یہاں کی گلیاں سنسان ہیں۔ میں ایک ماہ بعد باہر نکلی ہوں

پروفیسر کرار حسین عجیب شخصیت تھے۔ میں انہیں اپنے اساتذہ میں سے سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہیں اپنے بارے میں یہ بات لکھی ہے کہ میں اشتراکیت اور تصوف کا وہ نقطہ اتصال ہوں جو وجود نہیں رکھتا۔ اس وقت مجھے اس بات پر تبصرہ نہیں کرنا۔ بتانا صرف یہ ہے کہ جب دو خط ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں تو نہ خط کا وجود ہوتا ہے نہ نقطے کا۔ کوئی ریاضی دان تو ایسا دماغ رکھتا ہے کہ اس بات کو سمجھ سکے‘ وگرنہ ہم جیسے ’’نکتہ سنج‘‘ اس حقیقت کو جاننے میں لاچار رہتے ہیں۔ بالکل اس طرح جیسے ہم آج صورت حال کو سمجھنے میں لاچار ہیں۔ اس وقت ہم ایک کشمکش میں مبتلا ہیں۔ ایک بڑھیا نے کسی ٹی وی والے کے پوچھنے پر بے ساختہ کہا کہ ہم بیماری سے بچ جائیں گے تو بھوک سے مر جائیں گے۔ یہ اس لاک ڈائون کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال پر اس بے بس معصوم کا تبصرہ تھا جو اپنے اندر بہت بڑی حقیقت لئے ہوئے ہے۔ پوری دنیا اس تذبذب کا شکار ہے۔ اٹلی کی صورت حال پر ایک بہت بے لاگ تبصرہ ایک پاکستانی صحافی لڑکی نے کیا۔ اس کی وجہ سے مجھے کرار حسین یاد آئے کہ اس نوجوان خاتون کا سلسلہ نسب ان سے جا ملتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ یہاں کی گلیاں سنسان ہیں۔ میں ایک ماہ بعد باہر نکلی ہوں۔ یہاں کے ماہرین کہتے ہیں کہ شاید قدرے نارمل زندگی اکتوبر تک ممکن ہو اور سچی بات تو یہ ہے حالات معمول پر آنے میں مزید وقت لگے گا۔ ایسا اس وقت ممکن ہو گا جب کورونا کی ویکسین ایجاد ہو چکی ہو گی یورپی یونین کی تو معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ امریکہ کے سارے کس بل نکل گئے ہیں۔ وہ دھڑا دھڑ ڈالر پھینک رہا ہے اور جانتا ہے کہ اس وبا کا علاج آسان نہیں ہے۔ کبھی چین پر دھاڑتا ہے‘ پھر اس کی خوشامد پر اتر آتا ہے کبھی روس سے کہتا ہے کہ تیل کی پیداوار کم کرو وگرنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔ پھر سمجھانے لگتا ہے کہ ایسا نہ ہوا تو سارا اقتصادی نظام تلپٹ ہو جائے گا۔کبھی یورپ والوں کو کھری کھری سناتا ہے۔ پھر ان کے آگے بھی جھکنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ کبھی بھارت تک سے کہتا ہے کہ ملیریا کی دوا دے دو وگرنہ نتائج بھگنے کے لئے تیار رہو۔ہم دوراہے پر ہوتے تو سمت کا تعین کر لیتے اور جان لیتے ہم کہاں کھڑے ہیں مگر یہ تو دو خطوط کا نقطہ اتصال ہے‘ معیشت اور وبا کا!جہاں معیشت نظر آتی ہے نہ بیماری سمجھ آتی ہے۔ اس کا نقطہ اتصال کیا دکھائی دے گا۔ وہاں کا تو یہ معاملہ ہے اور ہمارا یہ حال ہے کہ ہم اس بات کو بھی نہیں سمجھ پا رہے کہ ہمیں لاک ڈائون کرنا ہے یا نہیں۔ ہمیں ڈر ہے معیشت تباہ ہو جائے گی۔ اور نہیں کرتے تو خوف ہے کہ یہ وبا پورے ملک میں قیامت برپا کر دے گی۔اپنے اس اندرونی تضاد کو سمجھ ہی نہیں پا رہے۔ وفاق اور صوبے اس حوالے سے علی الاعلان متضاد نکتہ ہائے نظر کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ بات طے ہے کہ اس کا اثر پوری دنیا کی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ ہماری کیا بساط ہے۔ ہم پر بھی پڑے گا۔ بلکہ پڑ رہا ہے۔ یہ علاج ڈھونڈنے کے بجائے کہ ہم غریب کے فوری دکھوں کا مداوا کیسے کریں‘ اس بات کو سمجھا رہے ہیں کہ اس سے کیسے سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ہم اسے اپنا کارنامہ بتا رہے ہیں کہ ہم نے نقد رقوم تقسیم کر دی ہیں۔ گویا ذاتی خزانے سے دی ہے ہم تعمیراتی کاموں کے لئے اور بعض صنعتوں اور زرعی شعبے میں چھوٹ دینے کو بھی تیار ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے خوب کہا کہ یہ حکومت چینی اور آٹے کے بحران سے تو نکلے‘ یہ کورونا کا مقابلہ کیسے کرے گی۔ یہ ہماری من حیث القوم ذہنی کیفیت ہے۔ ہم نے چودہ اپریل تک لاک ڈائون کیا تھا۔ اب مخمصے میں ہیں کہ آگے کیا کرنا ہے۔ ایک کہتا ہے لاک ڈائون سخت کر دو۔ دوسرا بھی ہم آواز ہے‘ اس نے عدالت کو بتا رکھا ہے کہ 25اپریل تک وبا میں شدت آ سکتی ہے اور سب جانتے ہیں کہ فی الوقت اس کا حل میل ملاپ میں فاصلے پیدا کرنا ہے۔ اس کے لئے ہم نے انگریزی کا ایک لفظ بھی نکال لیا ہے۔ سماجی فاصلے۔ اب اس لفظ کو گراس روٹس پر لے جانے کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں۔ امریکہ میں صدارتی الیکشن ہو رہے ہیں‘ یورپ کا کاروبار سیاست بھی جاری ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ہیں‘ مگر ملکی انتظامیہ رواں ہے۔ سب کچھ ہو رہا ہے مگر اصل توجہ اس وبا کی طرف ہے۔ اس پر فتح تو انسانیت باقی بچے گی۔ ایک زمانہ تھا کہ کہا جاتا تھا کہ یہ دھرتی صرف ایک ہے۔ کرہ ارض کوئی اور نہیں ہے‘ ہم نے اسے تباہی سے بچانا ہے۔ اب مسئلہ یہ آ گیا ہے کہ نسل انسانی صرف ایک ہے۔ ہر نسل لٹ گئی اور کرہ ارض باقی بھی رہا تو یہاں صرف چرند پرند‘ حشرات الارض ہوں گے۔ اشرف المخلوقات کا کوئی وجود نہیں ہو گا۔ کیسا عذاب ہے کہ صرف انسانوں پر آیا ہے۔ یہ پوری انسانیت کی قیادت کا امتحان ہے۔ ہمارے ہاں اس پر بہت فکشن لکھا گیا‘ بہت فلمیں بنیںذکبھی ہم سٹار وار بنا کر بتاتے ہیں کہ انسان کی صلاحیتیں کیا ہے۔ ہم اکثر دکھاتے ہیں اگر مختلف سیاروں پر زندگی ہوئی اور وہاں بسنے والوں سے ہمارا مقابلہ ہو گیا تو ہم کیسے ان کو زیر کر کے دکھائیں گے۔ اب جو یہ اندر سے مصیبت آئی ہے تو ہم نہیں جان پا رہے کہ ہمیں کس طرح یہ جنگ جیتنا ہے۔ مجھے خوامخواہ دنیا کی پڑی ہے۔ مجھے سب سے زیادہ فکر اپنی ’’دنیا‘‘ کی ہونا چاہیے۔ میری دنیا میرا ملک ہے۔ اور میری قیادت میرے ملک کے حکمران ہیں یا صاحبان اقتدار۔ کیا میں یہ سمجھ لوں میری قیادت اس جنگ میں میری رہنمائی کر رہی ہے۔ اپوزیشن اپنے راگ الاپ رہی ہے۔ حکومت کے اپنے بیانیے میں صوبوں اور وفاق کے درمیان عجب رشتہ ہے۔ ہم کراچی کے ایئر پورٹ پر اپنے جہاز نہیں اتار سکتے کہ ہر ایک کا اپنا معیار ہے۔ صوبہ کہتا ہے پائلٹ واپسی میں پہلے قرنطینہ میں رہیں۔ وہ کہتے ہیں عالمی اصولوں کے مطابق ایسا نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنے شہری واپس لانے ہیں۔ دنیا کے دوسرے ممالک کے شہری واپس بھیجنے میں سب کی انا کا مسئلہ ہے یا ہر ایک کی اتھارٹی کی بحث ہے۔ یہ بھی بحث چل پڑی ہے‘ کون زیادہ سختی کر رہا ہے۔ یہ بھی طے ہو رہا ہے کہ کس کے دانت زیادہ تیز ہیں۔ لاک ڈائون کے تیسرے ہفتے ہم نے لوگوں کو سرکاری طور پر مدد پہنچائی اور اس پر پھولے نہیں سما رہے۔ صرف فلاحی ادارے پہلے دن ہی سے سرگرم ہو گئے تھے۔ ادھر خبریں آ رہی ہیں کہ لوگ مختلف ذرائع سے راشن اکٹھا کر کے بازار میں بیچنے کے لئے لے جا رہے ہیں۔ ایک دکاندار نے ویڈیو نشر کردی ہے۔ یہ بھی ایک کاروبار بن گیا ہے جو ماسک چند دن پہلے ڈیڑھ سو کا لیا تھا‘ وہ کل 22سو کا مل رہا تھا۔ یہی میری اپنی کہانی ہے۔ ہاں صرف مرغی سستی ہوئی ہے کیونکہ خریدار نہیں۔ سبزیاں بھی سستی ہوں گی کیونکہ بک نہیں رہیں۔ نہ بکی تو ضائع ہو جائیں گی۔ کسان ٹماٹر تلف کر رہاہے۔ جی ‘ وہی ٹماٹر جس نے چند دن پہلے آٹا اور چینی کی طرح بحران پیدا کر دیا تھا۔ چوزے کوئیں کھود کر دفن کئے جا رہے ہیں۔ ہم ہر طرح ایک زرنہادمعاشرہ ہو گئے ہیں۔ ہم یک سو کیوں نہیں ہیں کہ ہمیں ایک وبا سے لڑنا ہے اور اس میں ہماری بقا ہے۔ اس کے لئے ہمیں جو قیمت ادا کرنا پڑے ہم کریں گے مگر انسانیت کو بچائیں گے۔ ساتھ ہی اس بات کا خیال رکھیں گے کہ اس کے نتیجے میں بنی نوع انسان کے لئے جو مشکلیں اور دقتیں پیدا ہوں گی‘ اس کا تدارک کریں گے۔ یہ تو جواب نہیں کہ ہم چین نہیں ہیں‘ نہ اٹلی اور سپین ہیں ہمارے وسائل کم ہیں۔ ہماری ترجیحات اپنی ہیں کچھ تو کرنا پڑے گا۔ کوئی بھی ڈھب پر نہیں ہے۔ صراط مستقیم کہیں کھو گئی ہے۔ ہم بھی کہیں کھو گئے ہیں۔ مجھے تو آج کل چینی کے سکینڈل کی بحثیں بھی عجیب لگتی ہیں۔ ان سے تو ہم پہلے واقف تھے‘ اب تو صرف ڈگڈگی بجا رہے ہیں۔ ڈگڈگی بجانا بند کرو یہ بندر کا تماشا نہیں۔ انسان کو بچا لو۔Sajjad-Mir-Daily92