جس خواب نے جہانگیر ترین کودلدل میں اتار دیا ، وہ چینی کی برآمد نہیں بلکہ اقتدار کا خمار ہے

آرزوئیں تو بادشاہوں کی بھی پروان نہیں چڑھتیں، ضرورتیں فقیروں کی بھی پوری ہو جاتی ہیں۔ خدا کی بستی دکاں نہیں ہے۔ جہانگیر ترین کا جرم وہ نہیں،جو اچھالا جا رہا ہے۔ فرانزک رپورٹ سے کھل جائے گا کہ زرِ اعانت میں اس کے رسوخ کا دخل ہے یا نہیں۔ یہ تو سبھی کو ملا۔ مدتوں سے یہ کارِ خیرجاری ہے۔ اپوزیشن چیخ رہی ہے، گویا یہ پہلی بار ہوا ہو۔پندرہ ارب شریف خاندان نے بانٹا۔ یہ سوال اپنی جگہ کہ زائد چینی پیدا ہی کیوں ہوتی ہے؟ گنّا بے دریغ پانی چوستا ہے۔کب سے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ متبادل تلاش کرنا چاہئیے، مثلاً چقندر،سال بھرکی بجائے جو تین ماہ میں تیار ہو جاتا ہے۔ واضح ہے کہ چینی پر زرِ اعانت کا فیصلہ صوبائی کابینہ نے کیا،جب کہ وزیرِ خزانہ مخدوم جواں بخت مخالف تھے۔ ظاہر ہے کہ عثمان بزدار سب سے بڑھ کر ذمہ دار ہیں۔ اثر انداز کون ہوا۔فرانزک آڈٹ میں یہی مرکزی نکتہ ہونا چاہئیے۔ صنعت کاروں کے کارندے ایسے مواقع پر بریف کیس لیے وزرا اور اعلیٰ سرکاری افسروں کے دفاتر کا طواف کیا کرتے ہیں۔ سیاست دانوں کا نام زیادہ اچھلتا ہے، افسروں کا نہیں، جو برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ ایک چینی اور آٹا ہی کیا، مراعات کا حصول ہمیشہ اسی طرح ممکن ہوتاہے۔ کارٹل مصنوعی مہنگائی پیدا کرتے اور خلق کو لوٹتے ہیں۔ عام آدمی قیمت چکاتا ہے۔اندازہ ہے کہ برآمد کے بعد قیمت کے اضافے سے کم از کم 80ارب روپے عام آدمی کی جیب سے نکال لیے گئے۔ جہانگیر ترین ان میں سے ایک ہیں، جو گنے کی پوری قیمت ادا کرتے ہیں اور بروقت۔ٹیکس ادا کرنے میں بھی اس کا ریکارڈ اچھا ہے۔ سبھی زردار مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں، وہ بھی کوئی استثنیٰ نہیں۔ زرداری اور شریف خاندان بڑی مثالیں ہیں۔ تخت پہ براجمان ہوتے اور من مانی کرتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود دانشور ان کے لیے دلائل تراشتے ہیں۔تہہ در تہہ یہ ظلم کا ایک پیچیدہ نظام ہے۔ جہانگیر نے ٹھوکر کہاں کھائی؟ایک بار زندگی کے روحانی پہلو پہ بات چھڑی تو بے ساختہ جہانگیر نے کہا: مزے سے جی رہے ہیں۔کہاں گھسیٹ رہے ہو۔ پیہم کامیابیوں نے اسے مخمور کررکھا تھا۔ حد سے زیادہ پر اعتماد۔ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے کہا تھا: جس نے کبھی یہ نہ کہا کہ میں نے غلطی کی، وہ چوٹ کھانے والی جگہ پر چوٹ کھا کر رہے گا۔۔۔اور اقبالؔ نے یہ کہا تھا: روزِ ازل مجھ سے یہ جبریل نے کہا جو عقل کا غلام ہو، وہ دل نہ کر قبول عمران خاں جہانگیر ترین سے بہت شاد تھے۔ اسے وہ ’’سپیشل آدمی‘‘ کہا کرتے۔ یہ اصطلاح وہ غیر معمولی ہستیوں کے بارے میں برتا کرتے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو بہرحال ہدف حاصل کرے۔ کل شام خود اس نے یہ کہا کہ اس کے کارخانوں کی پیداواری صلاحیت دوسروں سے زیادہ ہے اور اخراجات کم۔ اس لیے گاہے وہ کم قیمت پہ چینی بیچ دیتا ہے۔ زراعت میں بھی وہ دوسروں سے بہتر اور برتر ہے۔ اسی لیے یہ میدان اسے سونپا گیا۔ ایک موقع پر اس نے کہا تھا: زرعی سرگرمیوں کو میں نے صرف منظم ہی نہیں کیا بلکہ بہتر ٹیکنالوجی متعارف کرائی۔ تقریباً چالیس پچاس ہزار ایکڑ زمین اس نے ٹھیکے پر حاصل کی۔ گنے کی فصل کے علاوہ اس پر جنگلات اگائے اور دوسروں سے زیادہ کمایا۔ وہ ایک منظم اور مرتب آدمی ہے۔ اپنا وقت ضائع نہیں کرتا۔ ہر حال میں ترتیب کوملحوظ۔ جس خواب نے جہانگیر ترین کودلدل میں اتار دیا ، وہ چینی کی برآمد نہیں بلکہ اقتدار کا خمار ہے۔ وہ نشہ،گاہے جو زعم پیدا کر کے عقل و دانش کے تقاضوں کو بھلا دیتا ہے۔وہ ایک طرح کا متوازی وزیرِ اعظم بن گیا۔ اس کا خیال یہ تھا کہ وہ عمران خان سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتا ہے۔پرنسپل سیکرٹری اعظم خاں سے اس کے مچیٹے کا سبب یہی تھا۔اعظم خاں نے اس سے کہا بھی :There can not be two prime ministersاے صاحبِ نظراں نشہ ء قوت ہے خطرناک۔ بے دریغ وہ پیسہ خرچ کرتا ہے۔قوتِ فیصلہ اچھی ہے۔ دوسرے تامل میں ہوتے ہیں، وہ طے کر لیتا ہے۔ اوّل اوّل وہ تحریکِ انصاف میں شامل ہونے پر آمادہ نہ تھا۔ پندرہ بیس سابق ایم این اے اور سینیٹر اس کے گھر پہ جمع ہوئے۔منصوبہ یہ تھا کہ ایک گروپ بنا کر عمران خاں سے اتحاد کر لیا جائے۔ گوجرانوالہ سے قومی اسمبلی کے مرحوم رکن کرنل سرور چیمہ کے سوا سبھی اس حکمتِ عملی کے حامی تھے۔ کئی دن یہ بحث جاری رہی۔ ایک دن قدرے جھلّا کر میں نے کہا: اس طرح نہیں ہوتا۔ آپ لوگ تحریکِ انصاف میں شامل ہوں گے یا نہیں، یہ آپ کا اپنا فیصلہ ہے لیکن الائنس قابلِ عمل نہیں۔پھر ایک ایک کر کے اپنے دلائل پیش کر دیے۔ فاروق لغاری مرحوم کے دونوں فرزند اس مجلس میں موجود تھے، جنہوں نے بعد ازاں نون لیگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ جہانگیر ترین کی آنکھوں میں ایک چمک ابھری اور جلد ہی اس نے فیصلہ کر لیا۔ ساتھیوں کو اس نے قائل کر لیا۔ علیم خاں کے علاوہ وہ واحد شخص تھا کہ جب بھی روپے کی ضرورت پڑتی، فوراً فراہم کر تا۔ قدم قدم وہ عمران خاں کے ساتھ رہا۔ہر مشکل کام اسے سونپا جاتا، خوش اسلوبی سے وہ انجام دیتا۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سب سے اہم رابطہ وہی تھا۔ اس لیے کہ بات کرنے کا سلیقہ رکھتا ہے اور رازداری کی صلاحیت بھی۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت آسانی سے قائم نہ ہو سکتی، اگر یہ ذمہ داری اسے نہ سونپی جاتی۔ ایک ایک آدمی کو ڈھو کر لایا اور ایک ایک کو قائل کیا۔ اس کے وعدے پر اعتبار کیا جاتا اور اس سے امید وابستہ رکھی جاتی۔ جہانگیرنے تہیہ کر لیا کہ عمران خان کے بعد اقتدار کی بساط میں وہ ملک کا اہم ترین آدمی ہوگا۔ باہمی اعتماد اس قدر تھا کہ ذاتی معاملات میں بھی عمران خان اس سے مشورہ لیتے مثلاً ریحام خان کو طلاق دینے کا مرحلہ۔ ہر با خبر آدمی جانتا ہے کہ اسد عمر کو وزارتِ خزانہ سے الگ کرنے میں سب سے زیادہ عمل دخل اسی کا تھا۔عمران خان ہمایوں اختر اور ہارون اختر کو پارٹی میں لانے کے لیے دوبار ان کے گھر گئے مگر جہانگیرچٹان بن کر حائل رہا۔ غیر معمولی صلاحیت اور ذہانت کا کوئی آدمی عمران خاں کے قریب آئے، اسے یہ گوارا نہ تھا۔ رسوخ بڑھتا گیا اور پارٹی میں اس کی مخالفت بھی؛تا آنکہ یہ دن آ پہنچا۔ہر کمالِ را زوالِ۔ قرآنِ کریم میں ہے: یہ دن ہیں، جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ کبھی نشیب، کبھی فراز۔وہ سمجھ نہ سکا کہ دنیا عقل کی چراگاہ نہیں۔قوانینِ قدرت کو ملحوظ رکھنا پڑتا ہے۔ اب وہ ایک اور غلطی کا مرتکب ہے۔ اعظم خاں کو سازش کا ذمہ دارٹھہرا کر اپنا مقدمہ اس نے کمزور کر لیا ہے۔ اللہ نے کسی کو اپنی تقدیرطے کرنے کا اختیار نہیں دیا اور دوسروں کا تو بالکل ہی نہیں۔ آرزوئیں تو بادشاہوں کی بھی پروان نہیں چڑھتیں، ضرورتیں فقیروں کی بھی پوری ہو جاتی ہیں۔ خدا کی بستی دکاں نہیں ہے-Haroon-ur-Rasheed-Daily92