جہانگیر ترین کی کال پکڑی گئی ۔ عمران خان اور عثمان بزدار کے خلاف گیم تیار کر رہے ہیں ۔کپتان نے شاہ محمود قریشی کو اہم ٹاسک دے دیا

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف جہانگیرترین کھل کر میدان میں نکل آئے ہیں انہوں نے وفا ق اور پنجاب میں سیاستدانوں سے رابطے شروع کردیئے ہیں اور ان کا فیصلہ مانگ رہے ہیں کہ وہ جہانگیر ترین کی حمایت کریں گے یا نہیں ۔جہانگیر ترین عمران خان کی حکومت بننے سے پہلے جن آزاد لوگوں کو پارٹی میں لے کر آئے یا جن کے ذریعے حکومت کی حمایت کرائی ان سے مسلسل رابطہ کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے لوگوں سے ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں اور انکی ایک کال خفیہ ادارے نے پکڑ لی ہے جس میں ان کا گیم پلان سامنے آیا ہے اور یہ ساری صورتحال وزیراعظم عمران خان تک پہنچادی گئی ہے
سینئر صحافی اور تجزیہ کار صابر شاکر نے سوشل میڈیا پر اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے دعوی کیا ہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان لڑائی کافی بڑھ گئی ہے اگرچہ کچھ لوگوں کی خواہش ہے کے سیزفائر ہوجائے اور 25 تاریخ کی رپورٹ آنے سے پہلے معاملہ ٹھنڈے ہو جائیں لیکن وزیراعظم عمران خان جس شخص کا نام ہے وہ کمپرومائز اور صلح صفائی کے چکر میں کم ہی پڑتا ہے عمران خان ایسے کسی موڈ میں نظر نہیں آ رہا کہ صلح کریں ۔صابر شاکر نے دعویٰ کیا ہے کہ جانگیر ترین ویکافئ و غصے میں ہیں اور ان کا موڈ ہے کہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے ۔
عام تاثر یہی ہے کہ جہانگیر ترین 60فیصد لوگوں کو پارٹی میں لے کر آئے یا انہوں نے لوگوں کو توڑا اگر ساٹھ نہیں تو پچاس فیصد کے قریب لوگ ضرور ان کے ذریعے آئے لیکن یہ الگ بحث ہے کہ کیا وہ لوگ جہانگیرترین کی وجہ سے ہی پارٹی میں آئے یا جہانگیر ترین صرف ایک میسنجر تھے بظاہر جہانگیرترین ہی سرگرم نظر آئے اور ان کا جہاز بھی استعمال ہوا اب جہانگیر ترین نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے مرکز اور پنجاب میں ان کا اثر رسوخ ہے انہوں نے خود رابطے کرنے شروع کر دیے ہیں کہ میرا ساتھ دو گے یا نہیں اس حوالے سے انہوں نے جن لوگوں سے بات چیت کی ہے ان میں سے کچھ لوگوں نے عثمان بوزدار اور عمران خان کو یہ صورت حال بتا دی ہے بتایا گیا ہے کہ جہانگیر ترین پلان بنا رہے ہیں کہ اپنا گروپ بنا کر تحریک عدم اعتماد لائیں وفاق اور پنجاب دونوں میں یا جہاں پر پہلے نمبرزگیم پوری ہوجائے وہاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے دوستوں سے بھی رابطہ کرکے اپنا گروپ بنا کر حمایت حاصل کی جائے یہ ساری صورتحال عمران خان کی نالج میں آگئی ہے اور خفیہ ادارے نے بھی بتا دیا ہے کچھ لوگ صلح کرانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن ایسا لگتا نہیں کہ عمران خان صلح صفائی کے چکر میں پڑیں گے ۔
عمران خان بھی پرانے کھلاڑی ہیں انہوں نے شاہ محمود قریشی کو جہانگیرترین کے مقابلے پر اہم ٹاسک دے دیا ہے اور فی الحال خسروبختیار اور ان کے بھائی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا شاہ محمود قریشی کو اور وزیر اعلی پنجاب کو کہا گیا ہے کہ ساؤتھ پنجاب کے لوگوں کو قابو میں رکھیں ۔
یہ بات یاد رکھیں کہ شاہ محمود قریشی خود بھی وزیر اعلی پنجاب بننا چاہتے تھے اور جہانگیر ترین بھی۔ لیکن الیکشن سے پہلے ہی جہانگیر ترین تو نااہل ہوگئے تھے اور شاہ محمود قریشی قومی اسمبلی کی نشستوں جیت گئے تھے لیکن پنجاب اسمبلی کی نشست پر شکست کھا گئے تھے اس حیران کن شکست پر شاہ محمود قریشی سمجھتے رہے کہ جہانگیر ترین نے ہی انہیں ہروایا ہے کیوں کہ جس شخص کو پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا تھا اسے انہوں نے سپورٹ کر آئی تھی ۔
اب عمران خان نے چال چلی ہے کہ شاہ محمود قریشی کو جہانگیر ترین کے خلاف کھڑا کردیا جائے جب ایک کھلاڑی کسی کو تنگ کرے تو اس کے مقابلے پر دوسرے کھلاڑی کو اتارا جاتا ہے یہ چال عمران خان نے چل دی ہے ۔
شاہ محمود قریشی کافی عرصے سے خاموش تھے اور انھوں نے جارحانہ انداز نہیں اپنایا تھا دو سال میں انہوں نے عمران خان کو تنگ بھی نہیں کیا دوسری طرف کئی ادارے کی جانب سے وزیراعظم کو بتایا گیا ہے کہ پوسٹنگ ٹرانسفر جو پنجاب میں کی گئی اس میں بھی جانگیرترین کا عمل دخل ہوتا تھا وزیراعظم فل موڈ میں ہیں کہ کمپرومائز نہیں کریں گے اور کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے کیونکہ فیصل آباد سے ایم این اے راجہ ریاض نے کھل کر جانگیرترین کی حمایت کردی ہے ۔
جہانگیر ترین بھی پارٹی کے اندر ان لوگوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو عمران خان سے ناراض ہیں فواد چوہدری اور دیگر لوگ جنہیں وزارتیں نہیں ملی یا ان کی پسند کے کام نہیں ہوئے وہ ناراض ہیں ان سے رابطہ کرکے اور ان کو ساتھ ملا کر جہانگیرترین وزیراعلی پنجاب کو سبق سکھانا چاہتے ہیں ۔
جبکہ عمران خان کی جوابی حکمت عملی یہ ہے کہ شاہ محمود قریشی اور عثمان بزدار کو اکٹھا کرکے جہانگیر ترین کے خلاف کام کیا جائے اور خسروبختیار اور ان کے بھائی کو بھی ساتھ رکھا جائے سیکرٹری خوراک نسیم صادق کے بیانات بھی اہم ہیں اور اگلا نشانہ وزیراعلی پنجاب نظر آتے ہیں ۔