سندھ کے چیف سیکرٹری اور دیگر دو سیکرٹریوں کو شوکاز نوٹس جاری 22 اپریل تک تحریری وضاحت طلب

سندھ ہائی کورٹ نے اسکول ٹیچر کی سندھ اسمبلی میں ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کالعدم قرار دیتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ ، سیکریٹری قانون سندھ، سیکریٹری سندھ اسمبلی اور اسپیشل سیکریٹری اسمبلی کو حکم عدولی کرنے پر شوکاز نوٹس کاری کردیا ہے۔قبل ازیں درخواست گزارارشاد حسین نے موقف اختیار کیا کہ غلام علی پرائمری اسکول ٹیچر (BPS-9)کی حیثیت سے محکمہ تعلیم میں فرائض سرانجام دے رہا تھا جسے مارچ 2011 میں سلیکشن کمیٹی کی سفارش پر محکمہ تعلیم سے سندھ اسمبلی ڈییوٹیشن پر بھیج دیا گیااور اسمبلی میں غلام علی کو BPS-11میں سینئر ترجمان کی حیثیت سے تعینات کیا بعد ازاں جنوری 2016 میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر سیکریٹری سندھ اسمبلی نے غلام علی سمیت دیگر 6 ملازمین کو واپس ان کے اصل محکموں میں بھیج دیا لیکن اس ظاہری کارروائی کےبعد غلام علی نے سندھ اسمبلی سے اپیل کردی جسے اکتوبر 2018میں سیکریٹری اسمبلی نے منظور کرتے ہوئے ایک بار پھر غلام علی کو 3 سال کے واجبات بمعہ مراعات کے ساتھ ڈیپوٹیشن پر بحال کردیاجو غیر آئینی و غیر قانونی ہے بلکہ سپریم کورٹ کے حکم کی کھلی خلاف ورزی ہے۔لہذا عدالت عالیہ قانون کے عین مطابق کارروائی عمل میں لائے۔

جسٹس ندیم اختر اور جسٹس عدنان الکریم میمن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ڈیپوٹیشن پر اسکول ٹیچر کی تعیناتی اور اگلے گریڈ میں ترقی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اسکول ٹیچر غلام علی کو فی الفور واپس محکمہ تعلیم میں بھیجا جائے ۔جسٹس ندیم اختر نے حکم نامہ میں تحریر کیا ہے کہ بادی النظر میں چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری قانون سندھ، سیکریٹری سندھ اسمبلی اور اسپیشل سیکریٹری اسمبلی نے سپریم کورٹ کے فیصلے 2011 اور 2015 کی خلاف ورزی اور توہین کی ہے اس لیئے عدالت عالیہ ان کو شوکاز نوٹس جاری کرتی ہےکہ یہ سب 22 اپریل تک تحریری طور پر وضاحت دیں اور سیکریٹری سندھ اسمبلی و اسپیشل سیکریٹری سندھ اسمبلی کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