مولانا عبد الخالق ہمدرد کی چلبلی تحریر

کچھ گانوں کی تشریح وشریح

آزاد کشمیر میں پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر ہو اور آپ کو زبردستی گانے نہ سنائے جائیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے! چند روز قبل ایسے ہی ایک سفر کے دوران رات کو میری آنکھ کھلی تو گانے سنائے جا رہے تھے۔ ان میں سے کچھ نمونے پیش خدمت ہیں اور وہ بھی تشریح کے ساتھ۔ ان گانوں کے بعد میں دوبارہ نیند کی آغوش میں چلا گیا تھا اس لئے بعد میں چلنے والے گانوں پر تبصرہ نہیں کر سکتا۔
………………………………….
سجنا سوہنیاں او من موہنیاں
کیویں میں کجلاں پاواں انکھیاں چ تو وسنا ایں
شاعرانہ تخیل بھی بڑی عجیب چیز ہے۔ اب اس گانے کو دیکھ لیں کہ شاعر نے کیا کہا ہے۔ مجھے سجنا، سوہنیاں اور من موہنیاں سے کچھ لینا دینا نہیں وہ ہونے والی چیز ہے لیکن اعتراض اگلے جملے پر ہے کہ اس سجن کے آنکھوں میں بسنے کی وجہ سے ان میں کاجل نہیں لگائی جا سکتی۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ سجن اتنا دبلا پتلا اور شفاف ہے کہ آنکھ میں گھس گیا ہے یا آنکھ اتنی بڑی ہے کہ اس میں پورا سجن سما گیا۔ آنکھ نہ ہوئی کسی سرحد پر کھدی خندق ہو گئی لیکن جہاں اس میں پورا سجن سما گیا وہاں چار ذرے کالی دھول کے کیوں نہیں سما سکتے؟؟؟

………………………………….
سدھے دل وچ تیر نے مار دیاں
کے سوہنیاں اکھیاں یار دیاں
اس شاعر کو دیکھ لیں کہ یار کی آنکھوں کے بارے میں کہہ رہا ہے کہ وہ سیدھے دل میں تیر مارتی ہیں اور ساتھ ہی ان کو خوبصورت بھی کہہ رہا ہے۔ بھئی یہ آنکھیں ہیں یا تیر کمان؟ اگر ان سے تیر نکلتے ہیں تو اسے مر جانا چاہئے کیونکہ دل تو کانٹا برداشت نہیں کرسکتا، مسلسل تیر باری کا مقابلہ بھلا کیسے کرے گا؟ اسی طرح اگر آنکھیں کمان ہو جائیں گی تو ان میں کیا خوبی رہے گی؟ لگتا ہے کہ شاعر نے کمان نہیں دیکھی ہوگی، ورنہ ایسی بات ہرگز نہ کرتا۔
………………………………….
سانوں نہر والے پل تے بلا کے
ماہی آپ کتھے رہ گیا
اب اس کو سنیں کہ ماہی کا گلہ ہو رہا ہے کہ ہمیں نہر والے پل پر بلا کر وہ خود نجانے کہاں رہ گیا ہے! لگتا ہے یہ واقعہ موبائل فون کی ایجاد سے پہلے کا ہے کہ ماہی کے پاس فون نہیں تو پتہ کیسے چلے؟ یا پھر نہر والے پل پر آنے والی کے موبائل میں پیسے نہیں اور راز کی حفاظت کے لئے وہ کسی اور کے فون سے بات نہیں کر سکتی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ماہی کسی اور کے انتظار میں پل کے پار کھڑا ہے اور فون بند کیا ہوا ہے کیونکہ نامراد عاشق ایسے ہی ہوتے ہیں۔ آخری بات یہ کہ اوباش آدمی کسی کو نہر والے پل پر ہی بلا سکتا ہے شاہجہان کے محل میں نہیں۔

