ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف مزاحمت کرنے والے دو بھائیوں کی کہانی

ڈینیل اور فلپ بنیادی طور پر مذہبی شخصیات تھیں، یہ دونوں بھائی ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف مزاحمت اور جنگوں کے خلاف نقطہ نظر پیش کرنے والوں کے لیے اپنی جدوجہد کے باعث ایک مثال بن گئے، اِن دونوں بھائیوں کا نام اُس وقت اخبارات کی زینت بنا جب انہوں نے اپنے دیگر سات ہم خیال افراد کے ہمراہ ویتنام جنگ کیخلاف 1968میں غیرمعمولی کارروائی کر ڈالی۔ ان افراد نے ویتنام جنگ کے حوالے سے امریکی فوج کی 378ڈرافٹ فائليں حاصل کیں اور ان تمام ڈرافٹ فائلوں کو دیسی قسم کے نیپام بم سے جلا ڈالا۔ امریکی انتظامیہ اور فوج میں ایک شور مچ گیا، اس کارروائی کو کینٹن وِلا نائن ایکشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ تمام افراد گرفتار ہوئے، سزا ہوئی، جیل بھیج دیے گئے لیکن اُن کی اس کارروائی کو دیکھتے ہوئے ویتنام جنگ کے خلاف ایسی سینکڑوں کارروائیاں دیگر افراد نے کر ڈالیں۔

امریکی حکومت پر دباؤ ناقابلِ برداشت ہو گیا۔ بات ایک واقعہ تک محدود نہیں رہی بلکہ 9ستمبر 1980کو یہ دونوں بھائی اپنے دیگر چھ ساتھیوں کے ہمراہ پینسلو ریٹا کے قصبے کنگ آف یوریشیا میں جنرل الیکٹرک ایٹمی پلانٹ میں داخل ہوئے، وہاں پر پڑے غیرمسلح ایٹم بم کے اگلے حصے پر ضربیں لگانا شروع کردیں، نتیجتاً قید کی سزا سنا دی گئی۔ 12فروری 1997کو فلپ نے باتھ آئرن ورکس کے اندر ایک امریکی نیوی کے ایٹمی اسلحہ بردار جہاز پر کارروائی کر ڈالی اور وہاں پر موجود ایٹمی ہتھیار پرضربیں لگانا شروع کر دیں، قيد تو ہونا ہی تھا۔ 1997ء میں Maineکی جیل سے انہوں نے لکھا کہ ہم اس وقت تک ایٹمی ہتھیاروں کو ختم نہیں کر سکیں گے جب تک حکومت میں اپنی نمائندگی حاصل نہیں کر لیتے۔
جنگ میں محمد مہدی کے کالم سے اقتباس