ڈرائیوروں اور چپڑاسیوں کے نام پر اربوں کی چینی بے نامی فروخت، 50 نام اسٹیٹ بینک کو ارسال

بے نامی اکاؤنٹس‘بے نامی جائیدادوں اور بے نامی اثاثوں کے بعد اب ʼبے نامی چینی کاروبار کا بھی انکشاف ہوا ہےجس میں ڈرائیورز‘چپڑاسیوں ‘ سکیورٹی گارڈزاوردیگر ملازمین کےنام پراربوں روپے کی چینی فروخت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق چینی بحران کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور مزید 50 افراد کو اس میں شامل تفتیش کرلیا گیا ہے‘ اب کمیشن نے مزید 50 افراد کے اکاونٹس کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اسٹیٹ بینک کو ان افراد کی فہرست بھی دی گئی ہے اور پوچھا گیا ہے کہ ان کے اکاؤنٹس کن کن بینکوں میں ہیں؟وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے قائم تحقیقاتی کمیشن پہلے 192 افراد کے خلاف تحقیقات کر رہا تھا جو بے نامی طریقے سے چینی کا کاروبار کر رہے تھے، ان میں ڈرائیور اور نائب قاصد بھی شامل تھے۔
بحران کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے اس سے قبل 192 لوگوں کے شناختی کارڈز کا ڈیٹا اسٹیٹ بینک بھجوایا تھا جس میں تحقیقات ہوں گی کہ کس کس بینک میں بے نامی اکاؤنٹس ہیں، یہ تحقیقات کی جائیں گی کہ پیسہ کہاں سےآیا اور اکاؤنٹس کے پیچھےکون ہیں۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ چینی بے نامی اکاؤنٹ کے ذریعہ بھی خریدی گئی اور 192 ایسے لوگ ہیں جو ٹرک ڈرائیور، نائب قاصد اور سکیورٹی گارڈز ہیں جن کے نام پر چینی کا کاروبار ہورہا ہے۔
jang-report