نریندر مودی کی تاریخی غلطی -مہا بھارت کی جنگ 18 دن لڑی گئی تھی جس میں کسی کو فتح نصیب نہیں ہوئی تھی

یہ سوچنا کہ ہندو توا کا پرچارک مہابھارت کی تاریخ سے نابلد ہے کسی طور قابلِ فہم نہیں ہے۔ البتہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت میں کرونا وائرس کے خلاف جنگ کو مہا بھارت جیسی جنگ کہا ہے یہ ضرور حیران کن ہے اس میں پہلی تاریخی غلطی یہ ہے کہ مہا بھارت کی جنگ 18 دن لڑی گئی تھی جس میں کسی کو فتح نصیب نہیں ہوئی تھی۔ جبکہ بھارت میں لاک ڈائون کے ذریعہ کرونا وائرس کی جنگ 21 روز میں لڑی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے یہ مہا بھارت سے زیادہ بڑی جنگ ہے اگر ایسا ہے تو اس کا نتیجہ بھی مہا بھارت سے بڑے نقصان کی صورت ہو گا۔ اس تصور سے ہی دل دہلنے لگتا ہے۔ مہا بھارت جنگ کے واقعات ایک رزمیہ نظم کی صورت میں بیان کئے گئے ہیں جو 1190 قبل مسیح میں کروئوں اور پانڈئوں کے درمیان لڑی گئی ۔ اس جنگ میں چالیس لاکھ افراد مارے گئے۔ یہ یقیناً تشویش ناک بات ہے کہ بعض ماہرین کے تخمینے کے مطابق بھارت میں جس طرح غریب مزدور لوگوں کو لاک ڈائون کے دوران بے یارو مدد گار چھوڑ دیا گیا ہے اور ان سمیت بھارت کے دور دراز علاقوں میں کرونا وائرس سے تحفظ کے لیے ضروری انتظامات و اقدامات نہیں کئے گئے خدشہ ہے ان گنت انسان لقمہ اجل بن سکتے ہیں تو کیا قدرت نے کرونا سے جنگ کو مہا بھارت کی جنگ سے تشبیہ دلوا کر آنے والی ہولناک صورت کی نشاندہی کر دی ہے۔ کرونا وائرس کو بھارتی میڈیا نے تبلیغی جماعت کے خلاف مسلسل پراپیگنڈہ کی حکمت عملی اختیار کر کے مسلمانوں کے خلاف اظہار اور جذبات بھڑکا کر بی جے پی کے تیسری مرتبہ اقتدار کی راہ ہموار کرنے کی کوشش جاری ہے۔ بلاشبہ ہندو عصبیت الیکشن جتوا سکتی ہے مگر یہ ایسی آگ بھی ہے جو بھارت میں تقسیم در تقسیم کی بنیاد بن رہی ہے۔
بھارت میں ہندو عصبیت کیا گُل کھلا رہی ہے اس کا اندازہ چند ان واقعات سے لگایا جا سکتا ہے۔ دہلی کے علاقے شاستری نگر میں ٹھیلوں پر سبزی اور پھل فروخت کرنے والے مسلمانوں کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے اور یہاں مقیم مسلمانوں سے یہ عہد لیا گیا کہ وہ باہر سے کسی مسلمان کو نہیں آنے دیں گے جبکہ ہندوئوں کی آزادانہ آمدورفت جاری ہے۔ میرٹھ میں کنکر کھیرا کے علاقے لکھوریا میں ایک دکاندار ارون نے نعیم الدین نامی مسلمان پر تھوکنے کا الزام لگا کر گرفتار کرا دیا کہ اس طرح وہ اسے کرونا میں مبتلا کرنا چاہتا تھا تحقیق میں یہ بات غلط ثابت ہو گئی جس پر دکاندار ارون ، اس کے بھائی منوج اور دوست گرون کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ انڈین ایکسپریس میں کرسٹوف جنیفر پلاٹ کی تحریر کا اقتباس ہے ’’بھارت کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے‘ تمام ان شہروں میں فسادات ہوئے جہاں مسلمانوں معاشی ترقی کررہے تھے‘ ایک منصوبہ بندی کے تحت ان کے کارخانوں، دکانوں ، ورکشاپوں اور گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ڈیلی ٹیلی گراف میں ساجدہ مومن نے تحریر کے آئینہ میں دکھایا ہے کہ ’’احمد آباد میں دو دہائیوں سے مسلمان سیاسی مقاصد کے زیر اثر الگ تھلگ زندگی گزار رہے ہیں ‘اُنہیں سیاسی ، معاشی اور سماجی طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ ہندو بستیوں میں گھر ، روزگار، سکول ، کاروبار کی اجازت نہیں وہ پسماندہ بستیوں میں رہنے پر مجبور ہیں یہ وسیع تر پلان کا حصہ ہے۔‘‘ بھارت میں کرونا وائرس نے جہاں شہر سنسان کر دئیے وہاں بھارتی مسلمانوں کی اپنے جدوجہد کی علامت بنتے شاہین باغ میں رونقین بڑھ رہی ہیں دہلی کی بہادر مسلمان خواتین نے شہریت قانون کے خلاف دھرنا ختم نہیں کیا۔ کرونا کے باعث دو دو میٹر کے فاصلے پر ایک سو تخت بچھائے گئے ہیں ہر تخت پر صرف دو خواتین بیٹھتی ہیں تاہم شام کو خاصی بھیڑ ہو جاتی۔ہے روبی نامی ایک خاتون نے کہا ’’ہمارے لیے شہریت قانون کرونا سے زیادہ ڈرائونا ہے‘‘ تفصیلات کی گنجائش نہیں ہے کہ یہ حقیقت واضح کی جائے کہ ہندو تنظیمیں اور افراد ہندو آبادیوں میں ہی راشن پہنچا رہے ہیں جبکہ مسلمان تنظیمیں اور نوجوان بلاامتیاز امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کی جانب سے ایثار اور قربانی کا لائق تحسین مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ کرونا مریضوں کے علاج کے لیے مسلمان لیڈی ڈاکٹر اپنی چھٹیاں خود منسوخ کر کے ہسپتال پہنچ گئی ۔ کوزی کوڈ میڈیکل کالج ہسپتال کیرالہ کی 23 سالہ ڈاکٹر شفا انس کی 29 مارچ کو شادی تھی لیکن وہ دلہن کا عروسہ جوڑا پہننے کی بجائے اپنا سفید گائون پہن کر سرعام میڈیکل کالج ہسپتال پہنچ گئی تو کرونا مریضوں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے ڈاکٹر شفا کے والد محمد انس نے کہا میری بیٹی نے کہا شادی میرا انتظار کر سکتی ہے مریض نہیں‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی ہم نے اس کے جذبہ کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔ حیدر آباد کے علاقے آصف نگر کے محمد امتیاز کی کمسن بیٹیوں علینہ جبیں اور علیشہ جبیں نے اپنی جمع شدہ رقم چار ہزار اور پانچ ہزار وزیر اعلیٰ فنڈ میں دے دی دونوں بہنیں تیسری جماعت کی طالبات ہیں۔ بیت المال کورٹلہ اور جمعیت علماء ہند کی جانب سے مسلم، غیر مسلم آبادیوں میں گیارہ راشن کٹس روزانہ تقسیم کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح اعلیٰ حضرت فلاحی تنظیم بھی گھروں میں راشن پہنچا رہی ہے۔ مسلمانوں کی جانب سے ہندوئوں کی بھی کھلے دل سے امداد ہندو توا کے منہ پر طمانچہ ہے۔Israr-bukhari-Nawaiwaqt