بھارت میں مسللمان و تبلیغی مراکز تعصب کے وائرس کا شکار ………..

بھارت میں  مسللمان و تبلیغی مراکز تعصب کے وائرس کا شکار  ……….. قادر خان یوسف زئی کے قلم سے
کرونا وائرس کی وبا بلا امتیاز رنگ و نسل و مذہب تمام طبقات کے لئے خطرناک قرار دی گئی ہے۔ کرونا وبا سے دنیا کا ہر شعبہ ہائے زندگی متاثر ہوا ہے۔ کرونا وبا کے خاتمے کے لئے احتیاط کو سودمند علاج قرار دیا جاتا ہے، تاہم ایک طرف دنیا کرونا وبا کے خلاف جنگ میں مصروف ہے تو بھارت میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔بھارت میں ہندو توا کے زیر اثر مسلمانوں کے خلاف پہلے ہی ریاستی جبر کیا جارہا ہے، بالخصوص مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کو تبدیل کرنے کے علاوہ مسلم کش اقدامات کے ساتھ مسلمانوں کی آبادی کو کم ظاہر کرنے کے لئے پہلے غیر کشمیریوں کی جائیداد کو خریدنے کا قانون مسلط کیا گیا تو دوسری جانب ڈومی سائل کی کیفیت میں تبدیل کرکے کشمیری مسلمانوں کو اقلیت ظاہر کرنے کی سازشوں کو ہٹ دھرمی سے رچایا جارہا ہے۔ کرونا وبا کی وجہ سے عالمی برداری اپنے اپنے ممالک میں اہم مسائل سے کچھ وقت کے لئے لاپرواہ ہوچکی ہے، جس کا بھارت کی ہندو انتہا پسند حکومت نے بھرپور فائدہ اٹھانا شروع کردیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف وزریوں و مسلسل لاک ڈاؤن سے مسلمانوں کی ہمت کو کمزور کرنے کی بزدلانہ کوششوں کو ناکامی کا سامنا ہے، اسی طرح بھارت میں ہندو انتہا پسندپالیسیوں کی وجہ سے مسلمانوں کی مقامی شہریت سمیت متنازع قانون سازی کے خلاف لاکھوں مسلمان سراپا احتجاج بن گئے۔ اس کا نتیجہ مودی سرکار کو دہلی انتخابات میں بدترین شکست کی صورت میں بھی ملا۔ تاہم کرونا وائرس کو لے کر ہندو انتہا پسندوں کے پاس ایک نیا سازشی ہتھیار آگیا ہے۔ ہندو شدت پسندوں نے کرونا وبا کے پھیلاؤ میں مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کردیا، بلکہ مساجد و تبلیغی مراکز و مزارات کو بھی پر تشدد کاروائیوں کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ ہندو شدت پسندوں نے کرونا وبا کے خلاف منظم سازش میں مسلمانوں پر تشدد شروع کردیا،حالاں کہ کرونا وبا سے بھارت ہی نہیں بلکہ پوری دنیا متاثر ہے،؛لیکن بھارت، مسلمانوں کے خلاف کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، جس میں شدت پسند ی نہ ہو۔بھارت کے کیثر الاشاعت اخبار دی ہندو نے ایک ایسا کارٹون شائع کیا جس میں کرونا کو کرتا قمیض میں ہتھیار اٹھاتے دیکھا گیا، کرتا قمیض مسلمانوں کا روایتی و ثقافتی لباس ہے، جو مسلم کیمونٹی کی پہچان رکھتی ہے۔ کثیر الاشاعت اخبار کی جانب سے شدت پسندی کا اظہار شدید تنقید کا باعث بنا۔ دوسری جانب بھارتی میڈیا کی جانب دارنہ پالیسی بھی شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آئی کہ انہوں نے مسلمانوں کے مخصوص مذہبی طبقات میں فرقہ وارانہ بڑھاوا دینے کی کوشش کی۔ ایک جانب فرقہ واریت کو ہوا دینے کی سازش اپنائی گئی تو دوسری جانب بھارتی میڈیا نے منظم سازش کے تحت بھارتی عوام کو مسلمانوں سے متنفر کرنے کے لئے تبلیغی مراکز و مزارات کو خصوصی تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔تلنگاہ پی سی سی کے صدر و رکن پارلیمنٹ نلگنڈہ اتم ریڈی نے کرونا وائرس کو مذہبی رنگ دینے پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ”بڑے بڑے اخبارات و چینلز حالیہ دنوں کرونا وائرس کے معاملات کو مذہبی رنگ دے رہے ہیں، جو نامناسب بات ہے“۔