سندھ حکومت کو فراہم کردہ راشن بیگز میں غیر معیاری سامان کی موجودگی کا انکشاف

سندھ حکومت کی جانب سے صوبے میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر لگائے گئے لاک ڈاؤن کے دوران صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں غریبوں کو ان کے گھروں میں راشن کی فراہمی کا اعلان کیا گیا تھا۔
تاہم اس کے لیے نجی ٹھیکیدار سے حاصل کیے جانے والے راشن بیگز میں سستے اور غیر معیاری سامان کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔
نجی ٹھیکیدار کی جانب سے فراہم کیے گئے راشن کے 10 ہزار 800 بیگز کے حوالے سے ہونے والی ایک تحقیق میں اس حوالے سے معلوم ہوا کہ حکومت کو فراہم کیے گئے راشن بیگز میں سستا اور غیر معیاری سامان موجود تھا۔
بیورو آف سپلائی اینڈ پرائس کے دستاویزات میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت کو فراہم کردہ 20 کلو کے راشن بیگ کی قیمت میں مارکیٹ میں دستیاب اتنے ہی وزن کے بیگ کی قمیت میں 179 روپے کا فرق پایا گیا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حیدرآباد ضلع کے چار تعلقوں میں حکومت کی جانب سے یوسی چیئرمین کو فراہم کردہ ان راشن بیگز کے حوالے سے ایک اعلیٰ انتظامی عہدیدار نے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ حکومت کو فراہم کردہ راشن بیگز میں غیر معیاری سامان تھا۔
مذکورہ راشن بیگز کو تمام تعلقہ کے اسسٹنٹ کمشنرز (اے سی) کے تحت یوسی چیئرمینز کو فراہم کیا گیا تھا اور جیسے ہی ان بیگز کی تقسیم شروع کی گئی تو ان میں نہ صرف ناقص سامان کی موجودگی بلکہ ان میں کم وزن کی شکایات بھی سامنے آئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ راشن بیگز کے کم وزن اور ان میں غیر معیاری سامان کی شکایات کے بعد ایڈیشنل ڈپٹی کمنشر (اے ڈی سی) ون لیاقت کلہوڑو نے محکمہ خوراک اور بیورو آف سپلائی اینڈ پرائس کے عملداروں کے ساتھ مل کر معاملے کی تفتیش کی۔
اے ڈی سی نے راشن فراہم کرنے والے کاروباری شخص محمود راجپوت، اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر سرکاری عہدیداروں کے سامنے راشن بیگز کی تفتیش کی، جس میں راشن بیگز میں فراہم کردہ کچھ چیزیں ناقص پائی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق تفتیش کے بعد راشن بیگز فراہم کرنے والے محمود راجپوت کو کہا گیا کہ وہ راشن بیگز میں فراہم کردہ کچھ چیزوں خاص طور پر دال چنا اور چاول کو تبدیل کرے، جو غیر معیاری ہیں۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے اے ڈی سی لیاقت کلہوڑو نے ڈان کو بتایا کہ راشن بیگز میں فراہم کیے گئے دال اور چاول انتہائی ناقص ہیں اور انہوں نے ہدایات کی ہیں کہ انہیں تبدیل کیا جائے.
اے ڈی سی کے مطابق باقی رہ جانے والی راشن بیگز میں دال اور چاول کو تبدیل کرکے معیاری کوالٹی کے چاول فراہم کیے جائیں گے.
انہوں نے بتایا کہ محمود راجپوت کو راشن بیگز فراہم کرنے کا ٹینڈر اس لیے دیا گیا تھا کیوں کہ محکمہ خوراک کے عہدیداروں نے بتایا تھا کہ ان کے دام عام مارکیٹ سے کم تھے.
راشن بیگز کی تفتیشی رپورٹ میں بیگز فراہم کرنے والے دکاندار کی جانب سے دی گئی قیمتوں کا عام مارکیٹ کی قیمتوں سے بھی موازنہ کیا گیا اور 20 کلو راشن بیگز میں مجموعی طور پر 179 روپے کا فرق پایا گیا.
رپورٹ میں بتایا گیا کہ راشن بیگز کی قیمتیں عام معیاری سامان کے مقابلے میں 179 روپے کم ہونے کی وجہ سے ان میں ناقص سامان شامل کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ تفتیشی ٹیم نے ضلع حیدرآباد کے چاروں تعلقوں میں 15 راشن بیگز کو چیک کیا جن میں سے کئی بیگز میں فراہم کی گئی چیزیں ناقص پائی گئیں جب کہ راشن بیگز میں کچھ پیکنگ کی ہوئی چیزیں پھٹ چکی تھیں اور ایسے بیگز کا وزن کرنا انتہائی مشکل تھا۔
رپورٹ میں بیورو آف سپلائی اینڈ پرائس کے عہدیداروں نے بتایا کہ راشن بیگز کا عمومی وزن 19 کلو تک ہونا چاہیے تھا مگر حیران کن طور پر کئی بیگز کا وزن اس سے کافی کم تھا جب کہ کچھ کا وزن اضافی بھی پایا گیا.
عہدیداروں کے مطابق راشن بیگز میں فراہم کیے جانے والے مختلف سامان میں 20 گرام سے لے کر 150 گرام تک وزن کم پایا گیا، جس وجہ سے راشن بیگز کا مجموعی وزن کم نکلا۔
ساتھ ہی بتایا گیا کہ راشن بیگز میں فراہم کی گئی کئی چیزیں جن میں کوکنگ آئل، دال چنا اور آٹا غیر معیاری کوالٹی کے پائے گئے۔
دوسری جانب راشن بیگز فراہم کرنے والے ٹھیکیدار محمود راجپوت کا کہنا تھا کہ تمام راشن بیگز ہنگامی بنیادوں پر کاغذ کے تھیلوں میں پیک کیے گئے اور انہیں ایک سے دوسری جگہ بھی منتقل کیا گیا تو ان میں موجود کچھ پیک چیزیں پھٹ گئیں.
انہوں نے تصدیق کی کہ وہ راشن بیگز کے معائنے کے وقت وہاں موجود تھے اور یہ کہ ان سے دال اور چاول تبدیل کرنے کا کہا گیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے راشن بیگز میں کرنل باسمتی چاول فراہم کیے تھے اور وہ بھی عام مارکیٹ کے مقابلے میں کم داموں پر فراہم کیے گئے تھے.
ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ راشن بیگز کے حوالے سے اس طرح کی ایک اور تفتیش بھی جاری ہے۔
راشن بیگز کی تفتیش کرنے والے اے ڈی سی لیاقت کلہوڑو کے مطابق نئے ڈپٹی کمشنرز کی ہدایات کے مطابق غیر معیاری اور کم وزن بیگز فراہم کرنے پر دکاندار سے کیا گیا معاہدہ ختم کردیا گیا ہے جب کہ اب یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشنز کے ساتھ دوسرا معاہدہ کیا گیا ہے اور انہیں 11 ہزار راشن بیگز فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