دیوان یوسف کی گورنر اسٹیٹ بنک سے اپیل، حکومت کے کہنے پر بند کارخانوں کے ملازمین کو تنخواہ دینے کیلئے جو قرضہ لیا جائے وہ بلاسود ہونا چاہیے

پاکستان کے ممتاز بزنس مین اور سابق صوبائی وزیر دیوان محمد یوسف فاروقی نے گورنر اسٹیٹ بنک  ڈاکٹر رضا باقرسے اپیل کی ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کے دوران حکومت کے کہنے پر بند فیکٹریوں اور کارخانوں کے ملازمین کو بغیر کام کئے تنخواہ دینے کی خاطر جو ادارے اور بزنس مین حکومت سے تعاون کے لیے قرضہ لینے جا رہے ہیں ان کے قرضے انٹرسٹ فری ہونے چاہیے اور یہ قرضہ تین سال کی بجائے پانچ سال کی مدت کے لئے ہونے چاہئیں تاکہ بعد میں ان کو آسانی سے واپس کیا جا سکے انہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ جو لوگ اس وقت حکومت کے کہنے پر قرضہ لے کر اپنے ملازمین کو بغیر کام کئے بحرانی حالات میں تنخواہ ادا کرنے کے لیے خود مشکلات برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں انہیں حکومت کی جانب سے سہولت ملنی چاہیے اور جو قرضے ان کو فراہم کیے جائیں وہ چار فیصد انٹرسٹ پر نہیں بلکہ ایک فیصد بھی چارج نہیں کرنا چاہیے زیرو فیصد انٹرسٹ فری قرض ملنے چاہئیں کیونکہ کوئی بھی شخص شوق سے قرضہ نہیں لے رہا بحرانی صورتحال میں حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اپنے اوپر قرضوں کا بوجھ لادنے کا فیصلہ کر رہا ہے تو حکومت کو بھی اس کا احساس کرنا چاہیے حکومت کو جانتی ہے کہ گورنمنٹ نے کاروبار بند کرایا ہے تاکہ لوگوں کی صحت محفوظ رہے اور کرونا وائرس نہ پھیلے ۔

جب فیکٹریاں اور کارخانے بند ہوں گے تو ظاہر ہے کوئی ریونیو نہیں ہوگا تو کہاں سے کوئی سیلری ادا کرسکتا ہے اس کے باوجود حکومت کہتی ہے کہ کسی کو ملازمت سے نکالا نہ جائے اور تنخواہ بھی دی جائے تو حکومت کا کہنا سرآنکھوں پر اور جو قرضہ دینے کی سہولت دی جا رہی ہے اسے بھی انٹرسٹ فری بنانا چاہیے میری تجویز ہے کہ تین سال کے لیے نہیں پانچ سال کے لیے قرضے دیے جائیں اور انٹرسٹ فری ہو جو حکومت کہہ رہی ہے کہ 20 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک کا قرضہ لے لیا جائے تاکہ سیلری ادا کرتے رہیں تو اس سہولت سے صحیح معنوں میں اسی وقت فائدہ اٹھایا جاسکے گا جب اسے انٹرسٹ فری بنایا جائے پہلے ہی پچھلے ڈیڑھ سال سے حکومت نے انٹرسٹ پاکستان میں بہت زیادہ رکھا ہوا ہے دنیا کے مقابلے میں انٹرسٹ ریٹ پاکستان میں بہت زیادہ ہے اب اگلے ڈیڑھ سال میں اس کو کم کرکے ایڈجسٹ کر لیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ حکومت کے پاس ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کی مد میں اربوں روپے پڑے ہوئے ہیں اور وہ پیسے اس وقت انڈسٹری کی ضرورت ہے حکومت چاہے تو باآسانی انفرینڈ کر انڈسٹری کی جانب موڑ سکتی ہے جس انڈسٹری نے پچھلے سالوں میں جتنا کنٹری بیوشن دیا ہے اس کا تمام ڈیٹا بھی حکومت کے پاس ہے حکومت اپنا ریکارڈ دیکھے ڈیٹا دیکھیں اور انڈسٹری کو اس وقت ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانے کے لیے یہ فنڈز فراہم کرے یہ مسئلہ بآسانی حل ہو سکتا ہے