کرونا اس وقت پوری دنیا میں تباہی مچا رہا ہے لیکن سوائے ایک دو ممالک کے کسی نے بھی فوج کو نہیں بلایا

نوٹ :اے پروردگار تیری ذات غفور الرحیم ہے۔ہمارے گناہ معاف فرما اور ہم پر رحم فرما۔آمین!
قدرتی آفات، بیماریاں، وبائیں ہر دور میں نازل ہوتی رہی ہیں اور انسان مقابلہ کرتا رہا ہے لیکن یہ وبائیں اور یہ آفات دنیا کے کسی ایک ملک یا ایک حصے میں تباہی کا موجب بنتی رہیں۔ بہت ہوا تو چند ممالک ہی ان کی لپیٹ میں آتے جیسا کہ طاعون اور چیچک کی وبائوں سے ہوا تھا لیکن خوش قسمتی یہ تھی کہ انسان نے نہ صرف ان وبائوں کا مقابلہ کیا بلکہ علاج بھی تلاش کر لیا۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ کوئی ایک وبا پوری دنیا میں پھیل جائے جسکا علاج بھی نہ ملے جیسے اب ہوا ہے۔ ہر جگہ موت دندناتی پھر رہی ہے۔ انسان اس طرح مر رہے ہیں جیسے خزاں میں درختوں کے پتے گرتے ہیں۔ اس بیماری میں چھوٹے بڑے کی تمیز ہے نہ غریب امیر کی۔
کرونا بڑی تیزی سے پھیلا ہے اور اب تک اس نے دنیا کے کسی ملک کو معاف نہیں کیا۔ امیر یا غریب دنیا کے تمام ممالک اپنے اپنے وسائل کے مطابق اس موذی مرض سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ ان میں پاکستان بھی شامل ہے جہاں یہ اب بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں کرونا باہر سے آیا ہے جسکے شاید ہم خود ذمہ دارہیں۔ ہماری ابتدائی لاپرواہی، نا اہلی اور کرپشن ہمیں لے ڈوبی جس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ۔ اب ہم ہاتھ پائوں ما رہے ہیں جب یہ ہمارے ملک میں شدت اختیار کر چکا ہے اور ہمارے وسائل اتنے نہیں کہ ہم اس سے چین کی طرح مقابلہ کر سکیں۔ لہٰذا اس کے لئے بھی ہمیں دوسرے ممالک خصوصاً چین کی مدد پر انحصار کرنا پڑرہا ہے۔ جیسے مرحوم جسٹس ایم آر کیانی نے کہا تھا کہ ’’جب مصیبت آتی ہے تو یہ اکیلی نہیں آتی بلکہ بٹالینز کی شکل میں آتی ہے‘‘بد قسمتی سے اس وقت ہم بھی بہت سے مصائب میں گھرے ہیں۔ پہلی مصیبت تو یہ ہے کہ ہمارے پاس وسائل کی شدید کمی ہے تو یوں کھل کر اس موذی مرض سے نہیں لڑ سکتے۔ پھر ہمارے ملک میں طبی سہولتیں بھی بہت کم ہیں یہاں تک کہ ڈاکٹروں کے لئے حفاظتی لباس اور ماسک تک نہیں ہیں۔ اس لئے کرونا کا علاج کرنے والے کچھ ڈاکٹرز بھی کرونا کے شکار ہو کر موت کے منہ میںجا چکے ہیں۔ ان للہ و انا الیہ راجعون۔ٹیسٹنگ کٹس اور ادویات نہیں ہیں جس وجہ سے ہم ہر مشتبہ آدمی کا ٹیسٹ کر ہی نہیں سکتے۔ پھر ہماری تیس فیصد آبادی غریب اور دیہاڑی دار ہے جو اب لاک ڈائون ہونے کی وجہ سے روٹی سے بھی مجبور ہے۔حکومتی امداد گو شروع تو ہو گئی ہے لیکن خدا جانے سب کو ملتی بھی ہے یا نہیںیا پھر اسے بانٹنے والے کھا جائیں گے ۔مزید مصیبت یہ کہ ہمارے نیک ، خدا ترس، غریبوں کے ہمدرد اور عبادت گزار تاجروں نے بازار سے چیزیں غائب کرکے مہنگائی آسمان تک پہنچا دی ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ ہمارے پاس گندم وافر موجود ہے لیکن بازاروں اور سیل پوائنٹس پر آٹا نایاب ہے اور اگر کہیں چوری چھپے ملتا بھی ہے تو80روپے کلو سے بھی زیادہ قیمت میں ملتا ہے۔ غریب آدمی کہاں جائے؟ کراچی میں کرونا کے ساتھ ساتھ کانگو وائرس بھی تشریف لے آیا ہے۔ گرمیاں آرہی ہیں معلوم نہیں ڈینگی کیا رنگ دکھاتا ہے۔ دولتمند لوگوں کو تو پرواہ نہیں۔ یہ سب مصائب صرف غریبوں کے لئے ہیں۔’’ ایک دیہاتی نے سچ کہا تھا غریبوں پر آفتیں بھی زیادہ آتی ہیں‘‘ ہماری معیشت تو پہلے ہی کرونا کی شکار ہے۔ ڈالر نے ایک دفعہ پھر روپے کی پھینٹی لگا دی ہے۔مزید بد قسمتی کہ بے موسمی بارشوں اور اولوں نے باغات اور گندم کی تیار فصلیں تباہ کر دی ہیں۔ کسان رو رہے ہیں۔ بے موسمی سیلاب نے بھی تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔مستقبل کافی تکلیف دہ نظر آتا ہے۔
