فش ہاربر پر ہونے والی لوٹ مار میں کون کون ملوث ہے ؟ سنسنی خیز انکشافات

فش ہاربر پر ہونے والی لوٹ مار میں حکومت سندھ پوری طرح ملوث ہے۔منتخب ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد یوسف اور فشر مینز کوآپریٹیو سوسائٹی ایمپلائی یونین کے جنرل سکریٹری سعید بلوچ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ غیر قانونی چیرمین عبدالبر پوری ایمانداری سے لوٹ مار کا حصہ کلفٹن کے بڑے بنگلے  اور کھوسہ ہاؤس پہنچا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نثار مورائی کی جے آئی ٹی اوپن ہونے کے بعدلوٹ مار کا طریقہ کار سب کو معلوم ہو جائے گا اورآج بھی وہی طریقہ کار جاری ہے۔کراچی(        ) فشر مینز کوآپریٹیوسوسائٹی میں کرپشن،لوٹ مار،غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف سوسائٹی کے منتخب ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد یوسف اور ایمپلائیز یونین کے جنرل سیکریٹری سعید بلوچ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ماہی گیروں کے قدیم ادارے فشر مینزکوآپریٹیو سوسائٹی (ایف سی ایس)میں مسلسل بڑھتی ہوئی کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے ماہی گیروں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماہی گیروں کے ادارے میں ایک عرصے سے لوٹ مار جاری ہے جس کے خلاف ہم وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور وزیر کوآپریٹیو جام اکرام کو زبانی اور تحریری طور پر آگاہ کرچکے ہیں لیکن ان لوگوں کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی،جس سے شک پختہ ہوتا ہے کہ حکومت سندھ کی اعلی شخصیات اور متعلقہ وزیر کہیں ملی بھگت کے ساتھہ خاموش تو  نہیں ہیں اور کیا انہیں بھی اس لوٹ مار کا حصہ برابر سے مل رہا ہے۔انھوں نے کہا ماضی میں سعید خان بلوچ اور نثار مورائی فش ہاربر پر اسی طرح کی لوٹ مار اور کرپشن میں ملوث تھے جس پر نیب نے انہیں گرفتار کیا ہوا ہے اور وہ گذشتہ دو سال سے نیب کی جیل میں بند ہیں۔انہوں نے کہا کہ اتنی لوٹ مار تو ان دونوں نے بھی نہیں کی جتنی عبدالبر نے تین سالوں میں کی ہے پھر کیا وجہ ہےکہ نیب نے انہیں لوٹ مار کی کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اطلاع کے مطابق سوسائٹی میں غیر قانونی بھرتیوں میں  افسران کے عزیز اور رشتہ داربھی شامل ہیں اور انہیں بھی اس لوٹ مار کا حصہ مل رہا ہے اس لیئے وہ عبدالبر کے خلاف انکوائری سے گریزاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ صحافیوں کے بچوں کو بھی سوسائٹی میں ملازمت دی گئی ہے تاکہ میڈیا میں عبدالبر کو تحفظ فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جب موجودہ چیئرمین آئے تھے اس وقت سوسائٹی کے اکاؤنٹ میں 54  کروڑ روپے موجود تھے جسے انہوں نے حکومت سندھ کی مدد سے ہڑپ کر لیا اور اب سوسائٹی کی یہ حالت ہے کہ اس کے اکاوئنٹ میں تنخواوں، ریٹائر ہونے والے ملازمین کی گریجویٹی اور ماہی گیروں کی ویلفیئر کے لیئے بھی پیسے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہی گیروں کا ادارہ فشرمینز کوأپریٹیوسوسائٹی ان کے لیئے ماں کی حیثیت رکھتا ہے،لیکن آج کل یہاں ایک ایسے شخص کو مسلط کر دیا گیا ہے جس کا نہ ماہی گیربرادری سے،نہ ماہی گیری کی صنعت سے اور نہ اس صوبے سے تعلق ہے۔اس لیئے انہیں نہ ماہی گیروں سے کوئی ہمدردی ہے نہ اس ادارے سے،بلکہ وہ اپنے مفادات کے حصول میں لگے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فش ہاربر میں ماضی کی طرح دوبارہ شروع ہونے والی کھلے عام رشوت،چور بازاری،دھاندلی،بدامنی،بدعنوانی،کرپشن اور اقراٌباپروری کی سرپرستی کون کر رہا ہے، یہ بات فش ہاربر پرکام کرنے والے ہر ماہی گیر کو معلوم ہے لیکن اب ہم اسے متعلقہ حکام کے علم میں لا رہے ہیں تاکہ اس لوٹ مار کا فوری سد باب کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ سندھ کے وزیر اعلیٰ آئی جی سندھ کو تبدیل کرنے کے لیئے بڑے بے چین تھے لیکن فش ہاربر پر ہونے والی لوٹ مار پر آنکھیں بند کیئے ہوئے ہیں جبکہ فش ہاربر پر کام کرنے والا عام آدمی کو بھی معلوم ہے کہ کتنی لوٹ مار کی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ نے ڈاکٹر نثار مورائی کی جے آئی ٹی اوپن کرنے کا حکم دیا ہے اس سے فش ہاربر پر ہونے والی لوٹ مار اور کلفٹن کے بڑے بنگلے رقم پہنچانے کے طریقہ کار سے سب واقف ہوجائیں گے،اور اب بھی لوٹ مار کا طریقہ کار وہی ہے بس چہرے بدل گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عبدالبر کی برطرفی اور نئے چیئرمین کے انتخاب تک ماہی گیروں میں بے چینی برقرار رہے گی۔