زرداری کی آٹھ شوگر ملیں ہیں، لیکن سندھ میں کسی مل کو ایک روپیہ خزانے سے نہیں دیا گیا۔

تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے شوگر ملوں کو دی گئی تین ارب روپے کی سبسڈی کے بعد جو ایکشن لیے گئے ہیں اور جو دادعوام اور میڈیا کی طرف سے حکومت کو ملی ہے اس پر سوچ رہا ہوں کہ سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر اپنا بیانیہ بیچنے سے لوگوں کو بیوفوف بنانا کتنا آسان ہے؟ جب ہر طرف شادیانے بج رہے ہیں تو مجھے دو تین سکینڈلز ایسے یاد آرہے ہیں کہ ماضی میں کچھ وزرائے اعظم ایسے گزرے ہیں جو سکینڈلز کی زد میں آئے، مگر انہوں نے بیانیہ بدل دیا اور کامیاب رہے۔ نواز شریف 1997 ء میں دوسری دفعہ وزیراعظم بنے تو انہوں نے ایک شہرہ آفاق تقریر کی تھی جس کا چرچا مہینوں تک رہا۔ سب اخبارات میں نمایاں چھپا، اداریے لکھے گئے، کالم نگار کئی روز تک اخبارات کے صفحات کالے کرتے رہے، نواز شریف کی جے ہو کے نعرے گونجتے رہے۔
پوری قوم وہ تقریر سن کر آبدیدہ ہوگئی کہ کیا ہم اتنے خوش قسمت ہیں کہ ہمیں ایسا وزیراعظم ملا ہے جس کے سینے میں اتنا درد ہے کہ وہ بینکوں کے چار ارب روپے واپس کرنے کے لئے اپنے فیکٹری بینکوں کے حوالے کرنے پر تیار ہے۔ اس فیکٹری پر اربوں کا قرضہ لیا تھا اور واپس نہیں کیا گیا۔ قرض اتارو مہم کے آغاز میں ہی وزیراعظم نے اپنی فیکٹری بینکوں کے حوالے کر دی تھی۔ جب بینک مل کا قبضہ لینے گئے تو پتہ چلا کہ نواز شریف کے ایک کزن نے عدالت سے سٹے لے لیا ہے۔
اس دوران نواز شریف حکومت کا تختہ اُلٹا گیا، وہ جدہ چلے گئے، اس دوران بھی وہ سٹے چلتا رہا۔ کسی کو یاد نہیں رہا کہ فیکٹری کا کیا بنا، لیکن شریف خاندان اس فیکٹری کو نہیں بھولا تھا۔ چودہ برس تک وہ سٹے چلتا رہا، جب 2013 ء میں نواز شریف تیسری دفعہ وزیر اعظم بنے تو وہ موقع ملا جس کے لئے چودہ برس انتظار کیا تھا۔ قومی بینک جس کا قرضہ دینا تھا پہلے اس کا صدر ایک رشتہ دار کو لگایا گیا اور بینک سے لین دین کر کے تین چار ارب روپے واپس کر کے ساری زمین واپس لے گئی۔ ان چودہ برسوں میں وہ ساری زمین شہر کا حصہ بن کر کمرشل بن چکی تھی۔ ساتھ ہی شہباز شریف پنجاب حکومت سے اس انڈسٹریل زمین کو رہائشی کا درجہ دلوایا اور اب اس پر ہاؤسنگ سوسائٹی بن رہی ہے۔ اس زمین کی اب مالیت تیس ارب سے زائد ہے۔ تقریر کر کے قرضہ سکینڈل کا رخ موڑ کر عوام سے داد لے لی۔ سمجھداری سے بینک کے پا س زمین رکھوا کر سٹے لے کر اس کو بیچنے نہ دیا گیا، چودہ برس بعد تین چار ارب واپس کر کے تیس ارب کی زمین لے لی اور اب رہائشی سکیم بھی بن رہی ہے۔ داد بھی وصول کر لی، اچھا نام بھی بنا لیا۔ یہی کچھ اب تحریک انصاف کی حکومت میں نظرآرہا ہے کہ جو تین ارب روپے کا سکینڈل گلے پڑنا چاہیے تھا اسے بڑی سمجھداری سے اپنا کریڈٹ بنا لیا ہے۔