این ای کے آر ٹی سی کے سابق چیئرمین الیاس سیٹھ نے تبلیغی مرکز دہلی کے خلاف میڈیا کے گمراہ کن پروپیگنڈا کی سخت الفاظوں میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ”میڈیا حقائق چھپا کر مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے تبلیغی مرکز دہلی کے خلاف نہاہت گمراہ کن پروپیگنڈا کررہا ہے۔تبلیغی برادران بالخصوص مولانا سعد کے خلاف میڈیا جس طرح کا لب و لہجہ اختیار کررہا ہے، وہ نہ صرف صحافتی اصولوں کے مغائر ہے بلکہ اخلاق کے دائرہ سے بھی باہر ہے۔انہوں نے مزید کہا تمام تر ذمے داری صرف تبلیغی مرکز پر عائد نہیں ہوتی۔“ واضح رہے کہ بھارت میں تبلیغی مرکز سے وابستہ تمام افراد حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں اور جن جن مقامات پر تبلیغی جماعت روانہ کیں تھیں وہاں سے انہیں واپس بھی بلایا گیا اور رضاکارانہ طور پر کرونا وائرس کی تشخیص کے لئے اپنے آپ کو پیش بھی کیا۔گلبرگہ ضلع  میں تبلیغی مرکز دہلی  سے واپس جانے والے کسی بھی فرد میں کرونا وائرس نہیں پایا گیا اور تمام افراد کی رپورٹس منفی آئی۔این ای کے آر ٹی سی کے سابق چیئرمین نے (بھارتی) میڈیا کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کی ناپاک کوشش کرنے والے میڈیا کے تمام ذمے داران کو اپنے غیر ذمے دارانہ رویہ پر نادم و شرمندہ ہونا چاہے اور معافی طلب کرنی چاہیے۔“واضح رہے کہ بھارت کی مختلف ریاستوں نے تبلیغی اجتماع میں شرکت والوں کے خلاف قتل، اقدام قتل اور قانون قومی سلامتی کے تحت سنگین مقدمات درج کئے جانے کی وارننگ جاری کی گئی، جبکہ ہندو انتہا پرستوں نے مسلمان ٹھیلہ فروشوں کو اپنے علاقوں میں داخل ہونے سے روک دیا ہے، ایک ایسا ہی واقعہ میں شاستری نگر، دہلی میں پیش آیا جہاں شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد غیر مسلم کو داخل ہونے دیا جاتا ہے، اگر کوئی مسلم ٹھیلہ فروش پھل وغیرہ لاتا ہے تو اُسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔بھارت میں مسلمانوں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈوں کے ساتھ فرقہ وارنہ سازشوں کا سوچا سمجھا جال بچھا ہوا ہے۔ قصداََ ایسے اقدامات و اشتعال انگیز بیانات دیئے جاتے ہیں جس سے بھارت میں مسلمانوں کی تکالیف میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ہندو شدت پسندوں کی جانب سے انتہا پسند کاروائیوں سے مسلمانوں کو شعائر اسلام کی ادائیگی کے ساتھ اپنے دین و مذہب کو آر ایس ایس کے شدت پسند نظریئے سے بچانا مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔وشوا ہندو پریشد نے تبلیغی جماعت اور اس کے نطام الدین مکز پر مکمل پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے، وی ایچ پی کے جوائنٹ سیکرٹری سریندر چین نے تبلیغی جماعت پر شدید تنقید و الزامات لگاتے ہوئے بنک اکاوئنٹ سیل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ہندو انتہا پسندوں کی شدت پسندی کی شرمناک کردار کی ایک جھلک ارونا چل پردیش میں بھی دیکھی گئی جب ڈسٹرکٹ فوڈ اینڈ سیول سیلائی