محکمہ بلدیات سندھ میں ترقی اور تبادلوں کے نام پر لکشمی اور مایا کی یلغار

کراچی(اسٹاف رپورٹر)محکمہ بلدیات سندھ میں ترقی اور تبادلوں کے نام پر لکشمی اور مایا کی یلغار ، ترقی کیلئے 4 لاکھ روپے سے 6 لاکھ روپے کا ریٹ مقرر جبکہ ٹرانسفر پوسٹنگ کیلئے 15 لاکھ روپے سے 25 لاکھ روپے کا ریٹ مقرر ۔ وزیر بلدیات کے معتمد خاص اور فوکل پرسن سابق ایڈمنسٹریٹر بلدیہ شرقی اور بلدیہ ملیر رحمت اللہ شیخ سہولت کار کا کردار ادا کرنے لگے سندھ لوکل گورنمنٹ بورڈ میں اپنی مرضی کے اور خدمت گزار ڈائریکٹر اور ایڈمنسٹریٹیو افسران لگا کر قوانین و قواعد کو بالائے طاق رکھ کر رشوت کے عوض گریڈ۔17، گریڈ۔18،گریڈ۔19، میں افسران کو پروموشنز دے کر کرپشن کا بازار گرم کردیا ہے جبکہ دوسری جانب بغیر کسی وجہ اور شکایت کے افسران کے تبادلے بھی شروع کردئیے ہیں اور من پسند جگہوں پر پوسٹنگ کیلئے افسران سے لاکھوں روپے رشوت بطور نذرانہ وصول کرکے پوسنگز جاری و ساری ہیں ۔ اس کی حالیہ مثال کئی ایک میونسپل کمشنر کے تبادلے ہیں جنہیں صرف ماہ بعد تبدیل کرکے اپنے عہدوں سے ہٹادیا گیا اس کے علاوہ کچھ دن پہلے ہی ایک ڈپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس کرکے چوبیس سے زائد خلاف ضابطہ بھرتی شدہ بی۔ای۔ڈگری ہولڈرز اسسٹنٹ ایگزیکیٹیو انجینئرز جنہیں سروس کمیشن کے امتحان پاس کئیے بغیر براہ راست بھرتی کیا گیا تھا انہیں بھی گریڈ۔18 میں پروموشنز دینے کی سفارش کردی گئی ہے جبکہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح آرڈرز موجود ہے کہ گریڈ۔17 میں براہ راست بھرتی شدہ کسی بھی سرکاری ملازم کو اگلے گریڈ میں اسوقت تک ترقی نہ دی جائے جب تک وہ سروس کمیشن کا امتحان پاس نہ کرلے ، لیکن فوکل پرسن رحمت اللہ شیخ کے دباو پر ڈی۔پی۔سی نے ایسے 25 کے قریب اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر گریڈ۔17 کو گریڈ۔18 میں ترقی دینے کی بھی سفارش کردی ہے جبکہ ان میں سے کسی نے بھی سروس کمیشن سندھ کا مقابلے کا امتحان پاس نہیں کیا ذرائع کیمطابق ان غیر قانونی ترقیوں کیلئے فی کس 6 لاکھ رشوت بطور نذرانہ جمع اور وصول کی گئی ہے , حیران کن طور پر محکمہ سروس اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کے سیکشن آفیسر تھری نے مورخہ 30 جنوری کو ایک خط کے ذریعے محکمہ بلدیات کو واضح لکھ دیا تھا کہ چیف سیکریٹری سندھ جو کہ گریڈ۔18 کے پروموشنز دینے کی مجاز اتھارٹی ہے اس نے سیریل نمبر 1 سے 14 تک کے آفیسر کو ریگولر پروموشن دینے کی منطوری دی ہے اور بقایا کو ایکٹنگ چارج پروموٹ کرنے کی اجازت دی ہے لیکن محکمہ بلدیات نے تمام تر معاملات کو بالائے طاق رکھ کر مورخہ 1 فروری کو سیریل نمبر 1 سے سیریل نمبر 25 تک تمام آفیسر کو گریڈ۔