سعودی عرب: ایک ماہ کے دوران متعدد تجارتی مراکز پر چھاپ

سعودی وزارت تجارت کے انسپکٹرز نے مملکت میں قانون محنت کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کرنے کے لیے 75 ہزار تفتیشی دورے کیے، مملکت کے تمام علاقوں میں موجود تجارتی اداروں پر چھاپے مارے گئے اور 8 ہزار 600 سے زائد خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔

وزارت تجارت کی ٹیموں نے 7 مارچ سے 8 اپریل تک مختلف اوقات میں تھوک بازاروں، کھانے پینے کی اشیا کے گوداموں اور اشیائے صرف فروخت کرنے والے تجارتی مراکز پر چھاپے مارے۔

علاوہ ازیں جنرل سٹورز (بقالوں)، ہائپر مارکیٹس، گوشت فروخت کرنے والی دکانوں، سبزی اور پھل فروخت کرنے والی دکانوں، مچھلی بیچنے والوں، بیکریوں اور پیٹرول اسٹیشنوں پر بھی چھاپے مار کر دیکھا گیا کہ وہاں قوانین تجارت کی پابندی کس حد تک کی جا رہی ہے۔

وزارت تجارت کا کہنا تھا کہ 46 فیصد خلاف ورزیاں مہنگائی کے بارے میں تھیں۔ حکام نے سامان مہنگا فروخت کرنے والوں پر فوری جرمانے لگائے اور انہیں دیگر منافع خوروں کے لیے نشان عبرت بنا دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ تمام تجارتی مراکز اور گوداموں میں اشیائے صرف، ضرورت کا سامان اور کھانے پینے کی اشیا وافر مقدار میں پائی گئی ہیں، کہیں کسی بھی سامان کی قلت ریکارڈ نہیں کی گئی۔

وزارت تجارت نے صارفین سے اپیل کی کہ وہ ضرورت کا سامان ضرورت کی حد تک خریدیں، حد سے زیادہ سامان ذخیرہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔

حکام کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو کوئی قانون تجارت کی کوئی خلاف ورزی کہیں نظر آئے تو فوری طور پر شکایت درج کروائیں۔

Courtesy Ary Urdu