یقین کریں بائیس برس اسلام آباد میں رپورٹنگ کرنے کے بعد کئی سکینڈلز فائل کیے اور حکومتوں کو گھبراتے بھی دیکھا، لیکن کسی حکومت کو اپنے ہی سکینڈل کا کریڈٹ لیتے نہیں دیکھا۔ یہی پہلی حکومت ہے جو اپنے خلاف سکینڈل پر داد وصول کررہی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی اس پر ہنسا جائے یا رویا جائے۔ اب ذرا غور سے اس شوگر سکینڈل کو سمجھیں تو آپ کو فنکاری سمجھ آئے گی اور آپ کو وفاقی اورصوبائی حکومت کی ”سمجھداری“ کا اندازہ ہوگا۔
شوگر انڈسٹری کو اربوں روپے کی سبسڈی دینے کا معاملہ دو سال سے چل رہا تھا۔ شوگر انڈسٹری کہہ رہی تھی کہ ہم نے زیادہ چینی پیدا کر لی ہے لہٰذا ایکسپورٹ کرنے دیں۔ اُس وقت چینی کی قیمت 55 روپے فی کلو گرام تھی۔ اسد عمر وزیرخزانہ نہیں مان رہے تھے، اس پر انہیں اوپر سے بھی کہا گیا کہ دے دو سبسڈی لیکن اسد عمر نے انکار کر دیا اور ہٹا دیے گئے۔ اس پر ایک راستہ نکالا گیا اور کہا گیا کہ چلیں ٹھیک ہے دس لاکھ نہیں آپ لوگ گیارہ لاکھ ٹن چینی ایکسپورٹ کر لیں۔ اس پر شوگر ملوں نے کہا کہ پھر ہمیں تین ارب روپے کی سبسڈی بھی دی جائے، جیسے ماضی میں ملتی رہی ہے۔ اس پر کہا گیا کہ وفاقی حکومت سبسڈی نہیں دے گی، ہاں صوبے دینا چاہیں تو ان کی مرضی۔
پہلے یہ فیصلہ ای سی سی میں ہوا، پندرہ بیس وفاقی وزیر جس کے ممبرز ہیں۔ پھر ای سی سی کا فیصلہ وفاقی کابینہ کو بھیجا گیا جس کی صدارت وزیر اعظم عمران خان کرتے ہیں۔ کابینہ نے ای سی سی کے چینی کی ایکسپورٹ دس سے بڑھا کر گیارہ لاکھ ٹن کرنے اور اس پر صوبوں کو سبسڈی دینے کے فیصلے کی منظوری دے دی۔ ہم توقع کررہے تھے کہ سندھ حکومت وفاقی حکومت کے اس فیصلے کا سب سے بڑا فائدہ اٹھائے گی، کیونکہ زرداری کی آٹھ شوگر ملیں ہیں، لیکن جو رپورٹ سامنے آئی اس نے سب کے اوسان خطا کر دیے ہیں کہ پنجاب، جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے، کے علاوہ کسی صوبے نے ملوں کو سبسڈی نہیں دی۔ سندھ میں کسی مل کو ایک روپیہ خزانے سے نہیں دیا گیا۔
رپورٹ کہتی ہے کہ کل اڑھائی ارب روپے پانچ شوگر ملوں کے گروپس کو ملے، جن میں سے چھیالیس کروڑ جہانگیر ترین، پچاس کروڑ جہانگیر ترین کے ماموں شمیم خان کی ملوں کو ملے، جبکہ پچاس کروڑ کے قریب خسرو بختیار کے بھائی مخدوم شہریار کی ملوں کو ملے، جس میں مونس الٰہی کا بھی حصہ تھا۔