18 میں ریگولر پروموشنز سے نواز دیا اور چیف سیکریٹری سندھ کے حکم کو بھی نہیں مانا اس کی وجہ صرف اور صرف چیف منسٹر سندھ سید مراد علی شاہ کے قریبی عزیز اظہر حسین شاہ کو نوازنا تھا جبکہ ان 25اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئرز سول پر پہلے ہی یہ الزام بھی ہے کہ 2013 میں ان سب کو سیاسی بنیادوں پر اور بغیر میرٹ کے براہ راست گریڈ۔17 میں بھرتی کیا گیا تھا اسوقت کے وزیر بلدیات اور موجودہ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے حکم پر ، اور ان میں سے کسی نے بھی آج تک سروس کمیشن کا امتحان بھی پاس نہیں کیا جبکہ سپریم کورٹ کا ایک واضح حکم موجود ہے کہ جب تک گریڈ۔17 میں براہ راست بھرتی شدہ افسران سروس کمیشن کا مقابلے کا امتحان پاس نہ کرلیں انہیں گریڈ۔18 میں ترقی نہ دی جائے لیکن محکمہ بلدیات نے ایک بار سیاسی دباو کا شکار ہوکر اور نذرانوں کی وصولیابی کی خاطر سپریم کورٹ کے حکم کو بھی ایک طرف رکھ دیا اور 25 گریڈ۔17 میں براہ راست اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئرز کو گریڈ۔18 میں ترقیاں دے دی ہیں، جبکہ اسی ڈی۔پی۔سی۔ میں الیکٹریکل و میکینیکل ٹیکنالوجی میں گریڈ۔20 چیف انجینئر کی دو آسامیاں اور گریڈ۔19 سپرنٹنڈنگ انجینئرز کی 11 نئی آسامیاں پیدا کرکے رحمت اللہ شیخ کو پروموشن دے کر نوازنے کی سفارش کردی گئی ہے جبکہ اتنی بڑی تعداد میں نئی آسامیاں پیدا کرنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن چونکہ فوکل پرسن رحمت اللہ شیخ گریڈ۔18 کی سینیارٹی لسٹ میں آخر میں تھا اور اسوقت وہ منسٹر بلدیات کا فوکل پرسن بھی ہے اس لئے صرف اسے نوازنے اور گریڈ۔19 میں پروموشن دینے کیلئے قواعد ضوابط کے برخلاف صرف رحمت شیخ کو پروموٹ کیا گیا ہے اور ایک ریٹائرڈ افسر خالد ہاشمی کی سفارش کی گئی ہے جبکہ باقی 9 افسران پر اعتراض لگادیا گیا ہے اور انہیں 2 ماہ میں ڈپارٹمنٹل ٹریننگ مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے بعدازاں انہیں پروموٹ کیا جائے گا جبکہ دوسری جانب زبردستی اتنی ساری آسامیاں پیدا کرکے صرف رحمت شیخ کو نوازنے کیلئے سرکاری خزانے پر مزید اتنا بھاری بوجھ لاد دیا گیا اور محکمہ بلدیات سندھ میں پسند اور طرفداری کی یہ ایک بدترین مثال ہے۔ جبکہ دوسری طرف محکمہ بلدیات بھنگ پی کر سو رہا ہے اور اسے اب تک یہ نظر نہیں آیا کہ ایک ایگریکلچر انجینئر طارق حسین مغل آج بھی بطور سپرنٹنڈنگ انجینئر سول گریڈ۔19 کی پروفیشنل پوسٹ پر براجمان ہے جبکہ اس کی ایگریکلچر گریجویشن کا سرٹیفکٹ بھی مشکوک ہے اور یہ سرٹیفکٹ اس نے 1993 سے 1996 کے عرصے میں ٹنڈو جام ایگریکلچر یونیورسٹی سے حاصل کیا ہے جبکہ اس پورے عرصے میں اس پوسٹنگ بطور سب انجینئر گریڈ۔