سندھ فوڈ اتھارٹی موجودہ ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں ربراسٹیمپ بن گئی، تین افسران کا ٹولہ فنڈز پر حاوی

سندھ فوڈ اتھارٹی موجودہ وزیر خوراک کی نرمی اور شرافت کی وجہ سے مطلوبہ نتائج فراہم کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے جبکہ موجودہ ڈائریکٹر جنرل کی اپنے کام میں عدم دلچسپی پاکستان سے زیادہ کینیڈا میں اپنی مصروفیات اور مستقبل کی فکر سندھ فوڈ اتھارٹی کو صحیح معنوں میں تباہ کر رہی ہے اتھارٹی کے سارے معاملات کو تین افسران کا ایک ٹرائیکا چلا رہا ہے جنہوں نے کروڑوں روپے کے فنڈز اور گرانٹ پر قبضہ جما رکھا ہے اور دونوں ہاتھوں سے اس ادارے کے فنڈز کو بے دریغ استعمال کر رہے ہیں اور اپنی جیبیں گرم کر رہے ہیں جبکہ محکمہ کا نچلا عملہ ملاوٹ اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت کرنے والے عناصر سے منتھلیاں لینے میں مصروف ہے اور اسے عوام کی صحت کی کوئی پروا نہیں ۔
سندھ فوڈ اتھارٹی میں دیانتدار ذہین قابل اور ایماندار نوجوان افسران موجودہ صورتحال سے سخت دلبرداشتہ ہیں مایوس ہیں اور بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں ان کے پاس نہ تو اختیارات ہیں نہ وزیر انکی بات سن کر کوئی ایکشن لے رہے ہیں نہ ڈائریکٹر جنرل کوئی جرات مندانہ اقدام اٹھانے کی پوزیشن میں نظر آتے ہیں چین فوڈ اتھارٹی عملی طور پر غیر فعال کر دی گئی ہیں اور مارکیٹ میں بڑے بڑے مگرمچھوں کو ناقص مال سے تیار کردہ غیر تسلی بخش کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے اور ملاوٹ شدہ مال کی سپلائی اور فروخت کرنے والے عناصر کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے سندھ فوڈ اتھارٹی چند عناصر سے ملی بھگت کے ساتھ معاملات کو چلارہی ہے اور خانہ پوری کیلئے کاغذی کارروائی کے طور پر مہینے میں چند معمولی جرمانے اور کارروائیاں دکھا کر فائلوں کا پیٹ بھرا جارہا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور چیف سیکرٹری سندھ ممتاز شاہ کو اس صورتحال کا نوٹس لینے کا وقت نہیں مل رہا کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے تو وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری اب مصروف ہیں لیکن اس سے پہلے بھی ان کے پاس سندھ فوڈ اتھارٹی کے معاملات کو سیدھا کرنے کا وقت نہیں تھا سندھ فوڈ اتھارٹی کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر کی شرافت اور نرمی کا ناجائز فائدہ بھی اٹھایا جارہا ہے اور سندھ کے عوام کو نقصان بھی پہنچا رہا ہے کیونکہ ایسا نرم دل اور شریف وزیر کس کام کا جو عوام کی صحت سے کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف ایکشن نہ لے فیلڈ میں نہ نکلے اور ان کو للکاریں بھی نہیں ۔جیسا وزیر ہے ویسا ہی ڈھیلا ڈھالا ڈائریکٹرجنرل ہے ایسا لگتا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل کے منہ میں زباں نہیں ہے وہ گونگا بہرا بن کر محکمہ چلا رہا ہے آنکھیں بھی بند کر لیتا ہے ۔اچھے سیاسی پس منظر کا حامل ہے اس لیے لوگ اس کی طرف انگلی نہیں اٹھاتے وزیر اور ڈائریکٹر جنرل کا اچھا خاندانی پس منظر ہونا سندھ فوڈ اتھارٹی کی قسمت کے ساتھ کھیل رہا ہے اور عوام کے نقصان کا باعث بنا ہوا ہے ۔محکمے میں اکثر اہم عہدے خالی ہیں یا ان پر کسی ایسے افسر کو تعینات نہیں ہونے دیا جاتا جو یہاں آکر کوئی تبدیلی لائے ۔کچھ عرصہ پہلے ایک سرگرم افسر نے کچھ سرگرمی دکھائی تھی تو بااثر طبقہ اس کے خلاف ہوگیا اور اس کا یہاں سے تبادلہ کروا دیا اس کے جانے کے بعد یہ محکمہ بالکل بانجھ ہوگیا ہے ۔باقی افسروں اور اہلکاروں کو بھی یہ پیغام مل گیا ہے کہ یہاں اپنی آنکھیں کان اور زبان بند رکھو ۔

 

سندھ فوڈ اتھارٹی میں کرپشن کی نئی کہانیاں لکھی جا رہی ہیں اگر یہاں تعینات رہنے والے افسران کے معاملات کھنگالے جائیں اور انہیں بھی کسی جے آئی ٹی کے سامنے بٹھا دیا جائے تو باآسانی پتہ لگ جائے گا کہ صوبے میں یہاں کے افسران کیا گل کھلا رہے ہیں ۔
جیوے پاکستان ڈاٹ کام کو سندھ فوڈ اتھارٹی کے ذمہ دار ذرائع نے یہاں ہونے والی کرپشن اور صوبے میں جاری لوٹ مار کی تفصیلات اور چونکا دینے والی معلومات فراہم کی ہیں جسے دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ آئندہ  منظر عام پر لایا جائے گا ۔یہ انتہائی سنسنی خیز انکشافات ہوں گے جن سے یہ بھی پتہ چلے گا کہ ماضی میں یہاں کون کون دھمکیاں دیتا رہا کس کس کے ذریعے دباؤ ڈالا گیا اور اب کون کونسے افسران کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاھی میں ہیں ۔