عمران خان کے لاڈلے جہانگیر ترین ان دی لائن آف فائر میں کیوں؟ چھ مہینے پہلے اختلافات کس بات پر شروع ہوئے؟ سنسنی خیز انکشافات

وزیراعظم عمران خان اور ان کے لاڈلے جہانگیر ترین کے درمیان اختلافات کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آرہے ہیں جہانگیر ترین نے خاموشی توڑ دی ہے اور اب وہ ایک ایک کر کے تمام رازوں سے پردہ اٹھا رہے ہیں اور کھل کر بتا رہے ہیں کہ عمران خان وزیراعظم کیسے بنے ۔
جب جہانگیرترین کا نام ایف آئی اے کی رپورٹ میں چینی سکینڈل کے حوالے سے سامنے آیا ہے تو جہانگیر ترین سے چپ نہیں رہا گیا اور وہ علم بغاوت اٹھا کر میدان میں نکل آئے ہیں انہوں نے سچ بولنا شروع کردیا ہے اور 2013 کے الیکشن میں اپنی پارٹی پی ٹی آئی اور عمران خان کی شکست کو بدترین شکست قرار دیتے ہوئے اس کی وجوہات اور دھرنے کے دنوں کی اصل کہانیاں سامنے لانا شروع کر دی ہیں اب جہانگیر ترین ایک بپھرے ہوئے سیاستدان لگ رہے ہیں جن کی باتیں اور انکشافات ہر گزرنے والے دن کے ساتھ پی ٹی آئی کی قیادت بالخصوص وزیراعظم عمران خان کی سیاسی مشکلات میں اضافہ کا باعث بن سکتی ہیں ۔
جہانگیر خان ترین نے پے در پے مختلف ٹی وی چینلز پر ون ٹو ون انٹرویوز دینے کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور ملک کے چوٹی کے اینکرز اور صحافیوں کو اصل راز کی باتیں بتانا شروع کر دی ہیں ۔
ڈان نیوز پر انہوں نے مہر بخاری اور سماء ٹی وی پر ندیم ملک کو جو انٹرویو دیے ہیں ان میں تہلکہ خیز انکشافات کر دئے ہیں پوری پی ٹی آئی کی پارٹی قیادت کو ہلا کر رکھ دیا ہے پارٹی کے لوگ جانتے ہیں کہ جہانگیر ترین کے پاس کتنے اہم راز ہیں اس لیے وہ ڈر گئے ہیں کہ اگر فوری طور پر جہانگیر ترین کو راضی نہ کیا گیا اور خاموش نہ کرایا گیا تو ایک ایسا طوفان بدتمیزی کھڑا ہو جائے گا جس کے سامنے پارٹی کے اکثر رہنما ننگ ہوجائیں گے اور عوام کے سامنے منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے ۔

جہانگیر ترین نے عنان ٹی وی انٹرویوز میں بتا دیا ہے کہ ان کے اختلافات چھ مہینے پہلے شروع ہو چکے تھے۔بظاہر انہوں نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے ساتھ اپنے اختلافات سے اپنی کہانی شروع کردی ہے ابھی نہیں کہا جا سکتا کہ آنے والے دنوں میں وہ اور کتنے نام سامنے لائیں گے بظاہر ان کا کہنا ہے کہ وہ اعظم خان کے روایتی طریقے سے حکومت چلانے کے خلاف تھے اور وزیراعظم عمران خان کو بتایا تھا کہ ہم ملک کو تھوڑا سا بہتر کرنے نہیں آئے بلکہ ٹرانسفارم کرنے آئے ہیں انقلاب لانے کے لئے عوام نے ہمارا ساتھ دیا ہے لیکن اعظم خان روایتی طریقے سے ملک کو چلا رہے ہیں سمری اسمبلی کھیلنے سے ملک آگے نہیں بڑھے گا عمران خان نے میری بات سے اتفاق کیا تھا اور پورا پلان بنا کر دینے کے لیے کہا تھا میں نے اسٹریٹجک ریفارم لانے کے لئے ایک نہ بنا کر دیا لیکن دو مہینے گزر گئے کوئی کام نہیں ہوا جب وزیر اعظم سے پوچھا تو انہوں نے کہا اعظمخان کو دے دیا تھا اعظم خان سے پوچھا کیا ہوا اس نے کہا یہ نہیں ہو سکتا ۔جب پوچھا کہ کیوں نہیں ہوسکتا کو کہا گیا کہ وزیراعظم آفس میں دو متوازی حکومتیں نہیں ہوسکتی میرا خیال ہے کہ اعظم خان ہو زیادہ تھے کہ کوئی اور سسٹم آگیا تو ان کے اختیارات اور اہمیت کم ہو جائے گی۔

 
جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ اعظم خان کے خلاف کابینہ کے 70 فیصد لوگ بات کر رہے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ میں اکیلا ہوں جو سامنے آ کر بول رہا ہوں میں اختلاف کرتا ہوں اور کھل کر کرتا ہوں لیکن میرا عمران خان پر اعتماد ہے مجھے خبریں ملتی رہیں ہیں کہ اعظم خان کا پیچھے کردار رہا ہے 24 فروری 2020 کو کمیٹی کا خیرمقدم کیا تھا اور کہا تھا کہ اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوسکا کیونکہ ایک نا مکمل رپورٹ کو اچھال دیا گیا اس رپورٹ میں میرے خلاف کچھ بھی نہیں ہے صرف ایف آئی اے کے دوستوں نے ایک ٹیبل بنا کر ان لوگوں کے نام لکھ دیے ہیں جنہوں نے سبسڈی حکومت سے لی اس نے میرا نام زیادہ نمایاں ہو گیا اور سب لوگ میرے پیچھے پڑ گئے ۔ابھی خط میں رپورٹ تو آنی ہے میں تو خود انتظار کر رہا ہوں کہ مکمل رپورٹ آجائے تو خود بخود دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔
جہانگیر ترین نے خود انکشاف کیا ہے کہ عمران خان سے میں جتنا قریب تھا اب نہیں رہا ۔پہلے روزانہ ملتا تھا ہفتے میں تین چار میٹنگز ضرور ہو جاتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے اور پچھلے دو مہینے سے میں نے خود کو پیچھے کر لیا ہے لیکن میں آج بھی کہہ رہا ہوں کہ میں عمران خان کا وفادار ہوں عمران خان کا دوست ہوں ان کا ساتھی ہوں اور ان کے ساتھ کھڑا ہوں میں دھوکہ دینے والوں میں سے نہیں ہوں باقی عمران خان وزیر اعظم ہیں ان کی صوابدید ہے وہ جس کے ساتھ چاہیے کام کریں۔