………………………………….
دھیرے دھیرے میری زندگی میں آنا
دھیرے دھیرے دل کو چرانا
اس گانے میں بتایا جا رہا ہے کہ لڑکی کی زندگی میں کیسے آنا اور دل چرانا ہے کہ یہ کام دھیرے دھیرے اور رفتہ رفتہ ہوگا۔ یہ بتانے والی لڑکی ہے۔ اسی کو پنجابی میں کہتے ہیں کہ “کتی چوراں نال ملی ہوئی اے”. اردو میں اس کے لئے مثال ہے کہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔ جب آپ چور کو رستہ بتائیں گے تو وہ چوری کیوں نہ کرے گا؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ نسخہ پیش کرنے کے بعد چور اگر چوری کرے تو اسے ملامت کرنے کی بجائے اپنے آپ کو دوش دینا چاہئے کہ ‘این ہمہ آوردہء توست’. جب اس طرح کے گانے بنائے اور گائے جائیں گے تو ان کی وجہ سے لڑکیاں بہت ہوشیار اور پاکدامن ہو جائیں گی اور وہ کبھی کسی کے ہاتھوں نہیں لٹیں گی۔
………………………………….
دل تو پاگل ہے دل دیوانہ ہے
ہنساتا ہے یہی، یہی رلاتا ہے
فلمی گیت بھی عجیب چیز ہے۔ آدمی ذرا سوچے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کو گوئے کسی طرح کھینچ تان کے وزن پر پورا کرتے ہیں اور ان میں جو باتیں بیان کی جاتی ہیں وہ بھی فلمی ہوتی ہیں۔
اس گانے کو دیکھ لیں کہ دل تو پاگل ہے۔ گویا دل گوشت کا ٹکڑا نہ ہوا کوئی اوباش لڑکا ہو گیا جو بال بکھیرے، چست اور تیسری جنس جیسا لباس پہن کر سڑکوں پر مٹر گشت کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کو سمجھانا فضول ہے۔ ان کی جگہ پاگل خانہ ہے۔ وہاں چند روز رہ لیں تو ہوش ٹھکانے آ جائیں۔ سو مشورہ یہ ہے کہ اگر دل دیوانہ ہے تو اس سے جان چھڑانے میں ہی خیر ہے کیونکہ بات آگے بڑھ جائے تو نقصان کا خدشہ ہے۔

………………………………….
دل دیوانہ نہ جانے کہاں کھو گیا
تو نے ایسے دیکھا کہ کچھ ہو گیا
یہ بھی ایک گانا ہے اور گانے والا کیسا بیوقوف ہے کہ اسے پتہ ہی نہیں چل سکا کہ دل کہاں کھو گیا لیکن وہ گانے کے لئے زندہ سلامت ہے حالانکہ دل کھو جانا تو دور کی بات دل میں درد ہو جائے تو آدمی اگلے جہان سدھار جاتا ہے۔ اس لئے دو باتوں میں سے ایک ہو سکتی ہے کہ یا تو دل کھویا نہیں یا دیوانہ نہیں۔
………………………………….
زندہ رہنے کے لئے تیری قسم
اک ملاقات ضروری ہے صنم
اس گانے پر غور فرمائیے کہ زندہ رہنے کے لئے ایک ملاقات ضروری قرار دی جا رہی ہے اور وہ بھی تیری قسم کھا کر۔ عجیب بات ہے کہ زندہ رہنے کے لئے ملاقات ضروری ہے لیکن وہ اب تک ملاقات کے بغیر بھی زندہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ملاقات کوئی ضروری نہیں ورنہ یہ عاشق نامراد اب تک تہ خاک ہو چکا ہوتا۔

………………………………….
گھونگھٹ کی آڑ سے دلبر کا دیدار ادھورا رہتا ہے
جب تک نہ ملے نظروں سے نظر سنگھار ادھورا رہتا ہے
اس گانے کا پہلا مصرعہ درست ہے کیونکہ گھونگھٹ کی آڑ سے واقعی دیدار ادھورا رہے گا کیونکہ اگر گھونگھٹ کا کپڑا موٹا ہو تو نظر آر پار نہیں ہو سکتی لیکن اس میں بھی ایک مسئلہ ہے کہ اگر گھونگھٹ پتلا اور جالیدار ہو تو کیا ہوگا؟ اس میں تو دیدار کافی حد ہو جائے گا۔
اس میں دوسری بات فضول سی ہے کہ نظروں سے نظر ملائے بغیر سنگھار ادھورا رہتا ہے۔ بھئی سنگھار سے تو دیدار میں خلل پیدا ہو سکتا ہے کہ جب چہرے پر سرخی پاؤڈر کا آدھی انچ کا پلستر ہوگا تو وہ تو گھونگھٹ سے بھی زیادہ موٹا ہو جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ نظروں سے نظر ملنے کے بغیر سنگھار کیسے ادھورا رہتا ہے؟؟؟!
………………………………….(ھمدردیات)