چینی کے کاروبار میں عمران خان کے ذریعے 18 ارب روپے کمانے کا الزام سراسر جھوٹ ہے، جہانگیر ترین پھٹ پڑے

جہانگیر ترین نے خود کو حکومتی امور اور فیصلوں سے بالکل الگ کرتے ہوئے اپنی ساری توجہ اپنی فیملی اور بزنس پر مرکوز کرنے کا اعلان کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ پہلے مجھے حکومت مشوروں کے لئے بلاتی تھی کیونکہ رات میں میرا تجربہ ہے اس لیے میں ان کو اپنے مشورے دے دیتا تھا لیکن اب میں یہ کام نہیں کروں گا میری ساری توجہ اپنے بزنس اور فیملی پر ہوگی مجھے کسی بات کا رنج نہیں ہے نہ ہی میں ٹوٹنے والا شخص ہوں میں اللہ کا شکر گزار ہوں اس نے مجھے عزت دی لوگ مجھے پیار کرتے ہیں انہوں نے شہبازشریف کی طرف سے اس الزام کی سختی سے تردید کی کہ عمران خان نے اٹھارہ ارب تحفہ دیا انہوں نے کہا کہ چینی کے کاروبار میں عمران خان کی وجہ سے اٹھارہ ارب روپے کمانے کا الزام سراسر جھوٹ ہے جہانگیر ترین نے کہا کہ میں سیاست میں آنے سے پہلے سے چینی کے کاروبار میں آچکا تھا پہلی شوگرمل 1992 میں لگائیں اجمیری چھپر ملے ہیں جبکہ سیاست میں 2002 میں آیا تھا میری تجویز ہے کہ حکومت شوگرمل انڈسٹری کے حوالے سے ریگولیشن ختم کردے اور لوگوں کو کھلی مارکیٹ سے گنا خریدنے اور چینی بنانے کی صلاحیت پیدا کرنے کے مواقع دے ریگولیٹری سسٹم ختم کردینا چاہیے 180 روپے کی جو ریگولیٹری پرائس رکھی گئی ہے۔

اس کی وجہ سے مسائل ہیں اتنی مہنگی اور اتنی زیادہ قیمت ہے کہ عالمی مارکیٹ میں اتنی مہنگی چینی نہیں بھیج سکتے انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسی شوگر ملے ہیں میری 600 گملے ہیں باقی 74 شوگر ملوں کے مالکان سے بھی پوچھا جائے میں پاکستان میں ضرورت کے حساب سے بننے والی چینی کا 20 فیصد بناتا ہوں اور یہ کوئی غیر قانونی کام نہیں ہے قانون مجھے 40فیصد تک چینی بنانے کی اجازت دیتا ہے میری ساری ملی پنجاب میں نہیں دو شوگر ملیں سندھ میں ہیں اگر پی ٹی آئی کی حکومت کا فائدہ اٹھا کر دو اور ڈالتا تو صرف پنجاب حکومت پر کیوں خیبرپختونخوا حکومت پر بھی دباؤ ڈالتا لیکن ایسا نہیں ہوا خیبر پختونخوا کی حکومت نے چینی پرکوئی سبسڈی نہیں دی اس بارے میں خیبرپختونخوا کی حکومت سے پوچھا جائے پنجاب حکومت کا کین کمشنر بتائیے گا کہ اس نے یہ فیصلہ کیوں کیا اور میں آج بھی کہتا ہوں کہ چینی ایکسپورٹ کرنے کا فیصلہ غلط نہیں تھا کیونکہ ملک میں کبھی بھی شوگرکی شارٹیج نہیں ہوئی آج بھی وافر اسٹاک موجود ہے چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت تو اسد عمر نے دی تھی وہ اپنے فیصلے آزادی سے کرتے ہیں میں اسد عمر پر اثرانداز نہیں ہوتا جہانگیر ترین نے ایک سوال پر بتایا ہے کہ اسد عمر کی وزارت میرے کہنے پر نہیں گئی تھی یہ وزیراعظم عمران خان کی اپنی صوابدید تھی حفیظ شیخ سم میرے اچھے تعلقات ہیں وہ دوست ہیں مہربان ہیں لیکن ان کا چینی کے معاملے میں کوئی کردار نہیں ۔جہانگیر ترین نے کہا کہ مجھے انکوائری کی خوشی ہے میں چاہتا ہوں کے مکمل رپورٹ سامنے آئے ابھی تک لوری رپورٹ آئی ہے یہ نا مکمل رپورٹ ہے ابتدائی رپورٹ ہے