کرونا کو ہمیں انتظار کی موت مارنا ہوگا

ڈر کے کاروبار کے طلبگار بھی ہم ہیں ، خریدار بھی ہم اور فروخت کندہ بھی ہم۔ یہ تو سچ ہے کے اس وقت دنیا کی یونیورسٹی میں امتحانات چل رہے ہیں۔ اور امتحان بھی وہ جس میں امریکی کلاس کی ٹیکنالوجی بھی فیل، چینی کلاس کی افرادی طاقت بھی ناکام، جرمن کلاس کی اکانومی بھی برباد، روسی کلاس کی دفاعی صنعت بھی بیکار اور برطانوی کلاس کی بادشاہت بھی لاچار۔ پوری دنیا پر آئے اس سخت امتحان کے وجود کا دارومدار ایک ادنا استاد کے کندھوں پر ہے۔ استاد وہ جو ظاہری طور پر نظر نہیں آتا مگرجو جانے انجانے میں استاد صاحب سے سلام دعا ہو جائے تو ملک عبرت کی مثال بن جاتا ہے۔استاد کرونا کی آمد سے پہلے کلاس چین کے طالب علم اپنی ہوشیاری اور طاقت کے دم پر یونیورسٹی بھر میں مقبول تھے مگر وقت کی کرنی کچھ یوں ہوئی کے ساری ہوشیاری اور طاقت دھری کی دھری رہ گئی۔ استاد کرونا جب چین کی کلاس کے بعد اٹلی کی کلاس لینے پہنچے تو کلاس کے لاپرواہ رویے نے استاد کو بے حد مایوس کیا۔ پھر اٹلی کی کلاس نے استاد کرونا کی وہ سختی دیکھی کہ یونیورسٹی بھر میں اٹلی کرونا کی وجہ سے پہچانے جانے لگا۔ اٹلی استاد کرونا کی سختی زیادہ دیر برداشت ناں کر پایا اور اس نے ہتھیار ڈال کر خدا کی جانب اپنے ہاتھ اٹھا لیے۔ اس موت کے کھیل میں اب سپین کی کلاس استاد کرونا کے نشانے پر تھا۔کرونا وہ واحد استاد نہیں دنیا کی تاریخ اس جیسے بہت اساتذہ سے بھری پڑی ہے جنہوں نے زونوٹک بیماریاں (diseases zoonotic) پھیلائی ہیں۔ تاریخ اس موت کے کاروبار کا بانی جسٹین کے طاعون ( Plague of justinian)کو مانتی ہے جو بازیطنی سلطنت کے دارالحکومت قسطنطنیہ (Constantinople) میں 145 سن عیسوی میں نمودار ہوئی۔ یہ علاقہ استنبول کے نام سے مشہور ہے۔ اس علمی وبا نے 5 کروڑ لوگوں کو موت کے گھاٹ اْتار دیا۔ پھر دوسری بار دنیا نے دیکھا کہ کیسے 7431 میں بحیرہ روم میں موجود سسلی کے مقام پر طاعون اعظم (Black death) عالمی وبا بن کر پھیلا۔ سسلی جسے آج ہم اٹلی کہ نام سے جاتے ہیں وہ 7431میں اْس بیماری کی لپیٹ میں تھا جس میں جسم پر جگہ جگہ پس نما زخم بن جاتے اور لوگ ۰۴ دن کے لیے طبی قید کاٹنے پر مجبور ہوجاتے۔ 40 دن کی طبی قید جسے 2020 میں ہم قرنطینہ (quarantine) کے نام سے جانتے ہیں وہ اصل میں اٹلی کا ایجاد کردہ لفظ ہے۔ اس استاد نے 7531 میں دنیا کی جان چھوڑی مگر تب تک 20 کروڑ لوگ اپنی جان کے نذرانہ پیش کر چکے تھے۔ تاریخ کی تیسری بڑی عالمی وبا کا سامنا دنیا کو 1891 میں ہوا۔ اس وبا کا نام اسپانوی فلْو ( Flu Spanish) تھا اور اس نے 5کروڑ لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لینے کے بعد میں دنیا کو خدا خافظ کہا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ 145 سن عیسوی میں شروع ہوئے اس موت کے کھیل میں ہارنے والوں کی شرح وقت کے ساتھ آبادی کے لحاظ سے ہمیشہ بھری ہی ہے۔ اور اب دنیا کو استاد کرونا کا سامنا ہے۔ استاد کرونا کے علاوہ دنیا میں بہت سے چھوٹے اساتذہ بھی آئے جو اپنی دی گئی سزاؤں سے کچھ ممالک کی کلاسز کو ڈرا کر چلے گئے۔ مگر استاد کرونا دنیا میں لمبے قیام کی خواہش کر کے آیا ہے۔ استاد صاحب کو اپنی جیت چین، امریکہ، اور اٹلی کو ہرانے کے بعد صاف نظر آنے لگی اور اس نے اب اپنے قدم کمزور کلاسز کی طرف بڑھانا شروع کر دیئے جن میں اس نے سب سے پہلے ایران، انڈیا اور پاکستان پر حملہ کیا۔ کلاس پاکستان کے طالب علم یہ جانتے تھے کہ طاقت کے دم پر استاد کرونا کا مقابلہ کرنا ناممکن ہے۔ اس لیے انہوں نے سمجھداری سے کام لیتے ہوئے خود کو استاد کرونا کے آنے سے پہلے اندر سے لاک ڈاؤن کر لیا۔ پاکستان کو دیکھا دیکھی انڈیا اور دوسری چھوٹی کلاسز نے سمجھداری سے کام لے کر خود کو لاک ڈاؤن کر لیا۔ کرونا اب کلاسز کے باہر اس انتظار میں تھا کہ کوئی کلاسز کوئی غلط قدم اٹھائے اور وہ اس پر حملہ آور ہو۔ کرونا کو ہمیں انتظار کی موت مارنا ہوگا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس سب سے ہم نے کیا سیکھا؟ کیا استاد کرونا نے ہمیں یہ نہیں سیکھایا کہ دعا میں اٹھائے جانیوالے ہاتھوں کو دھونا ضروری ہے؟ رفتار بھری اس زندگی میں اپنوں کے سنگ ہونا ضروری ہے۔ استاد صرف کرونا نہیں بلکہ ہر وہ مصیبت ہے جو کچھ سیکھا کر جاتی ہے۔ مگر ہماری کمزوری یہ ہے کہ ہم سبق سے سیکھتے نہیں بلکہ سبق سے ڈرتے ہیں اور ڈر کو متعدی (contagious) کر دیتے ہیں۔ اِس مشکل امتحان میں ہم سب کو تلاش اْس دوست کی ہے جو ہمارا ہاتھ تھام کر ہمیں اس امتحان میں پاس کروا دے۔ اور اللہّٰ سے بہتر انسان کا کوئی دوست نہیں۔ مگر یاد رکھنا اللہّٰ بھی ہاتھ تبھی تھامے گا جب ہاتھ صابن سے صاف ہونگے۔Nimra-Sohail-Butt-nawaiwaqt