لاک ڈاؤن میں مسائل سے نکلنے کے لیے بینکنگ سیکٹر کو حل بننا چاہیے لیکن وہ مسئلے کی وجہ بنے ہوئے ہیں

کرونا وائرس کے نتیجے میں ہونے والے لاک ڈاؤن نے بزنس انڈسٹری کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے حکومت چاہتی ہے کہ لوگوں کو ملازمت سے فارغ نہ کیا جائے اور بزنس مالکان ان کو بغیر کام کے بھی پوری تنخواہ ادا کریں اس سلسلے میں حکومت نے بزنس مالکان کو بینکوں سے قرضہ فراہم کرنے کی پالیسی کا اعلان کیا ۔
پالیسی پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ قرضہ مسلے کا حل نہیں ہے اگر حکومت لوگوں کی مدد کرنا چاہتی ہے تو وہ براہ راست تنخواہ میں سبسڈی کا اعلان کرے اگلے تین مہینے کی تنخواہ حکومت اپنے ذمہ لے یا کم ازکم اگلے چھ مہینے کا پچاس فیصد حکومت ادا کرے ۔کوئی بزنس مالک یہ نہیں چاہتا کہ اپنے اوپر واجبات بڑھائے اس لیے بینکوں سے قرضہ کیوں لے اسٹیٹ بینک کی شرح سود ویسے بھی زیادہ ہے اور قرضہ دینے کے لیے شرائط بھی بہت ہوتی ہیں بینک فائنینس رسک نہیں لیں گے اور صرف بڑے بڑے ادارے فائدہ اٹھا سکیں گے سمال اور میڈیم بزنس اس طرح کی اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے ۔
جب تک حکومت بینکوں کو ہدایت جاری نہیں کرے گی کہ وہ بغیر کسی تفریق کے کام کرنے والوں کو قرض فراہم کرے ایسا ممکن نہیں ہوگا یہ نہ تو امریکہ ہے نہ ہی یورپ یہاں بنکوک سے غرض حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ پاکستان جیسے ملکوں میں یہ بینک مسئلے کی وجہ ہے مسئلہ کا حل نہیں بنے ۔
قرضہ دینے سے ویسے بھی تین مہینے کے لئے رقم بلاک ہو جائے گی بڑے پیمانے پر یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکے گا بلکہ بڑھ جائے گا کیونکہ پاکستان ایسا ملک نہیں جس کی معیشت کا سارا دارومدار بینکنگ سیکٹر پر ہوں ہمارے یہاں حالات اور زمینی حقائق مختلف ہیں

Dr Reza Baqir governor state bank apeal of Dewan Muhammad Yousuf Farooqui