عوام پر’’کے الیکٹرک وائرس‘‘ نے حملہ کردیا

جمعیت علماء اسلام کے رہنماء قاری محمد عثمان نے کہا کہ کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن سے نڈھال شہریوں پر ’’کے الیکٹرک وائرس‘‘ نے حملہ کردیا جو ایک بڑاسانحہ ہے۔ کے الیکٹرک انتظامیہ مارچ کے بل معاف کرکے شہریوں پر رحم کرے۔ ادارہ 3 گنا زیادہ ایوریج بل بھیج کر کے الیکٹرک شہریوں کے اجتماعی قتل عام کا مرتکب ہورہا ہے۔حکومتی امداد اور راشن تقسیم کی باتیں صرف اعلانات کی حد تک ہیں۔عوام کو ریلیف کے بجائے اذیت دی جارہی ہے۔وہ اپنے دفتر میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے وفود سے گفتگو کررہے تھے جنہوں نے قاری محمد عثمان کو بتایا کہ کے الیکٹرک کے اہلکاروں کی میٹر ریڈنگ کیلئے نہ آنے کی صورت میں بجلی کے جو بلز آئے ہیں وہ 3 گنا زیادہ بھیج دئے گئے ہیں۔

جب کاروبار لاک ڈاؤن کیوجہ سے بند ہیں تو شہری بلز کیسے جمع کراسکتے ہیں وہ بھی تین گنا زیادہ۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ چاہیئے تو یہ تھا کہ کے الیکٹرک کی طرف سے مارچ کے بل عام معافی کے جذبہ سے معاف کردئے جاتے۔اگر ایسا نہیں تو ایمان کے آخری درجہ کے طور پر لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد حالات معمول پر آتے ہی میٹر ریڈنگ کراکر سابقہ بل کی 2 قسطوں کی صورت میں موجودہ بل کے ساتھ بھیجا جائے ورنہ موجودہ ظلم ناقابل برداشت ہوگا۔ایک طرف حکومت عوام کو جینے کے حق سے محروم کررہی ہے اور دوسری طرف ایک وقت کے کھانے کو ترسی عوام کو تین گنا زیادتی کے ساتھ بل بھیجنابدترین اذیت سے دوچار کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت باتوں اور اعلانات کی حد تک تو بہت فعال ہے مگر عملی میدان میں کارکردگی نظر نہیں آتی۔