بلاشبہْ عوام شدید معاشی پریشانی کا شکار ہیں اور بےچینی سے کاروبارِ زندگی بحال ہونے کا انتظار کریے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی اس سلسلہ میں دباوُ کا شکار ہیں ۔

بلاشبہْ عوام شدید معاشی پریشانی کا شکار ہیں اور بےچینی سے کاروبارِ زندگی بحال ہونے کا انتظار کریے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی اس سلسلہ میں دباوُ کا شکار ہیں ۔

تاہم احتیاط اور حفاظتی تدابیر کو ملحوظِ خاطر رکھنا ہوگا ورنہ خدشہ ہےکہ اچانک، بےپرواہ اور بڑے پیمانہ پر خرید وفروخت اور آزادانہ میل جول سے اب تک کی گئی تمام محنت اکارت چلی جائے گی جو خاکم بدہن خطرناک نتائج کا باعث ہوسکتا ہے۔

اس ضمن میں صوبہ سندھ کے حوالہ سے تجویز یہ ہے کہ بازاروں کو اگرچہ محدود وقت کا پابند کرنےکے ساتھ لیکن ایک ہی دن کھولنے کے بجائے انکو مرحلہ وار یعنی ٹاوُن کے لحاظ سے کھولا جائے۔

مثال کے طور پر ١۵ اپریل کو صدر اور گلشن ٹاوُن کے بازاروں اور دفاتر کو مکمل طور پر اور مکمل کاروباری اوقات کیلئے کھول دیا جائے اور اگلے روز کوئی اور علاقہ۔

اگر صرف دس دن یعنی ١۵ سے ٢۵ اپریل تک “متبادل علاقہ” کی تجویز پر عمل درآمد ہوسکے تو شہروں میں ہجوم کے ذریعہ کورونا وائرس کو بڑھنے سے روکا جاسکے گا اور اس دوران حکومت سندھ کو دورانِ کاروبار حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کے مواقع بھی میسرُ ہونگے۔ البتہ صنعتی اداروں کو حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہونا چائیے۔

بہرحال اس تجویز کے قابلِ عمل ہونے کا فیصلہ وزیرِ اعلیٰ جناب مراد علی شاہ ہی کرسکتے ہیں جنہوں نےکورونا بحران میں ابتک بروقت اور لائق تحسین اقدامات لئیے ہیں۔
آصف شیخ جاوید

#احتیاط ہی علاج ہے