قابل احترام وزیراعظم ۔ نہ پہلے دور کی عوامی ۔ فلاحی سیکمیں بُری تھیں نہ موجودہ ۔ اُن کاجو حشر ہوا۔ سامنے ہے

آپ کے قوم کے درد کا اظہار کرتے جذبات۔ دکھ کم کرنے اور ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات کو ظاہر کرتے جوش کو سلام۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ۔ کرپشن مافیا کے خلاف22 سالہ طویل جنگ ۔ جدوجہد کا مرکزی پتھر ۔ اکثریت پکڑی گئی جیلیں کاٹیں ۔ یہ بھی چھوٹی بات نہیں ۔ 75 سالہ تاریخ کا انوکھا منظر ۔ جیلیوں نے کرپشن مافیا کے طاقتور سیاسی کرداروں کو دیکھا ۔ پر سب چھوٹ گئے ۔ ثابت نہ کرسکے ۔ سب سے بڑی بد قسمتی ۔ الزام جھوٹ تھا تو پکڑنے والوں کی گرفت کریں ۔ اگر ملی بھگت ہے تو بھی ذمہ داران کو سزا دیں ۔ تازہ گندم چینی کرپشن رپورٹ۔ واقعی ایک اور وعدہ پورا کر دیا۔آپ کے عزم کو سیلوٹ۔ قوم مافیا کارٹلزکے خلاف جنگ میں آپ کے ساتھ کھڑی ہے اور ہمیشہ آپ کا ساتھ دے گی۔ مگر کِسی رپورٹ کا اجراء ۔ انکشاف بڑی بات ہے نہ نئی ۔ گزشتہ چند سالوں میں کیا کچھ نہیں دیکھا۔ سُنا ۔ کہاں گئے وہ سب کراچی سے بلوچستان کے پہاڑوں تک کی کہانیاں خوفناک انکشافات ۔ اصل ذمہ داری سزا کا نفاذ ہے ۔ ملی بھگت ۔ ریکار ڈ میں ہیر پھیر ۔ ہماری قومی تاریخ کا لازمی حصہ بن چکے ہیں ۔ تفتیشی اداروں میں ایماندار افسران لگائیں ۔ پھر دیکھیں نتائج ۔ پہلے والی بیکار مشق کی بجائے تازہ کرپشن کے ذمہ داران سے اصل زر بمعہ ڈبل جرمانہ وصول کریں اور عوام کو ریلیف منتقل کر دیں ۔Mussarat-Qayyum-Nawaiwaqt
قابل احترام وزیراعظم ۔ نہ پہلے دور کی عوامی ۔ فلاحی سیکمیں بُری تھیں نہ موجودہ ۔ اُن کاجو حشر ہوا۔ سامنے ہے ۔ لمحہ موجودکی جو حشر نشر کرینگی وہ بھی جلد سامنے آجائے گا ۔ دو کا مختصراً ذکر۔(1) گرین پاکستان ۔ کروڑوں درخت لگ گئے ۔ اس کے بعد؟ کِسی نے چیک کیا وہ سر سبز ہیں یا سُوکھ گئے؟ (2) پنا ہ گاہیں۔ پوری سرکاری مشینری سب بھول بھال اِس پر مصروف ہوگئی ۔ بہت اچھا اقدام ، اگر پناہ گاہیں موثر کام کر رہی تھیں تو پھر اِس موقع پر پوری قوم کو راشن۔ نقدی تقسیم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ بجا کہ تعداد کم۔ اِس کو زیادہ وسیع کیا جاسکتا تھا مگر ہمارے نزدیک یہ تمام کاوشیں وقتی اقدام ۔ ایسی تدبیر جو کسی بیماری کا وقتی علاج تو کرتی ہے مگر مستقل تدارک نہیں ۔ آپ کی دیانت، اہلیت پر کوئی شبہ نہیں آپ تو خود اِن کو “شو بازیاں” قرار دیتے تھے ۔ نوجوانوں کو مچھلی دینے کی بجائے کانٹا پکڑنے کی تلقین کرتے رہے ہیں ۔ حالیہ دنوں” ٹائیگر فورس “کا قیام ۔ہم پر مزید بوجھ ۔ظاہر ہے پیسہ عوام کی جیب سے نکلنا ہے۔ موزوں رہیگا فیصلے سے رجوع کر لیں ۔ ریاست کے پاس منظم نظام ہے ۔ اساتذہ ۔ بلدیاتی ملازمین وغیرہ وغیرہ ۔ سرکاری تنخواہیں وصول کرنے والی بہت بڑی افرادی قوت ۔ پولیو۔ الیکشن سبھی مہمات میں متذکرہ بالا طبقات کی خدمات سے استفادہ کیا جاتا رہا ہے اور رہے گا تو متوازی فورس کھڑی کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ویسے بھی پوری قوم ٹائیگر ہے۔ لاک ڈاوٗن کے دوسرے دن شہر بھر کی سٹرکیں مانگنے والوں سے بھر گئی تھیں۔ ایک دن میں تو سب ختم نہیں ہو جاتا۔ موٹر سائیکلوں پر تھیلے باندھے ۔ کانوں پر موبائل آن ۔غریب ۔ دیہاڑی دار کی مسلسل سر کاری تکرار سے روایتی پیشہ وار بھکاری خود کو مظلوم۔ حقدار تصور کر کے مار پیٹ ۔ چھینا جھپٹی پر آچکے ہیں۔ حکومتی امداد ۔ مخیر راشن سبھی کا بہاوٗ اِس طرف ہے پھر بھی یہ لوگ خوش نہیں ۔ تاجروں سے پوچھ لیں۔ گھروں دوکانوں ۔ فیکٹریوں والوں کی اکثریت نے اپنے ملازمین کو فارغ نہیں کیا ۔ یہ طبقہ ہمیشہ کی طرح محض غربت کا لیبل لگا کر اب بھی سب سے زیادہ فوائد سمیٹ رہا ہے۔ کام بند ۔ تنخواہیں جاری ۔ شدید متاثر درمیانہ طبقہ تو عزت بچانے کی تگ و دو میں مصروف گھروں میں مقید ہے۔ یہ مانگ بھی نہیں سکتے حتیٰ کہ قریبی عزیز داروں سے بھی نہیں ۔
سرکاری تقاریر کی حد تک منظر ہرا بھرا نظر آتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے “وبائ” تو کیا سطح پاکستان پر کوئی مسئلہ نہیں ۔ امدادی سامان ۔ رقوم کے گراف سُن کر دل خوش ہوگیا مگر جب ہاتھ پیٹ پر لگا تو محسوس ہوا کہ یہ تو بالکل خالی ہے یہاں تو کِسی سرکاری فرمان ۔ ریلیف کا گزر نہیں ہوا ۔ حکومت مجموعی تالیف ۔ داد رسی کا اہتمام کرے ۔ پہلے سے مانگ کر گزارہ کرنے والوں کی تعداد بڑھانے کی بجائے 3.2″ “ماہ کے لیے پٹرول ۔ گیس ۔ بجلی کی قیمتوں میں%” 50 “کمی کر دے ۔ مزید براں بجلی ۔ گیس کے بلز “3.2” ماہ کے لیے معاف کر دے ۔ ہزار مرتبہ بھی لکھنا پڑا تو پچھلے 6 سال کی طرح لکھوں گی کہ متذکرہ بالا ریلیف حقیقی ۔ پائیدار حل ہے۔ آپ کی ساری باتیں درست ۔ بلاشبہ آپ کی پوری توجہ اِس “وبائ” کے تدارک پر مرکوز ہے ۔ یہ بہترین ۔ سنہری موقع ہے جو قدرت نے گھر بیٹھے فراہم کر دیا ۔ ملکی ساختہ سامان کی صنعت کی سر پرستی کا بیڑہ اُٹھالیں ۔ صحت عامہ کے شعبے کی تمام ضروریات حفاظتی لباس۔ سینی ٹائزر ۔ ماسک وغیرہ کی تیاری کے لیے P.O.F” فیکٹری” سے مدد لیں ۔ تعمیراتی پیکج۔ کچھ ٹیکس ختم کرنے کے اعلانات قابل ستائش ہیں۔ غربت ختم کرنے کا واحد حل معاشی داد رسی ہے۔ ملکی ساختہ غذائی و صنعتی اشیاء کی حوصلہ افزائی کریں ۔ چیزیں بنیں گی تو پلازے ۔ دوکانیں کرائے پر چڑھیں گے ۔جناب وزیر اعظم عوامی بہبود کی پہلی سکیمیں بُری تھیں نہ موجودہ بُری ہیں اصل ضرورت سیکیموں کی موثر نگرانی کی ہے ۔جب تک چیک اینڈ بیلنس نہ ہو مفید اثرات معاشرے تک منتقل نہیں ہو سکتے ۔