ اور ہوٹل بنانے کی اجازت دے دی گئی اور تین مارچ کو اشتہار چھپائے گئے چودہ مئی کو ایک کمیٹی بنائی گئی جسے لیزنگ کمیٹی کا نام دیا گیا جس میں مختلف محکموں کے اراکین کو شامل کیا گیا پری کوالیفیکیشن کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک سب کمیٹی بنائی گئی تین فرموں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ۔سب کمیٹی نے 26 مئی کو فائنل رپورٹ میں ان تین کمپنیوں کو پریزنٹیشن دینے کے لیے کہا اور سات جولائی کی تاریخ مقرر کی ایڈیشنل سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی نے سب سے بڑی بولی دینے والی ایک فرم کو ایک کروڑ بیس لاکھ سالانہ میں آفر دینے کی منظوری دی ہر سال دس فیصد کے اضافے کے ساتھ منصوبے کی تکمیل کے وقت کے تعین سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی اس سارے معاملے کے بعد اعظم خان نے سیکرٹری ٹورزم کا جو آج بھی 14 جولائی 2014 کو خود سنبھال لیا 12 اگست 2014 کو ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہے ایم ڈی ٹوریزم کے پی کے کو آف لیٹر دینے کی ہدایت کی پھر چیف سیکٹری کو سارے عمل سے آگاہ کیا گیا محکمہ قانون نے فائل پر اپنا موقف دیا کہ سمجھوتہ قانون کے مطابق ہے لیکن ویزے کی معیاد 33 سال رکھی گئی ہے جو پالیسی کے مطابق نہیں ہے 15 سال ہونی چاہیے جس پر اعظم خان نے لکھا کہ لیز کی معیاد 33سال اشتہارات میں ظاہر کی گئی ہے اعظم خان کا موقف تھا کہ بولی کے عمل کو واپس نہیں کیا جا سکتا اگر ایسا کیا گیا تو نجی شعبے کا اعتماد خصوصاً عسکریت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں تتربتر ہو جائے گا اعظم خان کے نوٹ پر بورڈ آف ریونیو کے سینئر ممبر جو لیزنگ پروسیس کے نگران بھی ہیں انہوں نے وزیر اعلی ٰسے استثنیٰ لینے کی تجویز پیش کی اس وقت ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے تحریر کیا کہ معاملہ حوالہ شرائط کے وقت ہوگیا تھا اور وزیراعلی ٰنے 33 سالہ لیز کا فیصلہ کیا تھا لیکن چیف سیکرٹری نے فائل دوبارہ منظوری کے لیے وزیراعلیٰ کو بھیج دی۔وزیر اعلیٰ نے منظوری دیتے ہوئے 4 ستمبر 2014 کو مینیجنگ ڈائریکٹر ٹورزم کارپوریشن کے پی کے کو لیز معاہدہ کرنے کی اجازت دے دی اس معاملے میں تمام قانونی کارروائی کو نظرانداز کیا گیا بلکہ ایک افسر کا یہ کہنا تھا کہ جنگل کی زمین پر پلیز دینا ویسے ہی غیرقانونی کام ہے ۔

مالم جبہ ریزلٹ پروجیکٹ نااہل سیمسن گروپ آف کمپنیز کو دینے میں پروکیورمنٹ روز کی سنگین خلاف ورزی کی گئی اور 217 کل جنگلات کی محفوظ رازی کو لیز میں شامل کرنے کے کے پی کے فارسٹ آرڈیننس 2002 کی بھی خلاف ورزی کی گئی ۔اور تیس سالہ لیس بھی تمام تر قوائد اور ضوابط اور قوانین کے خلاف تھی یہ کام صرف مذکورہ کمپنی کو فائدہ پہنچانے اور قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کے لیے کیا گیا اور کوڑیوں کے مول لیے زمین دے دی گئی نیب سے بادشاہت کے مطابق پروجیکٹ اپنی شروعات سے ہی بددیانتی پر مبنی ہے لیکن پھر ہوا کیا ؟
دسمبر 2018 میں وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان پشاور میں سابق وزیر سیاحت کی حیثیت سے نیب کے دفتر میں پیش ہوئے جہاں نیب نے ان سے پوچھ گچھ کی اور وزیراعلیٰ نے باہر آکر میڈیا کے سامنے دعویٰ کیا کہ نیب نے مجھے مالم جبہ کیس میں کلین چٹ مل گئی ہے وہ اداروں کا احترام کرتے ہیں اور بطور سابق وزیر سیاحت یہاں پیش ہوئے تھے انہیں نیب کی جانب سے کوئی سوال نہیں دیا گیا جبکہ یہ ان کی آخری آمد ہے انہیں مالم جبہ لیز دستاویزات کا کوئی علم نہیں تھا اور کاغذات پر دستخط بھی نہیں ہیں ۔
اس بارے میں خود نیب نے کہا کہ محمود خان کو کلین چٹ نہیں دی۔ترجمان نیب کے مطابق وزیراعلیٰ کا کمبینیشن ٹیم کے سامنے دیا گیا بیان غیر تسلی بخش ہے جس کے بعد انہیں دوبارہ کسی بھی وقت بلایا جا سکتا ہے ۔
جب صوبائی وزیر عاطف خان کو طلب کیا گیا تو پیشی کے بعد انھوں نے یہ کہا یہ معاملہ دو محکموں کے درمیان جھگڑے کا معاملہ ہے پہلے یہ طے ہونا ہے کہ زمین ہے کس کی ۔مجھ سے پوچھا گیا کہ پلیز حاصل کرنے والی کمپنی کیا میرے رشتے داروں کی ہے میں نے بتایا کہ کونٹریکٹ 2014 میں ملا تھا اور میں 2016 کی میٹنگ میں بیٹھا تھا میں کسی کو کاروبار سے نہیں روک سکتا ۔
چیئرمین نیب جاوید اقبال نے عالمی یوم انسداد بدعنوانی کے موقع پر کہا کہ روزانہ کہا جاتا ہے کہ نائب بھی الٹی کیس میں ایکشن نہیں لیتا بتانا چاہتا ہوں کہ بی آر ٹی اور مالم جبہ میں ریفرنس تیار ہے لیکن عدالتی حکم کی وجہ سے بی آر ٹی اور مالم جبہ کیس پر ایکشن نہیں لیا جاسکتا لیکن حکم امتناع ختم ہوتے ہی ایکشن لیا جائے گا ۔

پھر خبریں آئی کے مالم جبہ کیس پر کوئی اسٹے آرڈر نہیں ہے ۔
دسمبر 2019 کون ہو آرڈینینس میں ترمیم کر دی گئی ۔جنوری 2020 میں نیب کی طرف سے خبر آئی کہ نئے قانون کے مطابق نیب مالم جبہ کیس کی تفتیش جاری رکھے گا اس حوالے سے نئے بیٹ کوارٹرز میں ایک میٹنگ ہوئی جہاں تہہ پایا کہ ترمیم سے پہلے کی انکوائری پر تفتیش جاری رہے گی ۔
اعظم خان اور محمود خان کے اوپر نیب کے تین ایشوز کھلے ہوئے ہیں کیا آن کو پہلے نئے کے پاس نہیں جانا چاہیے ۔کیا انہیں اپنے عہدے نہیں چھوڑ دینا چاہیے عہدے پر رہ کر تفتیش کو متاثر نہیں کر سکتے ۔اب تک اس بارے میں کیوں نہیں سوچا گیا کیا ہم تفریق کرتے رہیں گے فواد حسن فواد اندر اور اعظم خان کرسی پر بیٹھے رہیں گے کیا کوئی اور سابق وزیر اعلی اندر اور موجودہ وزیر اعلی کرسی پر ہوگا اور وہ کہے گا کہ میں کسی تفتیش میں نہیں آؤں گا ۔
مبشر لقمان نے پروگرام کے آخر میں یہ سوال عوام پر چھوڑ دیا کہ وہ اس کا جواب تلاش کریں۔