بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے حوالے سے تین کیٹیگریز پر کام

اکستان کے وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات  میں 20 ہزار پاکستانیوں کی نوکریاں ختم ہو گئی ہے۔
مقامی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ہوا بازی نے بتایا کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے حوالے سے تین کیٹیگریز پر کام کر رہے ہیں۔
’سب سے پہلی کیٹیگری سیاحت یا بزنس ویزے پر مختلف ممالک میں گئے ہوئے وہ پاکستانی ہیں جو فلائٹ آپریشن منسوخ ہونے کے باعث پھنس گئے اور ان ویزے ختم ہوچکے یا ختم ہونے والے ہیں
ان کا کہنا ہے کہ دوسری کیٹیگری ان طلبا کی ہے جو مختلف ممالک کی یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہیں لیکن موجودہ حالات میں ایک طرف یونیورسٹیاں بند ہیں تو دوسری جانب لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
’اس لیے ان کو واپس لانا مجبوری ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ تیسری کیٹیگری ان پاکستانیوں کی ہے جو بیرون ملک رہائش پذیر ہیں اور پاکستان آنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پہلی دو کیٹیگریز کو لانے کے لیے 39 فلائٹس کا شیڈول ترتیب دیا جا رہا ہے۔
’لیکن تیسری کیٹیگری کے لوگوں کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں۔ کیونکہ وہ جن ممالک میں ہیں وہاں پاکستان سے بہتر طبی سہولیات موجود ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اب تک 18 سو سے زائد پاکستانی وطن واپس لائے جا چکے ہیں اور چھ ہزار سے زائد کو لانا ابھی باقی ہے۔
’اس کے بعد نوکریوں سے نکالے جانے والوں کو لانے کا پروگرام ترتیب دیں گے۔‘
 
غلام سرور خان نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارے شہری ہیں پاکستان آنا ان کا حق ہے لیکن اس وقت جو صورت حال ہے اور وزارت صحت بار بار کہہ رہی ہے کہ لگ ایسا رہا ہے ہم کورونا درآمد کر رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کورونا کیسز میں اضافے کے جس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں وہ وزارت صحت اور عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کو مدنظر رکھ کر اخذ کیا گیا ہے۔
’اگر موجودہ صورت حال کو دیکھیں تو سمجھ آتی ہے کہ پاکستان میں کیسز اسی ٹرینڈ کو فالو کر رہے ہیں۔‘
دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں نوکریوں سے محروم ہونے والے افراد نے پاکستانی سفارت خانے کے باہر احتجاج کیا ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان واپس بھیجا جائے۔
 سفارت خانے کی جانب سے انھیں بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے حکومت کو پیغام دے دیا گیا ہے اور متحدہ عرب امارات کی سول ایویشن کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد طیارہ بھیجا جائے گا۔