میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کا مقصد اُنہیں نڈر، بہادر اور بہتر انسان بنانا ہے

کورونا کی وحشت کے طفیل سڑک ویران تھی۔ میں قدرے سہما ہوا فٹ پاتھ پر چل رہا تھا۔ اتنے میں دیکھا کہ مخالف سمت سے ایک باریش بزرگ چلے آ رہے ہیں۔ کندھے پر ایک ڈنڈا اٹھا رکھا ہے اور ڈنڈے کے ساتھ پیتل کا لوٹا اور ایک شاپنگ بیگ بندھا ہوا ہے جس میں کچھ کپڑے نظر آ رہے ہیں۔ کچھ قریب آئے تو میں نے پہچانا کہ یہ تو مولانا حسرت موہانی ہیں، ہماری تحریک آزادی کے نڈر جرنیل، ممتاز صحافی، شاعر، ادیب اور با اصول سیاستدان۔ مجھے خیال آیا کہ مولانا تو 1951میں انتقال فرما گئے تھے، یہ آج کہاں سے آ گئے۔ پھر خیال آیا کہ ایسے لوگ مرتے نہیں ہیں، صرف جسم دفنا دیا جاتا ہے لیکن طاقتور روحیں تو زندہ رہتی ہیں۔ میں نے عقیدت مندانہ انداز میں زور سے السلام علیکم کہا اور معانقہ کے لئے آگے بڑھا تو وہ پیچھے ہٹ گئے۔ کہنے لگے یہ بےتکلفی کورونا کے آداب کے خلاف ہے۔


تمہیں علم ہے کہ میں نے ساری زندگی جبر اور خوف کے خلاف جہاد کیا تھا لیکن میں بھی کورونا کے آداب کا پابند ہوں۔ میں اُن کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ کہنے لگے، تمہیں شاید علم ہو گا میں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد ’’اردو معلی‘‘ نامی رسالہ نکالا تھا۔ زندگی بھر صحافت، سیاست اور شاعری کرتا رہا۔ میں ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی میں رہا، پھر کانگریس سے اور بعد ازاں مسلم لیگ سے وابستہ رہا۔ ہندوستان کی غلامانہ فضا اور انگریز کے جبر کے دور میں مَیں پہلا شخص تھا جس نے کانگریس کے احمد آباد اجلاس (1921)میں پہلی بار انقلاب زندہ باد کا نعرہ لگایا اور مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔ میں مسلم لیگ کے اجلاسوں کی بھی صدارت کرتا رہا اور کبھی کبھی اپنے نقطہ نظر کے اظہار کیلئے قائداعظم سے بھی ٹکرا جاتا تھا۔ قائداعظم ہمیشہ خندہ پیشانی سے میرا اختلاف سنتے اور احترام کا اظہار کرتے۔ طبیعت باغی اور روح بےچین پائی تھی اس لئے بار بار انگریز حکومت سے ٹکراتا رہا۔ 1903میں پہلی بار جیل گیا بیس سال کی قید سنائی گئی اور پھر 1947تک کئی بار جیل میں برسوں کی قید با مشقت کاٹی۔ جیل میں کبھی گندم اور کبھی چنے پیسنے کا حکم ملتا۔ بھاری پتھروں کی بنی ہوئی چکی چلانا کٹھن کام تھا اور چلاتے چلاتے ہتھیلیوں پر چھالے ابھر آتے تھے۔ میں اسی درد کے ساتھ شاعری بھی کرتا اور انقلاب زندہ باد کا نعرہ بھی بلند کرتا۔ میرا وہ شعر زبان زدِ عام ہے؎
ہے مشق سخن جاری، چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی
حسرت موہانی مجھ پہ کچھ ایسا چھایا کہ لوگ میرا اصلی نام سید فضل الحسن بھول گئے۔ حُبِ الٰہی میرے قلب میں یوں جاگزین تھی کہ نہ صرف نماز پنجگانہ کی پابندی کرتا رہا بلکہ 13حج بھی کیے۔ برطانوی حکومت نے مجھے جھکانے کے لئے ان گنت سختیاں کیں، پریس ضبط کیا اور میرے وسائل چھین کر مجھے غربت کی وادی میں دھکیلا لیکن میرے ماتھے پر شکن ابھری نہ چہرے پر پریشانی۔ الٹا برطانوی حکومت پریشان تھی کہ یہ شخص نہ جھکتا ہے نہ سمجھوتا کرتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہمیں ہماری زندگی میں ہی آزادی مل گئی اور پاکستان بن گیا۔ مجھے قیام پاکستان کی خوشخبری ہمارے پیارے نبی اکرم ﷺ نے خواب میں سنائی تھی۔ اسی موقع پر میں نے یہ تضمین لکھی تھی؎
جب کہے خواب میں خود آ کے وہ شاہ خُوباں
جب کہ حافظ بھی مصدق ہو بہ فال دیواں
تجھ کو حسرت یہ مبارک، سند و مہر و نشاں
پردہ بردار کہ تا سجدہ کند جملہ جہاں
(بحوالہ جنگ کراچی 7؍ اپریل 1967) افسوس کہ جس ملک کے قیام کی خوشخبری خود ہمارے نبی کریمﷺ نے دی تھی تم لوگوں نے اُس کا کیا حال کر دیا ہے۔
ہاں تو میں تمہیں بتا رہا تھا کہ انگریز حکومت کی غلامی کی مانند اُس کی جیل بھی نہایت اذیت ناک تھی لیکن میں آزادی کے لئے قید و بند خندہ پیشانی سے برداشت کرتا رہا۔ سچ لکھنے اور سچ بولنے کے لئے ایثار تو کرنا پڑتا ہے، اس کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے اور دکھ تکلیف بھی جھیلنا پڑتے ہیں۔ مجھے اذیت دینے والوں کا تاریخ میں کہیں نام و نشان نہیں لیکن میں تاریخ میں بھی زندہ ہوں اور لوگوں کے دلوں میں بھی بستا ہوں۔ جیل تو صحافی اور سیاستدانوں کی ٹریننگ اکادمی یعنی تربیت گاہ ہوتی ہے جس کی یاترا کے بغیر نہ صحافی پختہ ہوتا ہے اور نہ ہی سیاستدان۔ جہاں تک نیب کا تعلق ہے وہ تو قید و بند کا خوف رفع کرنے کے لئے مہمان داری کرتا ہے۔

نیب کا مقصد صحافیوں یا سیاستدانوں کو سزائیں دلوانا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک نہ کسی سیاستدان سے کوئی رقم نکلی ہے، نہ کسی کے خلاف کرپشن کا الزام ثابت ہوا ہے۔ نیب تو صرف سرکاری افسروں سے کرپشن کا پیسہ نکالتی ہے۔ صحافیوں، میڈیا ٹائیکون اور سیاستدانوں کو گرفتار کرنے کا مقصد اُن کی تربیت ہوتا ہے تاکہ وہ پختہ صحافی بن جائیں۔ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کا مقصد اُنہیںقید و بند کے خوف سے آزاد کر کے نڈر، بہادر اور بہتر انسان بنانا ہے۔ اس لئے تم لوگوں کو نیب پر تنقید کرنے کی بجائے نیب کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ مولانا حسرت موہانی کی باتوں سے مجھے ایسا جھٹکا لگا کہ میں گہری نیند سے بیدار ہو گیا۔ سوچوں میں گم تھا کہ مسجد سے فجر کی اذان سنائی دی۔ اذان نے گویا مولانا حسرت موہانی کی گواہی دے دی۔
Dr-Safdar-Mehmood-Jang