کیا وزیراعظم حقائق کی روشنی میں عثمان بزدار کے خلاف کارروائی کریں گے؟

جیو کے پروگرام ’’رپورٹ کارڈ‘‘ میں میزبان کے پہلے سوال آٹا چینی بحران، وزیراعلیٰ پنجاب کا نام زیرگردش، کیا وزیراعظم حقائق کی روشنی میں عثمان بزدار کے خلاف کارروائی کریں گے؟ کا جواب دیتے ہوئے سلیم صافی نے کہا کہ وزیراعظم چینی بحران پر وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔
نواز حکومت میں شریف فیملی اور پیپلز پارٹی حکومت میں زرداری فیملی اور چند کاروباری گروپوں کے مالی مفادات کا خیال رکھا جاتا تھا، پی ٹی آئی ملک میں سرگرم تمام مافیاؤں کا مجموعہ بنا کر قائم کی گئی اور پھر اسے حکومت میں لایا گیا، پی ٹی آئی حکومت میں جو لابی غالب آتی ہے وہ اپنی مرضی کا فیصلہ کروادیتی ہے۔

خسرو بختیار پر نیب کا کیس تھا اس کے باوجود انہیں وزیر بنادیا گیا، یہ اس حکومت کی خاصیت ہے کہ چوری کرے پھر اس کا کریڈٹ بھی لے۔ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی اپنے دور میں دی گئی سبسڈی کو اپنا نہیں ای سی سی اور وفاقی کابینہ کا فیصلہ قرار دے کر پہلو بچاجاتے ہیں لیکن یہاں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو مجرم قرار دے رہے ہیں۔
پی ٹی آئی اور ن لیگ پیپلز پارٹی برابر نہیں ہوسکتیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے نہ اپنے ادوار میں چینی بحران کی انکوائری کروائی نہ رپورٹ سامنے لائے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کی اپنی شوگرملیں ہیں۔
دونوں اپنے ادوار میں نہ صرف شوگر مل مالکان کو سبسڈی دیتے رہے بلکہ سات دفعہ ایکسپورٹ کی اجازت بھی دی، شوگر ملوں کو ملنے والی پچیس ارب روپے کی سبسڈی اس میں ایک ارب 47کروڑ ہاؤس آف شریف کو اور 90کروڑ اومنی گروپ کو ملا۔