جدہ کی ڈائری

جدہ کی ڈائیری۔۔ امیر محمد خان  شیخ  ڈاکٹر    عبدالرحمان  بن عبدالعزیز السدیس  مسجد حرام  اور مسجد نبوی  کے ڈائیریکٹر  جنرل کا عالم اسلام کے لئے پیغام  سعودی  عرب میں  ڈائیریکٹر  جنرل برائے   امور  مسجدِ حرام و مسجد نبوی، عزت مآب فضیلۃ الشیخ جناب ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس ایک بہت ہی معتبر  شخصیت کے حامل ہیں گزشتہ رات انہوں نے  مدینہ المنورہ سے اپنا ایک پیغام جاری کیا جس میں کرونا وائرس کی حالیہ وباء کے سلسلے میں  عالم اسلام کو ایک پیغام دیا  انکا  یہ پیغام  تمام دنیا  اور عالم اسلام میں قران  اور اسکی سنت ماننے والوں کیلئے  ایک مشعل  راہ ہے   جس میں انہوں نے نہ صرف  سعودی  باشندوں بلکہ  یہاں برسرروزگار  غیر سعودیوں  اورا نکے اہل خانہ کو بھی مخاطب  کیا ہے  انہوں نے کہا کہ  اللہ تعالی آپ کو اپنی حفظ و حمایت میں رکھے، اس وقت پوری دنیا جس بہت بڑی تباہ کن ابتلا اور خطرناک وبا کا شکار ہے، آپ اس سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔اور اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ وہ اللہ بلند و برتر کی طرف سے امتحان و آزمائش ہے۔اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا: (مال وجان اور پھلوں میں کمی و نقصان یا دشمن کے خوف  وخطرے سے، میں تم کو لازمی اور ضروری طور پر آزماؤں گا، اور (اس آزمائش پر) صبر کرنے والوں کو خوشخبری دیجئے)  (بقرہ: 155).اسی طرح ہمارا بابرکت ملک سعودی عرب بھی اس کی لپیٹ اور انتشار کا شکار ہے۔اور یقیناً ہم سب کا اللہ کی قضا و قدر اور رضا پر راضی رہنا انتہائی ضروری ہے:  جیسا کہ فرمایا:(یقیناً ہم نے ہر چیز کو مقررہ اندازے کے مطابق  پیدا کیا ہے)  (قمر: 49)اور فرمایا: (کوئی بھی مصیبت اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں پہنچ سکتی).(تغابن: 11)۔اور فرمایا:(زمین یا تمہاری جانوں میں کوئی بھی مصیبت نہیں آتی، مگر ہمارے پیدا کرنے سے پہلے ہی وہ کتاب میں لکھی ہوئی موجود ہے)۔ (حدید: 22)۔سو حاکمیت صرف اللہ بزرگ و برتر کی ہے۔ جیسا کہ فرمایا: (یاد رکھو اللہ کے لیے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے لبریز ہے اللہ، جو رب العالمین ہے)۔(اعراف: 54)۔اسی طرح بندوں کے لیے ضروری ہے کہ اللہ پر مضبوط ایمان رکھیں اور اللہ کے بارے میں انتہائی عظیم الشان حسنِ ظن ہو اور اپنے رب تبارک و تعالی پر پختہ یقین اور بھروسہ ہو اور اسی کی پناہ میں آ جائیں کیونکہ اس کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔پھر تمام مسلمانوں کے لیے واجب اور ضروری ہے کہ وہ ان حفاظتی اقدامات اور احتیاطی تدابیر کو اختیار اور فالو کریں۔ اور اس بابرکت ملک سعودی عرب نے بے شمار حفاظتی اقدامات اور احتیاطی تدابیر شروع کی ہیں  جن کا مقصد  صرف اور صرف نفس، بدن اور جان و ارواح کی حفاظت ہے۔کیونکہ جانوں کی حفاظت کی ذمہ داری ایک بہت عظیم ذمہ داری ہے اور حکمرانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس ذمہ داری کو اپنے شہریوں اور اپنی سرزمین پر آباد لوگوں کے لیے نبھائیں۔انہوں نے  کہا کہ سعودی عرب نے ہماری روشن شریعت پر عمل کرتے ہوئے اور ہمارے مذہبِ اسلام کے اصول و قواعد  پرچلتے ہوئے  احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات کی انتہائی عمدہ مثالیں قائم کی ہیں۔جیسا کہ ان اصول و قواعد میں سے ہے کہ ” خرابی اور نقصان کی روک تھام اور ازالہ،مفاد کے حصول پر مقدم ہے”اسی طرح ان قواعد میں سے یہ ہے کہ” مشقت آسانی کا باعث ہوتی ہے” اور ”نقصان و پریشانی کو ختم کرنااسے بڑھانے سے بہتر ہے” اور اسی طرح ایک معروف قاعدہ یہ ہے کہ”احتیاط اور پرہیز علاج سے بہتر ہے ”۔ اور اس بابرکت ملک کا حرمین شریفین اور   مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ  کی طرف آنے والوں اور یہاں کے رہائشیوں کی ارواح کی حفاظت کی خاطر ان مبارک احتیاطی اقدامات کے اہتمام میں بہت بڑا حصہ ہے۔اور ہمارے حکمرانوں (اللہ ان کی حفاظت فرمائے) کا ساتھ دینا اور نیکی و بھلائی کے کاموں میں ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا، ہم سب پر واجب اور ضروری ہے، کیونکہ حاکم کا رعایا کے بارے میں حکم کسی مصلحت پر ہی مبنی ہوتا ہے۔اللہ عزوجل نے فرمایا: (اے ایمان والو!  اللہ، رسول اور جو تم میں سے حکمران ہوں، ان سب کے اطاعت کرو). (نسا: 59)حکمرانوں (اللہ ان کی حفاظت فرمائے) نے اپنی روشن قیادت کا ثبوت دیتے ہوئے، لوگوں کے نفسوں اور جانوں کی حفاظت کے لالچ اور حرص کے طور پر بہت سے کامیاب، درست اور مبارک اقدامات کئے ہیں۔ اللہ تعالی ان کو جزائے خیر دے اور ان کے اجروثواب کودوبالا فرمائے۔انہوں نے مزید کہا کہ اے میرے اسلامی  بھائیو! ہم سب ذمہ دار اور مسؤول ہیں۔ اور تم میں سے ہر ایک راعی ہے اور اپنی رعایا کا ذمہ دار ہے۔ اسی طرح ان احتیاطی تدابیر اور اپنے گھروں میں برقرار رہنے کے فیصلے پر عملدرآمد کرنا اور کروانا بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔  کیونکہ یہی شریعت کا تقاضا ہے۔ اور یہ قرنطینہ اور لاک ڈاؤن بھی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے دلائل سے ہی ماخوذ ہے۔اللہ عزوجل نے فرمایا:   (تم اپنے آپ کو بذاتِ خود ہلاک نہ کرو)   (بقرہ: 159) اور فرمایا: (تم اپنے نفسوں کو قتل نہ کرو  ، بیشک اللہ تمہارے ساتھ انتہائی مہربان ہے)(نسا: 159)۔اور بلاشبہ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے اور ہم سب پر ضروری ہے کہ ان حفاظتی و احتیاطی تدابیر واقدامات پر پابندی کرنے میں، اپنے حکمرانوں (اللہ ان کی حفاظت فرمائے) کا ساتھ دیں، کیونکہ اسی میں ہم سب کا مفاد ہے۔اور اسی میں ہمارے نفسوں، جانوں اور بدنوں کی حفاظت ہے۔  اور شریعت کے مقاصد میں سب سے عظیم مقصد بھی جانوں کی حفاظت ہی ہے، جو کہ اللہ کے فضل و احسان  سے ان احتیاطی تدابیر کے ذریعے حاصل ہوچکا ہے۔اللہ تعالی ہمارے سکیورٹی پر مامور کامیاب اور مبارک نوجوانوں کو جزائے خیر دے جو ہمارے وطن، شہریوں اور اس کی سرزمین پر  رہنے والے مقیمین  کے امن و سلامتی کی حفاظت کی خاطر، ہمارے ملک کی تمام سرحدوں اور چیک پوائنٹس پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ہمارے  محکمہ صحت کے ہیرو اور جوان (اللہ انہیں توفیق دے) کی کاوشیں بھی انتہائی قابلِ قدر ہیں۔ہمیں ان کا بھی تعاون کرنا چاہئے اور ان کی عظیم کاوشوں پر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور بلاشبہ ہیلتھ پر مامور ہمارے جوان  بھائیوں کی ان توجیہات و احتیاطی تدابیر پر مبنی پندونصائح جو ہم سب کے مشترکہ مفاد میں ہیں، پر ان کا ساتھ دینا اور یکجہتی کا اظہار کرنا، نیکی اور تقوی پر تعاون میں سے ہے۔اور ہمارے حکمرانوں (اللہ ان کی حفاظت فرمائے) کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہونا، ہم سب پر ضروری ہے۔  اسی طرح ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ افواہوں اور من گھڑت خبروں پر ہرگز توجہ نہ دیں، بلکہ خوشخبریوں اور اچھی امیدوں کو پھیلانے کی بھرپور کوشش کریں۔     (تم اپنے آپ کو بذاتِ خود ہلاک نہ کرو)۔(بقرہ: 159).ارشادِ باری تعالیٰ ہے:(کہہ دیجئے اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنے نفسوں پر(گناہوں کے ذریعے) ظلم کیا ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بلاشبہ اللہ تعالی تمام گناہوں کو بخش دے گا، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے). (زمر: 53)۔