دھرنے کی پلاننگ میں غلطی ہوئی خان پریشان تھا، عون چودھری سے 50 لاکھ روپے لے کر انتظامات کئے میری کیموتھراپی ہو رہی تھی

2013 کے الیکشن میں شکست کھانے کے بعد 2014 میں نواز شریف حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دئیے گئے دھرنے کے حوالے سے جہانگیر ترین نے اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2013 کے الیکشن میں ہم بری طرح ہار گئے تھے دھاندلی دھاندلی کا شور ہم نے صرف اس لیے مچایا کہ سیاست جاری رہ سکے اصل میں دھاندلی صرف چند سیٹوں پر ہوئی تھی 50 فیصد سیٹیں ایسی تھی جہاں پر ہم دوسرے نمبر پر بھی نہیں آئے تھے ہماری پارٹی تیسری چوتھی اور پانچویں پوزیشن پر تھی 66 فیصد سیٹیں ایسی تھی جہاں بیس فیصد ووٹ بھی نہیں ملا تھا میں نے عمران خان سے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے امیدوار غلط تھے اگر آئندہ الیکشن لڑنا ہے تو پنجاب میں سیاسی خاندان ہیں ان کے لوگوں کو ٹکٹ دینے ہونگے ورنہ آپ وزیراعظم نہیں بن سکتے میری یہ باتیں عمران خان کی سمجھ میں آگئی تھی لیکن پارٹی کے نظریاتی لوگ میرے خلاف تھے اور وہ کہتے تھے کہ جہانگیر ترین پارٹی کو غور کر رہا ہے اپنے لوگ لاتا ہے میں انہیں سمجھاتا رہا کہ ارے بابا یہ میرے لوگ نہیں ہیں یہ الیکٹیبلز ہیں ان کے بغیرکامیابی حاصل نہیں ہوسکتی اور 2018 کے الیکشن نتائج دیکھ لیں ہم نے پنجاب سے 67 نشستیں جیتی ہیں اور ان میں اسی فیصد سیاسی خاندانوں کے لوگ ہیں ۔اور ساٹھ فیصد وہ لوگ ہیں جنہوں نے 2013 کے بعد پارٹی جوائن کی تھی زیادہ تر کو میں ہی پارٹی میں لے کر آیا ۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ دھرنے سے پہلے میری قیمت رافی ہورہی تھی اس لیے میٹرک پر لاہور میں چڑھا ضرور لیکن پھر اتر گیا اور بعد میں جہاز کے ذریعے اسلام آباد پہنچا ۔انہوں نے کہا کہ دھرنے کی پلاننگ غلط تھی قافلے کے ساتھ میں نہیں جا سکتا تھا میں بیمار تھا اسلام آباد میں کوئی انتظام نہیں تھا خیبرپختون والے وہاں پہلے پہنچ گئے نہ وہاں کرسی تھی نہ شامیانہ اسٹیج یہ اگلے دن پہنچے لاہور سے اور پھر وہاں بارش ہوگی بدنظمی ہوگی عمران خان کر چلے گئے ۔اگلے روز میں اور ان کا دوست موبی ہم دونوں مل کر عمران خان کے پاس گئے وہ پریشان تھے بیڈروم میں بلایا ۔میں نے ان کو تسلی دی کہ میں سب سنبھال لوں گا شام تک اسٹیج بھی بن جائے گا اور سیاں اور شامیانے بھی لگ جائیں گے وہاں سے نیچے اترا تو علیم خان مایوس کھڑا تھا وہ کہنے لگا میں لاہور میں لوگوں کو جانتا ہوں پنڈی میں میرے لوگ نہیں ہیں میں نے کہا لوگوں کا انتظام کرو اور یہ کام کرنا ہے اس نے کہا پیسے ؟میں وہاں سے آگے بڑھا تو ان چوہدری سے ملاقات ہوئی میں نے اس سے کہا کہ مجھے پچاس لاکھ روپے فوری طور پر بندوبست کرکے دو اس نے انتظام کیا اور ہم نے دھرنے کا اسٹیج اور سارا انتظام کرایا اور سیورفوڈ والوں سے گاڑیاں منگوائی اور لوگوں کو کھانا کھلائے ۔خان کو بتایا گیا کہ روزانہ پچاس لاکھ روپے کا خرچہ ہوگا خان پریشان ہو گیا میں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا حساب لگا کر بتایا کہ روزانہ 12 لاکھ روپے کا خرچہ ہوگا ۔
جہانگیر ترین نے کہا کہ اب پیچھے ہٹنے کی وجہ یہ رپورٹ نہیں ہے میں دو مہینے سے عمران خان سے پیچھے ہٹ چکا ہوں اور حکومتی معاملات میں نہیں جا رہا چھ مہینے پہلے اعظم خان سے اختلافات شروع ہوئے تھے ۔