گلگت بلتستان منتظرہے

جب میں جوا ں تھاتوشاہراہ قراقرام کارخ کیاکرتاتھاجوبھارت،پاکستان اورچین کی سرحدو ں پرواقع ہے اپنی بہترین چھٹیاں میںنے ان پہاڑی سلسلوں میں بسرکیں،کوہ نوردی کیلئے یہ دنیاکے بہترین مقامات میں سے ایک ہے ،یہاں دنیاکی بلندچوٹیاں ہیں،24000فٹ سے بھی زیادہ اونچی ،ان میں دنیاکادوسراسب سے بلندپہاڑکے ٹوبھی شامل ہے،یہی دنیاکی چھت ہے 9000فٹ کی بلندی پرڈومل وادی سے بڑھ کردنیامیں کوئی خوبصورت جگہ میں نے نہیں دیکھی،جہاں سرمامیں ا سکیئنگ کے برف پرپھسلنے کے مقابلے منعقدکراتے ہیں،اب کاحال معلوم نہیں لیکن تب سیاح وہاں نہیں جاتے تھے شہروں سے شوروشغب سے دور،ایک دودھیاپانی والی ندی کے دونوں طرف پھیلی وسعتوں کوسرخ اورسفیدپھولوں نے ڈھانپ رکھاتھا،ہرصبح جاگ کرمیں نظارہ کیاکرتااوراپنے آپ سے کہتایہی توجنت ہے ،خودکومجھے یقین دلاناپڑتاکہ میں خواب تونہیں دیکھ رہااس علاقے کے لوگ پرتپاک اوردوستانہ مزاج رکھتے ہیں،جدیدسیاحت زدہ علاقوں کے تصنع سے پاک،اس سفرکے دوران دوجیپوں میں سے ایک خراب ہوگئی ایک نوجوان نے پیشکش کی کہ شب بسری کیلئے ہم اس کے گائوں چلیں،چالیس منٹ کے بعدہم ایک زمردیں جھیل کے کنارے صنوبرکے درختوں سے گھرے ایک گائوں میں پہنچے بہت ہی لذیذکھاناانہوںنے پیش کیا،جس میں کھمبیاں شامل تھیں،آج تک پھرایسادسترخوان نہ دیکھا،چودھویںکی چاندنے جادوساکررکھاتھا،
صنوبرکے درختوں میں ہوابہتی رہی جھیل کنارے رات بھرہم جاگتے رہے اس بے کراں جمال پہ حیران ،پاکستان کے شمالی علاقے سوئٹزرلینڈسے دوگنابڑے ہیں،کون جانے وہاں اس طرح کے کتنے ہی دلکش علاقے اورہیں،میں ہنزہ کی وادیوں میں بھی ایسے ہی تجربات سے گزرا،وہ بھی نہایت ہی حسین ہیں۔یہ الفاظ تھے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے،ان باتوں کاذکرعمران خان نے اپنی کتاب میں اورمیرا پاکستان میں کیاہے۔عمران خان نے 1967میں پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کادور ہ کیااور وہاں قدرتی حسن سے مالامال وادیوں کانظارہ کیا،یوں وہ گلگت بلتستان کی تعریف کیئے بغیرنہ رہ سکے،عمران خان دوسری مرتبہ سیاحتی دورے پر اگست 2016میں گلگت بلتستان پہنچے،وہ اسکردوبلتستان سے ہوتے ہوئے شگرفورڈکانظارہ کرتے ہوئے چھترون شگرکے گرم چشمے تک پہچے اور پھرواپسی کی راہ لے لی،اس دوران بھی گلگت بلتستان کے مہمان نوازلوگوںنے ان کاکھل کراستقبال کیا،لوگوں کی جانب سے تحفے تحائف بھی پیش کیئے گئے،مجھے امیدہے وہ اپنی دوسری تصنیف میں اسکاذکربھی ضرورکریں گے،اس کے علاوہ وہ سیاسی دوروں پرگلگت بلتستان کی طرف گاہے بگاہے گامزن ہوتے رہے ہیں،کیوں کہ گلگت بلتستان میں بھی ا ن کے چاہنے والوں کی بالکل بھی کمی نہیں ،اس سال الیکشن کے بعد گلگت بلتستان میں ان کی حکومت بنتی بھی نظرآرہی ہے،لیکن اس کے باوجودوزریراعظم بننے کے بعدوہ گلگت بلتستان سے بالکل خائف ہیں شایداس کی وجہ وہاں پران کی اپنی حکومت کانہ ہوناہے،اس بات کااندازہ موجودہ نازک صورتحال سے لگایاجاسکتاہے۔فروری میںدنیابھرکی طرح کروناوائرس پاکستان اورگلگت بلتستا ن میں پھیلاناشروع ہوگیا،گلگت بلتستان میںپہلاکیس 26فروری کوسامنے آیامتاثرہ شخص براستہ تفتان ایران سے اسلام آبادپہنچا تھا ،دوسراکیس 03مارچ کوسامنے آگیاگلگت سے تعلق رکھنے والی 45سالہ خاتون میں کروناوائر س پایا گیا،یوں یہ وائرس گلگت بلتستان بھرمیں پھیلنے لگا،اب حکومت کواس کی روک تھام کیلئے قدم اٹھاناپڑاکیونکہ گلگت بلتستان کے ہزاروں زائرین ایران سے آکرتفتان بارڈرپرقرنطینہ میں تھے،کچھ دنوں کی بات تھی حکومت گلگت بلتستان نے ان سب کواپنی تحویل میں لے کرگلگت اوربلتستان کے قرنطینہ سینٹروں میں شفٹ کردیا،وہاں پران کے ٹیسٹ ہوئے ان میں سے کچھ افرادکے ٹیسٹ مثبت آنے لگے اب صوبہ بھرمیں ایکٹیوکیسسزکی تعداد166ہوچکی ہے جبکہ ڈاکٹرسمیت تین افراداب تک اس وائرس کیوجہ سے دارفانی سے کوچ کرگئے ہیں۔