ڈائریکٹرجنرل پٹرولیم عمران احمد کو عہدے سے ہٹائے جانے کی اصل وجہ سامنے آگئی

ایک اہم پیشرفت میں پٹرولیم ڈویژن نے ڈائریکٹر جنرل پٹرولیم کنسیشن (ڈی جی پی سی) عمران احمد کو عہدے سے ہٹا دیا ہے جو 2013 گائیڈلائنز میں شامل معمولی قیمت کی رعایت میں اضافہ نہ کرنے اور بروقت نیشنل ٹرانسمیشن کو بدین چہارم ساؤتھ گیس فیلڈسے گیس کی فراہمی کو مربوط کرنے میں رکاوٹوں کے لئےمبینہ طور پر قومی خزانے کو 50 ملین ڈالرز کا بڑا نقصان پہنچانے کا الزام ہے ۔ تاہم وہ ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں ۔ وہ سسٹم میں سستی گیس داخل کرنے میں 8 ماہ کی تاخیر کا بھی الزام ہے ۔ ایک سینئر عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا کہ پٹرولیم ڈویژن نے ڈی جی پی سی کا چارج نئی تقرر کی گئی جوائنٹ سیکریٹری (ڈویلپمنٹ) سائرہ نجیب کو دے دیا ہے۔ اور ایک اور پیشرفت میں سیکریٹری پٹرولیم نے بھی مری پٹرولیم لمیٹڈ کمپنی کے ایک ملازم حسن محمود کو عہدے سے ہٹا دیا ہے جو ڈائریکٹوریٹ جنرل پٹرولیم کنسیشنز میں پٹرولیم اکنامسٹ کام کر رہے تھےاور نہایت پرکشش تنخواہ لے رہے تھے۔ یہی وہ اہم شخص تھے جو پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ای سی سی سمریاں تیار کرتے تھے۔ ترجمان پٹرولیم ڈویژن نے ڈی جی پی سی عمران خان کو ہٹانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کا چارج جوائنٹ سیکریٹری ڈویلپمنٹ کو دے دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ عمران کی خدمت کی مدت درست نہیں تھی اور وہ گریڈ 19 میں تھے اس لئے جب پٹرولیم ڈویژن کے پاس ایک دفتر ہے جس میں خدمت کی مطلوبہ مدت ہے تو پھر عمران کو ہٹا دیا گیا ہے اور جوائنٹ سیکریٹری ڈویلپمنٹ کو ڈی جی پی سی کا چارج دے دیا گیا ہے۔