کہاں آپ جناب، کہاں وہ بھوکے بنگالی

جیسے ہی کورونا وائرس چین کے اک شہر میں پھیلا ویسے ہی بنگلہ ديش کی وزير اعظم شيخ حسينہ واجد نے پورا بنگلہ ديش مکمل لاک ڈاٶن کر دیا۔
مساجد بند، کسی پیشہ ور ملا کی مجال نہیں کہ اس پر کوئی احتجاج کرے،
شهر بند، ذرائع آمد و رفت بند، کسی کی دلالی یونین کی مجال نہیں جو چوں بھی کرے۔
ریاست کی ذمہ داری تھی کہ لوگوں کو گھر بیٹھے راشن پہنچائے
تو
کمشنرز ، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کے ذریعے بلا کسی تعطل کے راشن گھر گھر پہنچا۔
کیوں ؟
کیونکہ
حکومت نے واضح اعلان کیا تھا کہ اگر کسی سرکاری اہلکار نے راشن سپلائی کے عمل میں رتی برابر بھی بے ایمانی کی
تو ان کی کھال اتار لی جائے گی،
نوکری سے الگ ہاتھ دھونا پڑے گا،
باقی زندگی جیل میں سڑے گا وہ الگ،
اب آپ پوچھیں گے کہ بھائی ! اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟
نتيجہ یہ نکلا کہ
اٹھارہ کروڑ کی آبادی کے حامل ملک میں
ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور ہسپتالوں کے پاس
مکمل حفاظتی سامان
اور
بہترين علاج کی سہولیات
نه صرف روڈ ايمبولينس سروسز بہتر بلکہ ندیوں اور دریاٶں کے کنارے آباد لوگوں کے لئے لانچز اور بڑی کشتیوں پر بنی جدید ایمبولینسز ہر وقت متحرک۔
بنگلہ ديش میں کورونا وائرس کے کل 70 کيسز رپورٹ ہوئے
ان میں سے 30 صحت مند ہو کر گھر روانہ ہوگئے۔
صرف 8 اموات ہوئیں۔
باقی 32 لوگوں کا علاج جاری ہے جن کی حالت امید افزاء ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ “سور کے بچے” ، ” ڈیڑھ فٹے، بونے، بھوکے بنگالی” کہ جن کے جسموں سے آپ کو مچھلی ، پٹ سن اور باردانے کی بد بو آتی تھی وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔؟؟
تو سنیں !!!!!
وہ ایسا اس لئے کر سکتے ہیں کہ جناب
وہ اب آپ کی کالونی نہیں اک آزاد بنگلہ دیش کے آزاد بنگلہ دیشی ہیں۔