11 سکھر اور خیرپور سٹی میں رہی اور باقاعاعدہ تنخواہیں بھی وصول کی اور محکمہ بلدیات سے بغیر کسی طویل چھٹی کے اور بغیر ریگولر کلاسس اٹینڈ کئیے ایگریکلچر ٹیکنالوجی میں 4 سالہ پروفیشنل ڈگری حاصل کرنا قوانین اور قواعد کے مطابق تو ناممکن نظر آتا ہے اور یہ سرٹیفکٹ بھی رشوت دے کر خریدا گیا ہوگا ایسا ذرائع کا ماننا ہے لیکن تعجب اور حیران کن بات تو یہ ہے کہ اسی مشکوک ایگریکلچر سرٹیفکٹ کو بنیاد بناکر اور اپنے تئیں بی۔ای۔سول ڈگری کے مساوی مان کر ملی بھگت سے طارق حسین مغل نے تین ہائر گریڈ پروموشنز بطور سول انجینئر اور سول انجینئر کے کوٹہ پر حاصل کئیے اور آج بھی طارق مغل کا نام بی۔ای۔سول انجینئر کی سینیارٹی لسٹ میں موجود ہے لیکن محکمہ بلدیات سندھ نے بالکل آنکھیں بند کررکھی ہیں اور طارق مغل کی نہ تو آج تک نچلے گریڈ میں تنزلی کی گئی اور نہ ہی اس کا نام بی۔ای۔سول۔انجینئر کی سینیارٹی لسٹ سے نکال کر دوبارہ ڈپلومہ انجینئر کی سینیارٹی لسٹ میں شامل کیا گیا ہے اور مستقل سپریم کورٹ کے آرڈرز کی توہین اور بے حرمتی کی جارہی ہے ۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے دو اور ڈپلومہ سب انجینئر گریڈ۔11 عبدالصمد جملانی اور امتیاز احمد شاہ نے بھی کراچی میں سرکاری ملازمت کرتے ہوئے اور سرکاری خزانے سے تنخواہیں بھی وصول کرتے ہوئے مہران یونیورسٹی جام شورو سے بی۔ای۔سول کی ڈگریاں حاصل کرلی ہیں اور ان ہی مشکوک ڈگریوں کو جواز بنا کر یہ دونوں بھی تین ہائر گریڈ حاصل کرچکے ہیں اور اسوقت سپرنٹنڈنگ انجینئر سول گریڈ۔19 کی پوسٹ پر براجمان ہیں ، ذرائع کیمطابق ان دونوں نے بھی یہ ڈگریاں غیر قانونی طریقوں اور قواعد و ضوابط کے خلاف رشوت دے کر حاصل کی ہیں کیونکہ بی۔ای۔سول ہو یا بی۔ای۔ایگریکلچر ، یہ دونوں پروفیشنل ڈگریاں ہیں اور ان کیلئے ریگولر کلاسس بزات خود اٹینڈ کرنا لازم و ملزوم ہے اور امتحانات بھی خود دینا ضروری ہے لیکن طارق حسین مغل، عبدالصمد جملانی اور امتیاز احمد شاہ کی پوسٹنگ کسی ایک شہر میں اور اسی عرصے میں 4 سالہ ڈگری کورس کی کلاسس کسی دوسرے دور دراز شہر ریگولر اٹینڈ کرنا ناممکن عمل ہے لیکن محکمہ بلدیات سندھ نے آج تک کسی ایجنسی اینٹی کرپشن، ایف۔آئی۔اے۔ نیب، سے اس بابت کوئی انکوائری نہیں کروائی اور دھڑا دھڑ ان تینوں کو پروموشنز دے کر سینئر پوسٹ پر بٹھا دیا ہے جبکہ ان تینوں کے خلاف تو مشکوک اور جعلی ڈگری کا کیس بھی بنتا ہے لیکن محکمہ بلدیات سندھ بالکل خاموش تماشائی بنا ہوا ہے جو کہ انتہائی تشویشناک بھی ہے اور خطرناک بھی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں