ایم ایم عالم اپنے ٹوٹے بازو پر پلستر باندھے تقریر کر رہے تھے، باہر ہوائی فائرنگ …………

پاکستان کے گہرے اور حساس قومی مفادات پر مبنی افغان پالیسی جو یقیناً اپنی تائید و حمایت کے اعتبار سے ’’قومی افغان پالیسی‘‘ کی شکل اختیار کر گئی تھی۔
پاکستانی تقسیم رائے عامہ کو تبدیل کرنے کی شکل میں منظم اور ابلاغی حملہ جس کی جملہ تفصیلات تھیں، ’’افغان جہاد‘‘ کا سیاسی رُخ‘ تبدیلی کی آخری کوشش تھی جو سرزمین ِ پاکستان پر ہوئی لیکن اس کو مکمل ناکام بنانے میں ’’جنگ گروپ‘‘ کے زیرِ اہتمام لاہور میں ہونیوالی سہ روزہ عالمی افغان کانفرنس بعنوان ’’افغان باقی، کہسار باقی۔الحکم للہ، الملک للہ‘‘۔
ایک وسیع البنیاد عالمی کانفرنس تھی جسکے اختتام پر لیفٹ لابی کے ایک مسلح گروہ نے افتخار تاری کی سرکردگی میں ہنگامہ آرائی کی، حتیٰ کہ آخری سیشن جسکی صدارت حکمت یار کر رہے تھے اور اس سے پاک فضائی جنگی تاریخ کے سب سے بڑے غازی ہیرو ایم ایم عالم اپنے ٹوٹے بازو پر پلستر باندھے تقریر کر رہے تھے، کے دوران کانفرنس ہال سے باہر ہوائی فائرنگ کرکے ’’افغان پالیسی‘‘ کے مخالفین نے اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔
چونکہ اس تاریخی کانفرنس کے آرکیٹکٹ میر شکیل الرحمٰن اور یہ ناچیز تھا اور سابق وزیر اطلاعات محمد علی درانی ہمارے ساتھ سرگرم تھے،وہ اور میں لاہور میں انسٹیٹیوٹ آف افغان افیئرز کو سرگرم رکھے ہوئے تھے۔
پلاننگ اور آپریشنل ذمہ داریاں میری تھیں اسلئے میں آخری سیشن کے دوران ہلڑ بازی اور باہر ہوائی فائرنگ پر بہت پریشان ہوا کہ اتنی کامیاب اور بڑی کانفرنس کے اختتام پر یہ کیا ہوا؟

لیکن جب کانفرنس ختم ہونے کے بعد میں شکیل صاحب کو ہنگامہ آرائی کی تفصیلات بتانے جنگ لاہور آفس گیا تو انہوں نے بڑے حوصلے سے بہت شاباش دی اور کہا ’’آپ کے اور ہماری پالیسی کے نقطہ نظر سے یہ ہماری کامیابی ہے کہ مخالفین کے پاس دلائل ختم ہو گئے تو انہوں نے خود ہی واضح کر دیا کہ وہ اس افغان قومی پالیسی کو بدلنے میں شکست کھا گئے ہیں، لگتا ہے بہت مایوس ہوئے ہیں‘‘۔
انہیں مجھ سے پہلے ہی ہنگامہ آرائی کی تمام تر تفصیلات اپنے رپورٹرز کے ذرائع سے آفس میں بیٹھے مل چکی تھیں اور بار بار کانفرنس کی کامیابی اور اس پر مختلف اہم ذرائع سے آنیوالے فیڈ بیک پر وہ بہت مطمئن اور خوش نظر آ رہے تھے۔
کانفرنس پر انہوں نے انتہائی فراخدلی سے پیسہ خرچ کیا اور بیرونی مہمانوں نے اپنی جگہ اسکی بےحد تعریف و توصیف کی۔ بلاشبہ اسکے نتیجے میں افغان پالیسی پر ملک بھر میں جو رائے سازی ہوئی اس نے ثابت کردیا کہ بحیثیت پاکستانی قوم افغانستان سے سوویت جارحیت ختم کرانے میں پاکستان کا کردار حکومت اور حساس اداروں تک ہی محدود نہیں، پوری قوم، قومی افغان پالیسی کی پشت پر ہے۔
کانفرنس کے فالو اَپ میں بھی بہت کچھ ہوا، اتنا کہ افغان مجاہدین کے اتحاد کے سبھی رہنمائوں اور پاکستانی سیاستدانوں، ایڈیٹر صاحبان، سینئر صحافیوں اور دانشوروں میں تسلسل سے رابطوں کا ایک سلسلہ چل نکلا۔
یہ افغان رہنما جب آتے میرے ہمراہ میر شکیل الرحمٰن سے ملاقات کرتے اور ان کی افغان پالیسی اور کوریج پر ان کا شکریہ ادا کرتے۔ بڑی بات یہ تھی کہ یہ ’’افغان پالیسی‘‘ پورے قومی میڈیا کی ایجنڈا سیٹنگ میں آگئی اور بھارت تک اسکے اثرات گئے کیونکہ بھارت کے صحافیوں اور دانشوروں میں ایک لابی ایسی بن گئی تھی جو جنرل اسمبلی میں بھارت کی غیرجانبداری کی ناقد ہو گئی تھی، شاید اس کا اثر تھا کہ افغانستان پر سوویت جارحیت کے خلاف بھوٹان نے بھی اسکی حمایت میں ووٹ دیا جو بھارت کی تقلید میں اجلاس سے غیرحاضر رہتا چلا آ رہا تھا۔

اگر پاکستانی علمی و تحقیقی حکومتی و نجی اداروں میں کبھی اتنی سکت پیدا ہوگئی کہ وہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی، 1971ءکی جنگ کے اصل حقائق سمیت، بھٹو دور کی اصلیت، افغان جہاد کی لکھی اور کتنی ہی مسخ تاریخ کو ثابت شدہ حقائق سے سامنے لا کر پروپیگنڈے اور گمراہی سے پاک کرسکے تو جس طرح 1965ءکی جنگ میں فوج اور میڈیا شانہ بشانہ ہونے سے پاکستان کی نفسیاتی برتری پوری دنیا پر واضح ہوئی۔
اسی طرح افغان جہاد جو ایک بڑے فیصد میں سوویت کشور کشائی کے خاتمے ، سنٹرل ایشین سکہ بند مسلم ریاستوں اور مشرقی یورپ اور بالٹک ریجن کی آزادی کا باعث بنا، میں پاکستانی قوم کے کردار کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
میر شکیل الرحمٰن ایک ہمہ گیر ’’میڈیا لارڈ‘‘ ہیں۔ انہوں نے اپنا کوئی مخصوص لبادہ تیار نہیں کیا جس سے وہ اپنی صحافت کی دکان چمکائے رکھتے۔
وہ قومی ضروریات، عوامی رجحانات و ضروریات اور عوام و ملک کو متاثر کرنیوالے کرنٹ افیئرز پر ہمیشہ چوکس رہے اور اس پر روایتی صحافت تک محدود نہیں رہتے بلکہ اپنی تازہ ذہنی اور اختراعات سے اپنے ادارے کو نمبر ون رکھنے اور پورے میڈیا کو اپنے پیچھے چلانے پر ان کی خصوصی دسترس ہے۔

ایجنڈا سیٹنگ میں، پاکستان کے ایک نظریانہ سیکٹر کو بیدار کرنے، اسے سرگرم کرنے اور اس سے متعلق حکومتی پالیسیوں اور فیصلہ سازی کو متاثر کرنے میں انکی صحافتی خدمات بیش بہا ہیں۔ یہ سیکٹر سوشل سیکٹر ہے۔
جسے روایتی سیاسی ایجنڈے نے قومی صحافت میں دبا کر رکھا ہوا تھا۔ ناچیز کی مشاورت سے اس پر میر شکیل الرحمٰن کے صحافتی اقدامات مثالی اور بہت نتیجہ خیز اور ہمارے صحافتی ارتقا کی قابلِ فخر داستان ہیں جو میر شکیل الرحمٰن کی قابلِ احتساب ہوتے نیب کے ہاتھوں غیر قانونی گرفتاری کے باعث اب کسی حد تک ریکارڈ پر آ رہے ہیں وگرنہ انہوں نے خود تو کبھی اس کی پروا نہیں کی اور نہ ہم پر یہ خودپسندی اور خود توصیفی طاری ہوئی۔
Dr-Mujahid-Mansuri-Jang