پنجاب کے وزیرخزانہ ہاشم بخت خسرو بختیار اور شہریار کے سگے بھائی ہیں، یوں بھائی نے بھائیوں کی ملوں کو پچاس کروڑ کے قریب پیسہ عوام کی جیب سے نکال کر دیا۔ اس سے پہلے وفاقی حکومت کے اس تین ارب روپے سبسڈی کے فیصلے کو عثمان بزدار کابینہ کے سامنے پیش کر کے منظوری لی گئی۔ اس دوران جب چینی ایکسپورٹ ہونی شروع ہوئی تو چینی کی قیمت 55 روپے سے بڑھ کر 72 روپے ہوگئی۔ یوں ایک طرف عوام کے پیسوں سے ان ملوں نے تین ارب لے لیے اور دوسری طرف سولہ روپے فی کلو چینی مہنگی کر کے عوام کی جیبوں سے اربوں روپے نکال لیے۔ اب جب یہ چیزیں سامنے آئی ہیں تو اچانک ہی پینترا بدل لیا گیا اور شوگر سکینڈل کے ”ذمہ داروں“ کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا گیا۔ میں اب حیران ہورہا ہوں کہ اس سکینڈل میں کس کے خلاف کارروائی ہورہی ہے؟ یہ فیصلہ جہانگیر ترین نے تو نہیں کیا تھا۔ وفاقی حکومت نے خودپہلے وفاقی شوگر ایڈوائزری بورڈ میں ایکسپورٹ اور سبسڈی کا ایشو اٹھایا، جہاں سب وزارتیں موجود تھیں۔ وفاقی مشیر عبدالرزاق داؤد اس کے چیئرمین تھے۔ اس بورڈ نے کہا کہ ایکسپورٹ کرنے دیں، ای سی سی نے ان سفارشات کی روشنی میں گیارہ لاکھ ٹن کی منظوری دے دی اور ساتھ ہی صوبوں کو اختیار دے دیا کہ وہ شوگر ملوں کو تین ارب کی سبسڈی دے سکتے ہیں۔ عمران خان اور ان کے وزیروں نے کابینہ میں ان فیصلوں کی منظوری دی اور پنجاب کو کہا گیا کہ وہ سبسڈی دے سکتے ہیں۔ اب اچانک ہمیں یہ بتایاگیا ہے کہ عمران خان صاحب نے شوگر سکینڈل میں بہت بڑی کرپشن پکڑ لی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہورہی ہے
میں اسلام آباد میں بائیس برسوں کی رپورٹنگ کے بعد پہلی دفعہ حیران اور پریشان ہوں کہ یہ سکینڈل کس کے خلاف ہے اور عمران خان کس کے خلاف کارروائی کررہے ہیں، کیونکہ تین ارب روپے ان ملوں کو صوبوں کے ذریعے دینے کی منظوری خودان کی کابینہ، پھر بزدار حکومت نے دی۔ وزیرخزانہ ہاشم بخت نے بھائیوں کی ملوں میں بانٹے۔ پھر یہ کارروائی کس کے خلاف ہے؟
عجیب تین ارب روپے کا سکینڈل ہے جسے حکومت کو چھپانا چاہیے تھا کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ، ای سی سی، وفاقی کابینہ، پنجاب کابینہ، وزیراعلیٰ بزدار، وزیر خزانہ ہاشم بخت تک، سب کی پرچھائیاں اس پر موجود ہیں، الٹا یہ سکینڈل کی مشہوری کر کے کریڈٹ اور داد لے رہے ہیں۔ ایک واقعہ یاد آگیا، بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے 1975 ء میں ایمرجنسی لگا دی تھی، اپوزیشن رہنماؤں کو جیل اور پریس کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، ان حالات میں پندرہ اگست کو نئی دلی کے لال قلعے میں تقریب ہوئی، وزیر اعظم اس مشاعرے میں موجود تھیں۔ کلیم عاجز نے اس مشاعرے میں اندرا گاندھی کی طرف اشارہ کر کے ایک شعر پڑھا۔ شعر پر بہت داد ملی، لیکن مشاعرے کے منتظمین کا خون خشک ہوگیا۔ کلیم عاجز کا یہی شعر اس شوگر سکینڈل پر عوام اور میڈیا کی طرف سے ملنے والی بے پناہ داد پر پڑھنے کو دل چاہ رہا ہے ؎
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو بشکریہ روزنامہ دنیا Rauf-Klasara