نہ چودھری نثار نے پلٹ کر ان سے پوچھا

پہلی بار تو یہ معاملہ ایف آئی اے کے پاس ہی گیا تھا۔ تین سال تک وہاں پڑا رہا، چودھری نثار اپنی قیادت کے کہنے پر سیاسی مصلحت کا شکار ہو گئے ، ڈی جی ایف آئی نے ہاتھ کھڑے کر دیے ، سپریم کورٹ میںصاف صاف کہہ دیا کہ یہ تحقیقات ہماری استطاعت سے بڑھ کر ہیں ، ہم نہیں کر سکیں گے۔ یوں بال جے آئی ٹی اور نیب کے کورٹ میں چلی گئی ۔ لیکن آج ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیاء ہیں۔طاقتور اور باصلاحیت واجد ضیائ۔ نڈر اور اعتماد سے بھرے ہوئے۔ آج اگرآصف علی زرداری اور ان کے دوستوں کے جعلی اکائونٹس کی تحقیقات کا معاملہ ایف آئی اے کے پاس چلا گیا تو کیا ہو گا؟ یہ 2015ء کی بات ہے جب سٹیٹ بینک کے فائنانشل مانیٹرنگ یونٹ (FMU)نے مشکوک ٹرانزیکشنز کی نشاندہی کر کے ایف آئی کو خط لکھا اور کہا کہ معاملے کی تحقیقات کی جائیں۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے ابتدائی طور پر کچھ کام تو کیا لیکن پھر اپنی قیادت کی ایما پر سیاسی مصلحت کا شکار ہو گئے اور تحقیقات روک دی گئیں۔ اس کے بعد ایف آئی اے نے اس پر کچھ کام کیا نہ چودھری نثار نے پلٹ کر ان سے پوچھا۔ تین سال خاموشی اور رازداری سے گزر گئے ۔ 2018ء میں 92 نیوز کے پروگرام مقابل میں ایک روز ذکر ہوا کہ تین سال سے ایف آئی اے کے پاس سٹیٹ بینک کے ایف ایم یو کی جانب سے بھیجا گیا نہایت ہی اہم کیس فائلوں میں گم ہو کر رہ گیا ہے اور ایف آئی اے نے چپ سادھ رکھی ہے ،اس کا تعلق کرپشن اور منی لانڈرنگ سے ہے۔ اگلے روز اُس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے عدالت میں کہا رات انہیں ایک پروگرام کے ذریعے پتہ چلا ہے کہ ایف آئی اے نے تین سال سے ایک نہایت اہم معاملے کی تحقیقات کو دبا رکھا ہے لہذاوہ اس پر سو موٹو لے رہے ہیں،ڈی جی ایف آئی اے عدالت میں پیش ہو کر اس پر اپنا موقف دیں ۔ جب ڈی جی ایف آئی اے عدالت میں پیش ہوئے تو انہوں نے کہا کہ یہ بہت طاقتور لوگ ہیں اور ایف آئی کی استطاعت نہیں ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کر سکے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا پھر ہم اس پر ایک جے آئی ٹی بنا دیتے ہیں تا کہ وہ اس کی تحقیقات کرے۔ میں ان دنوں سپریم کورٹ کے اہم کیسز کی سماعت کے لیے باقاعدگی سے عدالت جایا کرتا تھا، مجھے یاد ہے کہ آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت کو قائل کرنے کی بار بار کوشش کیاکرتے اورکہتے کہ جناب یہ بینکنگ کورٹ اور ایف آئی اے کا معاملہ ہے اس کے لیے جے آئی ٹی بنانے کی ہرگز ضرورت نہیں۔وہ استدعا کرتے کہ جے آئی ٹی بنانے کی بجائے آپ یہ کیس ایف آئی اے کے پاس بھیج دیں۔ چیف جسٹس کا سوال ہوتا کہ اگر آپ کا اس سے تعلق نہیں تو گھبرانے کی بات نہیں بلکہ آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کہ آپ اس کیس سے بری ہو جائیں گے اور آپ کانام بھی صاف ہو جائے گا۔لیکن بہر حال آصف زرداری کے وکلا کا اصرار رہا کہ اسے ایف آئی اے کے پاس بھیج دیں۔ اس کے بعد جو ہوا وہ آپ سب کے علم میں ہے ۔ جے آئی ٹی بنی ،اس نے اپنی تحقیقات مکمل کیں اورعدالت کو سفارش کی کہ اس کیس سے جڑے مختلف لوگوں کے خلاف سولہ ریفرنس دائر کیے جائیں۔یہ بھی کہا گیا کہ جو کچھ سامنے لایا گیا ہے یہ ٹِپ آف دی آئس برگ ہے۔ اس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا اور نیب کو حکم دیا گیا کہ وہ یہ تمام ریفرنس دائر کرے۔ نیب ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود اب تک صرف چھ ریفرنس دائر کر سکی ہے اور وہ بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچے۔ اس کی وجوہا ت کیا ہیں اس پر نیب کے مسائل ، کارکردگی اور عدالتوں کے نظام پر الگ سے لکھا جا سکتا ہے ۔ یہ ساری کہانی سنانے کا مقصد یہ ہے کہ اب آصف علی زرداری کا چند سال پہلے کا موقف مان لینے میں ہرج نہیں۔ آصف زرداری کے وکلا اصرار کرتے رہے کہ جعلی اکائونٹس کیس کی تحقیقات ایف آئی کو کرنے دی جائیں۔ اب اگر نیب کو اپنے ریفرنسز دائر کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے یا دائر کیے گئے ریفرینسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کا مسئلہ درپیش ہے تو ایف آئی اے کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اب واجد ضیاء ایف آئی اے کے سربراہ ہیں جو پہلے پانامہ کیس اور پھر آٹے اور چینی کی تحقیقات میں اپنی اہلیت ، غیرجانبداری اور دبائو جھیلنے کی صلاحیت کا اظہار کر چکے ہیں۔ عمران خان چاہیں تو الگ سے بھی تحقیقات کا فریضہ ایف آئی اے کے سپرد کر کے جعلی اکائونٹس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے واجد ضیاء کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔ واجد ضیاء کی تحقیقات نیب کے لیے مددگار ہوں گی ۔ واجد ضیاء کے لیے یہ کام زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔ پانامہ کیس کی تحقیقات میں مشکل یہ تھی کہ تمام ریکارڈ ملک سے باہر تھا۔ بہت سی قانونی رکاوٹیں تھیں۔کئی ممالک کے ساتھ معاہدوں کا مسئلہ تھا۔ معاملہ تھا بھی بہت پرانا ، کئی ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ مگر اس کیس میں تو تمام ثبوت ، بینکنگ ٹرانزیکشنز ، گواہان، ملزمان اور بینک ملک کے اندر موجود ہیں۔سامنے آ چکا ہے کہ کئی بینک محض بنائے ہی اس لیے گئے کہ ان کے ذریعے منی لانڈرنگ کرنا تھی۔ لہذا دبائو جھیلنے کی صلاحیت رکھنے والے واجد ضیاء جیسا کوئی شخص اس کام کو نہایت آسانی اور خوبی سے سر انجام دے سکتا ہے۔ تو کیا آصف علی زرداری صاحب اور ان کے وکلاء اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ جعلی اکائونٹس کی تحقیقات ایف آئی اے سے کرائی جائیں یا واجد ضیاء کے آنے کے بعد وہ اپنے اس مطالبے سے دستبردار ہو چکے ہیں؟Asad-Ullah-Khan-daily92