آفیسر نے ڈپٹی کمشنر کو ایک خط لکھا کہ چاول سے لوڈ ٹرکوں کے مسلم ڈرائیوروں کو سنگرام اور پالن کے مقام پر ایک گروپ نے تشدد کا نشانہ بنایا، جس پر ٹرک ڈرائیور اپنی گاڑیاں چھوڑ کر پڑوسی ریاست آسام فرار ہوگئے، خط میں پر تشدد کاروائیوں پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو ضروری اشیا ء کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی اس نئی لہر کے خلاف بھارت کے مسلم قائدین و دانشوروں نے کرونا وائرس کے تناظر میں پیدا شدہ مبینہ فرقہ واریت کی صورتحال پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کرت ہوئے کہا ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے مسلم تنظیموں اور افراد کو مبینہ طور پر نشانہ بنا کر پورے ماحول کو پراگندا کرنے و باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ گویا مسلم معاشرہ کرونا کے انسداد کے طبی اقدامات کا مخالف ہے۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں اسلامی برداری سے بھی اپیل کی کہ وہ شر پسند عناصر کے افواہوں کا شکار نہ ہوں اور کرونا کے علاج میں مصروف ملازمین کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔مسلم سول سرونٹس کے گروپ نے بھی مختلف احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے اپیل کی ہے کہ مسلمان کرونا وائرس سے لڑائی میں اپنے ساتھی شہریوں کے لئے ایک مثال قائم کریں۔ انہوں نے بھارتی میڈیا سے بھی کہا کہ وہ اس کوشش میں ہمارے ساتھ تعاون کریں“۔بھارتی میڈیا میں مسلسل پروپیگنڈا کیا جارہاہے کہ مسلمان کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بن رہے ہیں، گو کہ سب اس اَمر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ کرونا وائرس کا کوئی مذہب مسلک نہیں ہے، لیکن جس طرح کئی برسوں سے بھارت میں ہندو توا کے تحت مسلمانوں کے خلاف جانبدارنہ اقدامات کئے جارہے ہیں اور انہیں ہندو شدت پسندی کا شکار بناجاتا ہے اس سے بھارت میں مسلمانوں کو نت نئے سازشوں کے تحت دیوار سے لگایا جاتا ہے اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کسی بھی مقام سے کرونا وائرس کے متاثرین کی رپورٹ کا مثبت آنا اس اَمر کی غمازی نہیں کرتا کہ کسی مذہب کا پیروکار کرونا وائرس پھیلانے کا موجب بن رہا ہے، اشتعال انگیز کاروائیاں کرکے مسلمانوں کو بھڑکایا جاتا ہے او ر پھر منفی پروپیگنڈے کے تحت مخصوص مذہبی حلقے کو دہشت گرد قرار دلوانے کی سازش کرنا، ہندو انتہا پسندوں کا وتیرہ بن چکا ہے۔ کرونا وائرس سے قبل بھی مسلم کیمونٹی کے خلاف سازش کے تحت جانب دارنہ اقدامات معمول کا حصہ تھے اور اب کرونا کی آڑ میں مزید شدت پسندی کا مظاہرہ جاری ہے۔اس وقت 25ہزار سے زاید مسلم تبلیغی جماعت کے اراکین کو قرنطینہ میں رکھا ہوا ہے اور بعض مبلغین پر مقدمات کا اندارج کرنے کا بھی اعلان کردیا ہے۔ تاہم اس وقت ضرور ت اس اَمر کی ہے کہ کرونا کے خلاف عوامی آگاہی مہم میں مخصوص مذہبی اکائیوں میں صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانا، فسطائیت کا مظاہرہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے حالاں کہ سب اس اَمر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ کرونا بلا امتیاز رنگ و نسل و مذہب سب پر یکساں حاوی ہوتی ہے۔