آپ وفاقی حکومت کی بے رحمی کی انتہادیکھیں انہوںنے اس مشکل وقت میں گلگت بلتستان کے عوام کوتن وتنہاچھوڑدیاان کااندازہ آپکووہا ں کے ہسپتالوں کی حالت ،وزیراعلیٰ اوراسپیکرسمیت دیگروزراکی فریاد دیکھ کرہوگا،وزیراعلیٰ گلگت بلتستان چیخ چیخ کرہرٹی وی پروگرا م میں امدادکی اپیل کررہے ہیں یہ عوام کیلئے اپنی تنخوہیں دینے کیلئے تیارہیں،یہ لوگوں کی خاطرچین کاصوبہ سنکیانگ کے گورنرکوخصوصی خط لکھ کروینٹیلیٹرز مانگنے پرمجبورہیں،انکی کابینہ کے اسپیکرصاحب اقتداراعلیٰ کوخصوصی خط لکھ کرکہہ رے ہیںخداکیلئے گلگت بلتستان پررحم کریں،یہ لوگ مرجائیںگے ،آپ ان پرترس کھائیں انہیںورلڈبینک کی طرف سے ملنے والے رقم میں سے حصہ دے دیں،لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم صاحب ٹائیگرفورس بنانے میں مصروف ہیں،آخرسمجھ نہیں آتاکہ وہ اس مشکل وقت میں عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے کابینہ میں ردوبدل کیوں کررہے ہیں، جہانگیرترین کوچیئرمین ٹاسک فورس کے عہدے سے فارغ کررہے ہیں جبکہ جہانگیرترین میڈیاکے سامنے ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ وہ کسی ٹاسک فورس کے عہدے پرتھے ہی نہیں ،وہ اپنی ہی حکومت کوچیلنج کررہے ہیں کہ اگرمیں کسی عہدے پرتھا تواس کانوٹیفکیشن دکھادو،مطلب آپ یوں سمجھ لیجئے حکومت کے اوسان خطاہوگئے ہیں یایہ کروناوائرس سے عوام کی توجہ ہٹاناچاہتے ہیں۔حکومت گلگت بلتستان مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شابہ بشانہ کھڑے ہوکرہرطرح کی وسائل بروئے کارلانے کی کوشش کررہی ہے تاکہ صوبے میںاس مرض کے پھیلائوکوحتی الامکان روک سکیں،اس ضمن میں وزیراعلی کی کابینہ کااقدام لائق تحسین ہے انکے بہترانتظامات کااعتراف صوبے کے قرنطینہ سینٹروںمیں موجودافرادبھی کررہے ہیں،انہوںنے اپنی مددآپ کے تحت چین سے پانچ وینٹیلیٹرز،دوہزارN95ماسک ،دولاکھ فیس ماسک،دوہزار ٹیسٹنگ کٹس اوردوہزارمیڈیکل پروٹیکٹیوکٹس حاصل کرلیے ہیں۔لیکن یہ اب بھی حکومت پاکستان کی طرف دیکھ رہے کہ حکومت انکی آوازپرلبیک کب کہیں گے،مگرتبدیلی سرکارکے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔میری حکومت پاکستان سے بس اتنی گزارش ہے کہ آپ خداکیلئے انسانیت کے نام پرہی صحیح اس بے آئین صوبے کی طرف آنکھ اٹھاکردیکھیں،یہ لوگ بھی انسان ہیں یہ آپ کی مددکے طلب گارہیں،وہاں آپ کی حکومت نہیں ہے توکیاہوایہ آپ کوماضی کی طرح عزت دیتے ہیں،یہ تین دن کے اندراندرآپ کے ٹائیگرفورس کاحصہ بننے کیلئے سہولیات نہ ہونے کے باوجودفارم فل کرنے کیلئے بے قرارہیں،اب تک چارہزارسے زائدافراد آپ کے آوازپرلبیک کہہ چکے ہیں،یہ آپ کوعزت دیناچاہتے ہیں،یہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں،یہ قوم آپ کی اقدامات کے منتظرہے،اگرآپ کواس سوئٹزرلینڈکی قدرہے اگرآپ کے نزدیک اس جنت کی کوئی قیمت ہے تووہا ں کے مکینوں کی دیکھ بال بھی آپکی حکومت اورریاست کی ذمہ داری ہے جب آپ ان کی حفاظت کریں گے ان کی بہتری کیلئے اقدامات کریں گے تویہ لوگ اس سوئٹزرلینڈکی حفاظت کریں گے اورآپ اس کے سیاحتی مقامات سے خا طرخواہ منافع کماسکیں گے،خداکیلئے انکی امیدوں پرپانی مت پھیریں ۔Mumtaz- Abbas -Shigri-Nawaiwaqt