امتیاز سپر اسٹور پر غیر معیاری اشیاء کی فروخت پر سندھ فوڈ اتھارٹی کی خاموشی حیران کن ہے؟

 کراچی میں امتیاز جنرل اسٹور میں مسلسل غیر معیاری اشیاء کی فروخت جاری ہے لیکن سندھ حکومت خاموش ہے۔اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ ذمہ داری سندھ فوڈ اتھارٹی کی ہے جو کچھ عرصے قبل پنجاب حکومت کی نقل میں بنائی گئی لیکن وہاں فوڈ اتھارٹی عوام کی خدمت کر رہی ہے۔گدھے،کتے اور بیمار مرغیوں کی فروخت کرنے والوں کو نا صرف گرفتار کیا گیا بلکہ ان پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا گیا جبکہ سندھ میں اس کے بالکل برعکس ہو رہا ہے۔یہ ادارہ مال کمانے کا بہت بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔جہاں انہیں پیسے نہیں ملتے وہاں چھاپہ مارتے ہیں اور ریٹ بڑھاتے ہیں۔کیا کراچی میں گدھے کا۔کتے کا مردہ گائے بھینس کا گوشت نہیں بک رہا پھر اب تک کوئی کاروائی کیوں نہیں ہوئی۔مردہ جانوروں کو جگہ جگہ پکا کر اس سے غیر معیاری گھی بنایا جا رہا ہے لیکن سندھ فوڈ اتھارٹی کے انسپکٹروں کو ایسے گھی بنانے والے اور انہیں فروخت کرنے والے نظر ہی نہیں آرہے، کیونکہ انہیں ان کا حصہ پوری ایمانداری سے مل رہا ہے۔

اسی لئے ذرائع بتا رہے ہیں کہ اب یہ اتھارٹی مال بنانے کا بہت بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت پنجاب میں چینی اور آٹا میں ہونے والوں گھپلوں کی تحقیقات کر رہی ہے لیکن اگر وہ سندھ میں تحقیقات کرے تو یہاں صرف ایک ہی شخص 70 فیصد سے زیادہ کرپشن میں ملوث پایا جائے گا۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہاں تو 90 فیصد شوگر ملیں فرنٹ مین اومنی گروپ کی ہیں ۔ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ اگر سندھ میں بھی جے آئی ٹی بنا کر انکوائری کرائی جائے تو ایسے ایسے انکشافات ہوں گے کہ پورے ملک میں کرپشن کے تمام ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے۔