کراچی فش ہاربر پرحکومت سندھ کی جانب سے لاک ڈاوَن کی شدید خلاف ورزی ۔ رات کو مچھلیوں کی غیر قانونی نیلامی جاری ہےکرونا پھیلا تو اس کے ذمہ دار چیئرمین عبدالبراور ایم ڈی فش ہاربر اتھارٹی حاجی احمد ہوں گے

کراچی فش ہاربر پر شکار پر پابندی کے باوجود مچھلی جھنگوں کی نیلامی جاری ہے اور اس مقصد کے لیئے دن کے بجائے رات کو مال نیلام کیا جا رہا ہے جس کا پیسہ فشر مینز کوآپریٹیو سوسائٹی کے چیئرمین عبدالبر ان کے حواریوں اور ایم ڈی فش ہاربر اتھارٹی حاجی احمد میں بٹ رہا ہے۔وہاں خطرناک صورتحال یہ پیدا ہو گئی ہے کہ حکومت سندھ کے لاک ڈاوَن کے اعلان کے باوجود کراچی فش ہاربر پر سی فوڈ کی نیلامی جاری ہے،جس سے ماہی گیروں میں کروناوائرس کے پھیلنے کے شدید خطرات بڑھ گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس کے خطرہ کے پیش نظر حکومت سندھ نے پورے صوبے میں لاک ڈاوَن کا اعلان کیا ہے لیکن کراچی فش ہاربر پر کمیشن اور مال بنانے کی لالچ میں مال کی نیلامی دن کے بجائے رات کے اوقات میں کی جا رہی ہے تاکہ رات کے اندھیرے میں قانون نافذ کرنے والے حکام کے نظروں سے اوجھل ہو کر اپنے غیر قانونی دھندوں کو جاری رکھ سکیں ۔
اس سلسلے میں فشر مینز کوآپریٹیو سوسائٹی کے چیئرمین عبدالبر جن کی عہدے کی معیاد پوری ہو چکی ہے اور اب وہ غیر قانونی طور پر عہدے پر براجمان ہیں نے سوسائٹی کو بند کرنے کے تحریری احکامات دیئے ہیں لیکن سوسائٹی کے مارکیٹ کے ملازمین کو کام جاری رکھنے کے زبانی احکامات جاری کیئے ہیں۔جس کی وجہ سے سرکاری طور پر آنے والا کمیشن چیئرمین اور ان کے حواریوں اور ایم ڈی فش ہاربر اتھارٹی کی جیبوں میں جا رہا ہے اور سرکاری طور پر ایک پیسہ بھی جمع نہیں ہو رہا۔کرونا کے سلسلے میں لاک ڈاون پر عملدرآمد کی مکمل ذمہ داری کراچی فشریز ہاربر اتھارٹی کی ہے جس میں وہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔اب تو یہ صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ سوسائٹی کے غیر قانونی چیئرمین عبدالبر اکثر خود رات کی مارکیٹ میں آ جاتے ہیں اور اپنی نگرانی میں نیلام ہونے والے مال کا سرکاری کمیشن نہیں کاٹنے دیتے بلکہ پورا کمیشن وہ اور ان کے حواری اپنی جیبوں میں ڈال کر چلے جاتے ہیں۔جو حکومت سندھ کے لیئے انتہائی شرمناک صورتحال ہے کہ کرونا کی آڑ میں فش ہاربر میں کرپشن انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ایک طرف جب مسجدوں کو کرونا کے خوف سے بند کر دیا گیا ہے وہاں فش ہاربر غیر قانونی دھندے جاری ہیں۔حکومت سندھ کے احکامات پر عمل درآمد کرانے کی ذمہ داری کراچی فشریز اتھارٹی کی ہے اس سلسلے میں اتھارٹی کے ایم ڈی حاجی احمد کہتے ہیں کہ جو لانچیں رہ گئی تھیں انہیں تین دن کا وقت دیا گیا ہے لیکن اب اس بات کو دس دن سے بھی زیادہ وقت گذر چکا ہے لیکن غیر قانونی دھندے برابر جاری ہیں جس سے کسی بھی وقت فش ہاربر پر کرونا پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری ایم ڈی اتھارٹی حاجی احمد اور سوسائٹی کے غیر قانونی چیئرمین عبدالبر پر عائد ہو گی۔ فشر مینز کوآپریٹیو سوسائٹی کے سابق ڈائریکٹر اور اسٹوفا(سندھ ٹرالر اونر ایسوسی ایشن)کے سابق صدر حاجی خان میر نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ سوسائٹی کے غیر قانونی چیئرمین عبدالبر(اپنی مدت پوری کر چکے ہیں اور سرکار میں مدت پوری ہونے کے بعد ایک دن بھی کام نہیں کر سکتے)کو فوری طور پر برطرف کر کے انہیں گرفتار کیا جائے ورنہ کرپشن کی ایسی گند پھیلے گی کہ لوگ نثار مورائی کی پھیلائی ہوئی گند اور کرپشن کو بھول جائیں گے۔اگر حکومت سندھ نے کوئی ایکشن نہیں لیا تو ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہوں گے کہ عبدالبر کی کرپشن میں حکومت سندھ کی آشیرباد شامل ہیں۔وزیر اعلی مراد علی شاہ خود بھی فش ہاربر کے پروجیکٹ ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔اس لیئے انہیں یہاں کے حالات کا مکمل ادراک ہے۔اگر اس کے باوجود وہ خاموش رہیں گے تو ان کا یہ فعل انتہائی شرمناک ہو گا اس سے ہم یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ وہ خود بھی اس کرپشن کے مال میں برابر کے شریک ہیں یا سندھ میں ان کے بڑے اس کام میں شریک ہیں۔

ایم ڈی کو قانونی طور پر مجسٹریٹ پاور حاصل ہیں اور وہ ہاربر پر دفعہ 144 لگا سکتا ہے بلکہ لگا چکا ہے۔مارکیٹ پر تالہ لگاسکتا ہے اور پولیس اور رینجرز طلب کر سکتا ہے۔لیکن رات کو مارکیٹ کا لگنا اور غیر قانونی دھندوں کا ذمہ دار دونوں ہیں

karachi fishries thousand of peoples alert coronavirus