حرمین شریفین، تمام مسلمانوں، یہاں کے  شہریوں  اور  مقیمین بلکہ تمام عالم کے خصوصی اہتمام و انتظام کے لیے خادم حرمین شریفین اور ان  کے ولی عہد امین  کی بابرکت جہود پر، اللہ سے دعاگو ہیں کہ وہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔اور اس پر جو وہ مفادِ عامہ کے حصول کی خاطر احتیاطی تدابیر پر ہمیشہ توجہ دلاتے ہیں۔ ؒکروناء وائرس  کی صورت میں  بیرون ملک  پاکستانیوں کے مسائل۔ سعودی عرب کے حوالے  سے یہاں بھی سفید کالرز  اور  بلو کالرز  پاکستانیوں کی بڑی تعداد موجود ہے،  نجی ادارے  جن میں چھوٹے دوکاندار ،  متوسط  آمدنی والے  ادارے،  مستقل کرفیو جو  حکومت نے یہاں رہنے والوں کی حفاظت کیلئے لگایا ہے، ادارے بند ہیں ، تنخواہوں  مین تاخیر ہے۔ جنکے بچے یہاں تعلیم حاصل کررہے ہیں وہ پاکستانی اسکول  کسی کے ساتھ رعائت کرنے کو تیار نہیں کہ فی کم لے لیں یا قسطوں میں لے لیں ، اسکول بند ہیں   جدہ کے دونوں کے اسکولوں  اور طائف کے ایک اسکول نے ایک مہربانی کی ہے جس دوران اسکول بند ہیں  اسوقت کی ٹرانسپورٹ فیس معاف کردی ہے  مگر یہ  صرف ان لوگوں کیلئے رعائت ہے  جو اسکول جانے کیلئے  اسکول ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں۔ جنکی تعداد  شائد چالیس فیصد سے زائد نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ  اسکول  انتظامیہ  طلباء  والدین کو  فیسوں میں کوئی رعائت دے۔ ایک انگریزی اسکول ہے  وہاں کے سسٹم  میں تو ایسا ہے  کہ  انکے پاس  احتیاطی فنڈ ہے  ایک اچھی بڑی مقدار میں شائد وہ کچھ کرسکین  مگر فیالحال   ایسا کچھ نہیں۔  دوسرا  عزیزیہ اسکول ہے  جہاں نہائت ہی متوسط  خاندانوں کے  بچے  تعلیم حاصل کررہے ہیں   انکے انتظامی بورڈ کا کہنا ہے  ہمارے پاس  اخراجات زیادہ ہیں  عام زبان میٰں اسکول  hand to mouth ہے۔  انتظامی بورڈ  کے نائب چئیرمین سے بات ہوئی تھی  انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ  اسکول کے اخراجات  اور آمدن بھیج دینگے  قارئین کی اطلاع کیلئے  مگر  تاحال ان سے کچھ موصول نہ ہوسکا  نہ جانے  کونسی رپورٹ مرتب کررہے ہیں   اب گیند  آتی ہے  سفیر پاکستان راجہ علی اعجاز  کی کورٹ میں  بہ حیثیت  سعودی عرب میں پاکستانیوں کے معاملات کے ذمہ دار ۔  انہیں کوئی قدم اٹھانا  ہوگا جس سے اسکول کے معاملات بھی چلتے رہیں   اور  والدین پر بھی اس صورتحال میں بوجھ  ہوسکے ،  انہیں ضرور اس بات  کا درد اور تدارک ہوگا کہ  اس ہنگامی صورتحال میں  معاملات پر  کیسے قابو پایا جائے۔ اسکول کے طلباء  و طالبات کے والدین  کی نظرین  انکی طرف ہیں۔ ہمارا مشورہ ہے کہ وہ حکومت پاکستان کی  منظوری سے   یہاں جمع شدہ  ویلفیئر فنڈ   جسکا آج تک کمیونٹی کو پتہ نہی  اس ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے اور اپنی کمیونٹی کو  ریلیف دینے اور دعا لینے کیلئے کوئی  فوری قدام  اٹھائینگے۔ عزیزیہ اسکول کا ایک پریس ریلیز  دوران تحریر  موصول ہوا ہے جسکا مختصر یہ ہے کہ  اسکول کو سالانہ نقصان ہے ،اسکول کی آمدن  سترہ لاکھ ،  اور اخراجات  سولہ  لاکھ  جس میں تاخیر  سے فیسوں کو ادائیگوں کو   ایڈجیسٹ کیا جاتاہے،  ملازمین کو  کرایہ مکان کی مد میں  اسی ماہ ادائیگی ہوتی  ہے۔ جو فیسوں میں تاخیر فیس آئے گی  اس پر کوئی جرمانہ نہیں ہوگا،  اور جو  والدین فیس کی ادائیگاں قسطوں میٰں کرینگے  وہ بھی قبول جائیے اور کسی بچے  کو فیس  نا دہندہ ہونے کی وجہ  سے اسکول  سے بے دخل نہیں کیا جائے گا۔  سفیر پاکستان کو اس بات کو  بھی دیکھنا ہوگا جنکے بچے  ایک زائد  اگر چار بچے ہی ہونگے انکے یکشمت  ادائیگی کیسے ہوگی۔  سفیر پاکستان کیلئے  کام بڑا ہے اور مشکل ہے  اسکے لئے انہیں اپنا تجربہ انسانی ہمدردی کی نظر سے استعمال کرنا پڑے گا۔