اس وقت پورے ملک میں لاک ڈائون ہے اور تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ حتی الوسع اپنے عوام کو اس خطرناک بیماری سے بچانے کے لئے کوشاں ہیں۔ بد قسمتی سے یہ وہ موذی بیماری ہے جو علاج سے زیادہ احتیاط اور پرہیز کی متقاضی ہے۔ جیسا کہ ایک اخباری خبرکے مطابق مردان کے کسی گائوں کا ایک شخص عمرہ کرکے بیماری لے آیا۔ گائوں میں سب لوگوں سے گلے ملے۔ سب لوگوں کی دعوت کی۔ اب پورا گائوں بیمار ہواپڑا ہے۔ اسی طرح شمالی علاقے جات میں چند زائرین ایران سے انفیکٹ ہو کر آئے اور اب شمالی علاقہ جات میں مشتبہ افراد کی تعداد225 تک پہنچ گئی ہے ۔ نجانے اس کالم کی اشاعت تک اور کتنے بد قسمت لوگ اس بیماری سے متاثر ہوں گے۔ اتنے زیادہ لوگوں کے لئے اتنا بڑا قرنطینہ کیسے اور کہاں بنے گا اور ان لوگوں کا علاج کیسے ہوگا کیونکہ ان علاقوں میں تو طبی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ وہاں کے لوگ پہلے ہی علاج معالجے کے لیے پنڈی اسلام آباد آتے ہیں۔وہاں پہلے ہی ایک نوجوان ڈاکٹر کرونا کا علاج کرتے کرتے خود کرونا میں مبتلا ہو کر شہید ہو چکا ہے۔چونکہ اس وبا کا سب سے بڑا علاج ذاتی احتیاط ہے اس لیے لاک ڈائون حکومت کی مجبوری بن گیا لیکن نجانے کیوں ہمارے لوگ اس لاک ڈائون کی پابندی کرنے میں بھی ناکام رہے۔ پولیس اور دیگر سرکاری ادارے بھی لاک ڈائون پر عمل نہ کر اسکے لہٰذا فوج کو امداد کے لیے بلایا گیا۔
ویسے بھی ہمارے ملک میں روایت بن گئی ہے کہ ہر مشکل میں فوج کو بلایا جاتا ہے ۔ زلزلہ ہو یا سیلاب یا کوئی اور آفت آخری معرکہ فوج ہی کو لڑنا پڑتا ہے۔ یہ کام تو سول اداروں کا ہے وہ کیوں نہیں اپنا کام کرتے۔ کیا واقعی ہمارے سول ادارے اتنے کمزور ، بے بس اور نا اہل ہیں کہ وہ عام کرائسس سنبھال ہی نہیں سکتے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو ہماری حکومتیں کیوں ان اداروں کی اصلاح نہیں کرتیں۔ کرونا اس وقت پوری دنیا میں تباہی مچا رہا ہے لیکن سوائے ایک دو ممالک کے کسی نے بھی فوج کو نہیں بلایا۔ یاد رہے کہ فوج کو جب سول ڈیوٹی کے لئے بلایا جاتا ہے تو اسے اپنی ٹریننگ اور فرائض چھوڑ کر ایسی ڈیوٹیوں کے لئے آنا پڑتا ہے۔ بہرحال خوشی کی بات یہ ہے کہ فوج کے آنے سے ہماری عوام بہت مطمئن ہوجاتی ہے اور فوج کے احکامات کو قبول بھی کرتی ہے۔ فوج کے کہنے پر ڈسپلن اور تعاون کا مظاہرہ کرتی ہے۔ فوج کے ساتھ ملکر سول ادارے بھی مستعدی سے اپنے فرائض سر انجام دینا شروع کر دیتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام کو بھی احساس ہوتا ہے کہ یہ ہماری اپنی فوج ہے۔ ہم میں سے ہی ہے اور آفات کی صورت میں ہر وقت ہماری مدد کو پہنچتی ہے۔ ہمیں نہ صرف بیرونی دشمن سے تحفظ دیتی ہے بلکہ مصائب کی صورت میں بھی ہمدرد والدین کی طرح ہماری حفاظت کرتی ہے۔لہٰذا پاکستان فوج زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد۔Sikandar-Khan-Baloch-Nawaiwaqt