سماجی فاصلہ برقرار رکھیں، دکھی پاکستانی برٹش ماں کی بیٹے کی موت کے بعد اپیل

سینٹ جارج ہسپتال ساؤتھ لندن میں زیرعلاج 33سالہ اوبر ڈرائیور ایوب اختر کی کورونا سے ہلاکت کے بعد اس کی آزاد کشمیر کے علاقے ڈڈیال میں چکسواری سے تعلق رکھنے والی دکھی پاکستانی برٹش ماں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سماجی فاصلہ برقرار رکھیں اور دوسروں کی زندگیاں بچانے کیلئے تنہائی اختیار کریں۔ اس نمائندے نے دو سال قبل ایوب اختر سے اس وقت ملاقات کی تھی جب وہ میئر لندن اور ٹرانسپورٹ آف لندن کی جانب سے عائد کئے گئے کنجیشن چارجز اور دوسری پابندیوں کے خلاف کرائے کی پرائیویٹ گاڑیوں کے ڈرائیورں کے ساتھ احتجاج میں شریک تھا۔ ایوب اختر انسان دوست جوان تھا اور دوسروں کے حقوق کا خیال کرتا تھا اور اس کیلئے کمپین چلاتا رہتا تھا۔ جنگ نے مرحوم کے بھائی اور والدہ سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ ایوب کی موت سے ہم ٹکڑوں میں بٹ گئے ہیں۔ مرحوم کے بھائی یاسر نے بتایا کہ ایوب نے بتایا تھا کہ مارچ کے پہلے ہفتے میں ایک خاتون مسافر کو بٹھانے کے بعد ایوب کو کھانسی اور سانس لینے میں تکلیف محسوس ہونے لگی، اسے خدشہ تھا کہ اسے مسافر سے، جو سفر کے دوران کھانس رہی تھی، وائرس لگ گیا۔
لندن (مرتضیٰ علی شاہ)jang