سندھ حکومت کا کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے اقدامات اور پیدا شدہ صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے ملکی سطح پر مشترکہ حکمت عملی بنانے کا مطالبہ

کراچی  :  سندھ حکومت نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے اقدامات اور کورونا کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے ملکی سطح پر مشترکہ حکمت عملی بنانے کا مطالبہ کیا ہے اور اس امر پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے کہ کچھ عناصر سندھ حکومت کے ان اقدامات پر تنقید کررہے ہیں، جنہیں پوری دنیا نے سراہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات سید ناصر حسین شاہ، وزیر تعلیم و محنت سعید غنی اور وزیر توانائی امتیاز شیخ نے جمعرات کو کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس کے کیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہمارا شروع سے ایک ہی موقف ہے کہ لاک ڈاؤن ہو،اگر وفاقی حکومت پہلے دن سے موثر اقدامات کرتی تو صورتحال آج بہتر ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کوئی قدم بروقت اٹھاتے تو اچھا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ نے 26 فروری سے جبکہ وفاق کی جانب سے 13 مارچ کو لاک ڈاؤن کیا گیا اور اس دوران ایئرپورٹس کے زریعے لاکھوں لوگ پاکستان آئے ان کی کوئی مکمل اسکریننگ نہیں کی گئی۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ہمیں سخت ہدایات ہیں کہ اس مشکل کی گھڑی میں جب قوم کورونا وائرس سے لڑ رہی ہے ہمیں سیاست کو قرنطینہ میں ڈال دینا ہے اور کسی کو کوئی جواب نہیں دینا ہے۔، انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے روز سے وفاق کو سپورٹ کیا ہے جب وزیر اعلیٰ سندھ کورونا کے حوالے سے پہلے روز سے ہی دن رات کام کررہے ہیں تو اب براہ راست وفاق اور ان کی پارٹی کے لوگوں کی جانب سے ان کو بلا وجہ تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ خیرپور میں 3 افراد ذاتی رنجش کے باعث خودکشی کرتے ہیں اور اسے کہا جاتا ہے کہ وہ بھوک کے باعث خودکشی کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ نے سب سے پہلے لاک ڈاؤن کیا اگر وفاقی حکومت نے اس وقت ہمارے موقف کو تسلیم کیا ہوتا تو آج جو صورتحال ہے ایسی نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن 14 اپریل تک جاری ہے اور اس دوران اس میں سختی بھی کی جائے گی۔ لیکن اس کے بعد ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی 14 اپریل کے بعد اس میں نرمی کرنا ہوگی کیونکہ وفاق کی جانب سے کوئی مشترکہ حکمت عملی نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا کہ اس وقت تک صوبہ سندھ میں رفاہی اداروں، نیوی اور سندھ حکومت کی امداد سے ڈی سی کے ذریعے جن متاثرین کو راشن پہنچایا گیا ہے ان کی تعداد 4 لاکھ سے زائد ہے۔جبکہ یہ وہ تعداد ہے، جن کا ڈیٹا سندھ حکومت کے پاس موجود ہے جبکہ بقیہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد ایسے ہیں، جو لوگوں نے اپنے طور پر تقسیم کئے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت اس وقت بھی 5 لاکھ سے زائد خاندانوں کو راشن کی فراہمی کا سلسلہ شروع کئے ہوئے ہے۔ البتہ نہ ہم تصویر بنا رہے ہیں، نہ ویڈیو اور نہ ہی میڈیا کو بلا رہے ہیں اور یہ تقسیم سڑکوں یا گراؤنڈ میں لائن لگانے کی بجائے براہ راست متاثرین کے گھروں تک پہنچاہی جارہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ تمام نجی اسکولوں کو 20 فیصد ٹیوشن فیس میں رعایت کا سندھ حکومت کی جانب سے ہدایات جارہ کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بھی اسی طرح کی ہدایات دی گئی ہیں لیکن حیرت یہ ہے کہ اسلام آباد میں ان متاثرین کو 20 فیصد رعایت دی جائے گی، جن بچوں کی فیسیں 5 ہزار یا اس سے زائد ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ سندھ میں تمام نجی اسکولوں کی ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے گذشتہ روز ملاقات ہوئی ہے اور انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ حکومتی فیصلے پر مکمل عمل درآمد کریں گے۔ اس موقع پر سید ناصر حسین شاہ نے عوام کا شکریہ ادا کیا کہ عوام نے حکومتی احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے 99 فیصد ان احکامات کر عملدرامد کیا گیا جو اچھی بات ہے۔ اور لوگوں نے اپنے گھروں میں رہ کر اپنے پیاروں کی مغفرت کے لئے دعائیں گی۔