وفاقی وزیر علی زیدی کیسے کے پی ٹی کے معاملات میں مداخلت کرسکتا ہے ؟اسلام آبادہائیکورٹ

اسلام آبادہائیکورٹ نے وفاق کی طرف سے چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل(ر) جمیل اختر کو عہدے سے ہٹانے پرحکم امتناع میں 16 اپریل تک توسیع کردی اوروفاقی وزیرعلی زیدی اور سیکرٹری میری ٹائم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری جواب طلب کرلیا۔ دوران سمات عدالت نے وفاقی وزیر علی زیدی کی کراچی پورٹ ٹرسٹ کے معاملات میں مداخلت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہاکہ عدالت کی معاونت کی جائے کہ وفاقی وزیر کیسے کے پی ٹی کے معاملات میں مداخلت کرسکتا ہے ؟ یڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھرنے کہاجنوری 2017 کے نوٹیفکیشن کے مطابق جمیل اختر کی تعیناتی 2 سال کیلئے ہوئی، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ آپ عدالت کو گمراہ کر رہے ہیں،یہ تسلیم شدہ حقائق ہے کہ وفاقی کابینہ نے 3سال کیلئے چیئرمین کو تعینات کیا تھا،اس کا مطلب ہے کہ دوسال کی مدت والا دوسرا نوٹیفکیشن جعلی بنایا گیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ حکومت کو وقت دے رہے ہیں، معاملے کا ازسر نو جائزہ لیکر عدالت کی معاونت کریں۔علاوہ ازیں اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے کرونا لاک ڈاون کے باعث بلوں کی ادائیگی میں مشکلات سے متعلق مقامی سیمنٹ فیکٹری کی طرف سے ریلیف کی درخواست پرمقامی سیمنٹ فیکٹری کو15اپریل تک 33 فیصد بل کی ادئیگی کی مشروط اجازت دیتے ہوئے آئیسکو کو باقی رقم وصول کرنے سے روک دیا اور قرار دیا کہ ریلیف لینے والی سیمنٹ فیکٹری بھی پابند ہوگی کہ لاک ڈائون کے باعث کسی ملازم یا روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے کو نوکری سے فارغ نہیں کیا جائے گا۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہاکہ حکومت کی ذمہ داری ہے وہ ان حالات میں ملازمین کی نوکریاں بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے ۔عدالت نے کیس کی سماعت 17 اپریل تک ملتوی کردی۔دریں اثنااسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے شہری کی طرف سے نجی بینکوں کو قرضوں کی اقساط کی وصولی سے روکنے کے لیے سادہ کاغذپر لکھی درخواست کورٹ پٹیشن میں تبدیل کرتے ہوئے آج سماعت کیلئے مقرر کرنے کی ہدایت کردی۔