کیا وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان بھی فواد حسن فواد کی طرح نیب کے مہمان بننے جارہے ہیں؟

ایف آئی اے کی رپورٹ میں چینی مافیا کے بے نقاب ہونے کے بعد ملک بھر کے سیاسی حلقوں میں یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے عمران خان ایک ایک کرکے اپنے بااعتماد اور قریبی ساتھیوں سے دور کیوں ہوتے جا رہے ہیں ۔یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کیا وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کی طرح نیب کے مہمان بننے جارہے ہیں ؟فواد حسن فواد سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں پرنسپل سیکریٹری تھے وہ بھی کافی طاقتور افسر تھی جس طرح آجکل اعظم خان ہیں نیب نے جولائی 2018 میں فواد حسن فواد کو آشیانہ کرپشن کیس میں گرفتار کر لیا تھا پی ٹی آئی کے سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ چینی اس سکینڈل کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد معاملہ صرف سی سی ای تک نہیں رکے گا بلکہ وفاقی کابینہ اور وزیراعظم آفس پر جائے گا وزیراعظم کی ڈائریکشن پر پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ہدایات جاری کرتے ہیں اگر انکوائری ہوگی اور دستاویزی ریکارڈ دیکھا جائے گا تو وزیراعظم کی ہدایت اور اعظم خان کے دستخط ضرور مل جائیں گے اور اگر یہ معاملہ آگے بڑھا تو پھر اعظم خان نیب کے مہمان بھی بن سکتے ہیں ۔اعظم خان گزشتہ دور حکومت میں صوبہ خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں اعظم خان ایک ذہین قابل اور طاقتور افسر ہیں لیکن حکومتی ذرائع بتاتے ہیں کہ جہانگیر ترین کے ساتھ اعظم خان کے تعلقات مثالی نہیں تھے اور عمران خان کے جہانگیر خان سے کچھ مہینے پہلے شروع ہونے والے اختلافات کی ایک وجہ اعظم خان بتائے جاتے ہیں ۔
جنگ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں جہانگیرخان ترین کے حوالے سے اعظم خان کا ذکر آیا ہے ۔

تحریک انصاف کے رہنماءجہانگیر خان ترین نے کہا ہے کہ عمران خان سے پہلے جتناقریبی تعلق تھااب ویسانہیں ہے لیکن پھر بھی ان کے ساتھ کھڑا ہوں‘ہماری جماعت میں اتحاد نہیں‘جب تک ٹیم ملکرنہیں کھیلتی کامیاب نہیں ہوتی ‘ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیر کو ایک انٹرویومیں کیا۔
جہانگیرترین کا کہناتھاکہ اعظم خان سے چھ ماہ قبل اختلاف شروع ہوا ‘میں نے وزیراعظم سے کہا کہ ملک کو تھوڑا سا بہتر کرنے نہیں آئے بلکہ ہم تبدیلی کا نعرہ لگا کر آئے ہیں‘ بیوروکریسی کے چکر سے نکلنا ہوگا‘اصلاحات نہ کیں تو ناکام ہوجائیں گے۔
آپ کی سربراہی میں ایک یونٹ بنا ناہوگا جس میں بہترین لوگوں کوشامل کیا جائے‘ ترجیحی بنیادوں پر بیورکریسی اوروزارتوں کو ٹاسک دیئے جائیں گے ۔وزیراعظم نے میری باتوں سے اتفاق کیا ۔میں نے اعظم خان کو نوٹی فکیشن لکھ کردیا ۔
اعظم خان نے کہا حکومت کرنا ہماراکام ہے ۔وزیرعظم ہاؤس میں سب کچھ میرے ذریعے ہوگا ۔میں نے کہا میں متبادل پاور سیکٹرنہیں بنا رہا صرف تجویز دے رہا ہوں کہ وزیراعظم کی ترجیحات کے مطابق پیش رفت کریں گے ‘بہترین لوگ لائیں گے جس سے حکومت کو فائدہ ہوگا وہاں وزیراعظم بھی موجودتھے۔
اعظم خان نے کہا کہ بیوروکریسی کے ذریعے معاملات آگے بڑھنا چاہئیں ۔میں نے وزیراعظم سے کہا کہ لاتعداد سمریوں سے ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ۔وزیراعظم میرے موقف کی تائید کرتے رہے لیکن اعظم خان ٹس سے مس نہ ہوا۔
ہماری جماعت میں اتحاد نہیں جب تک ٹیم مل کر نہیں کھیلتی ،کامیاب نہیں ہوتی ۔عمران خا ن کہتے تھے جس ٹیم میں اسٹارہوں وہ اپنے لئے کھیلتے ہیں۔عمران خان نے ہمیشہ ٹیم کیلئے کھیلنے کا سبق سکھایا میں نااہل ہوکر بھی ٹیم کیلئے کھیلتا رہا۔

عمران خان اوراسٹیبلشمنٹ کے درمیان میرے علاوہ اوربھی بہت سے پُل ہیں ۔ عمران خان نے عثمان بزدار کووزیراعلیٰ پنجاب لگایا تو میں نے ان کی ہر موقع پر مدد کی۔
جب وزیراعظم سے کوئی عثمان بزدارکے معاملے پرشکوہ کرتا تووہ کہتے مجھے متبادل بتائیں اور حقیقی طور پر کوئی متبادل نظرنہیں آتا تھا ۔ عثمان بزدار ہربڑے فیصلے سے پہلے عمران خان سے مشاورت کرتے ہیں۔میں پاکستان کی بیس فیصد چینی ضرور بنا تا ہوں لیکن اس کے لئے بہت محنت کی ہے ۔
ای سی سی میں اسد عمر نے ایک ملین ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی ۔میں نے اسدعمر پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی ۔ڈھائی ارب ماضی کی حکومتوں میں سبسڈی دی گئی جبکہ 50کروڑ موجودہ حکومت میں فراہم کئے ۔میں گزشتہ پانچ سالوں میں 23ارب ٹیکس حکومت پاکستان کو دے چکا ہوں۔
سبسڈی منافع نہیں ہوتی ۔ڈالر 104پر رکا ہوا تھا اس لئے سبسڈی دی گئی تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو۔پہلے چینی اس لئے سستی تھی کیوں کہ گنا سستا تھا ۔آٹھ فیصد گنا خود کاشت کرتا ہوں 92فیصد کسانوں سے خریدتا ہوں۔
چینی کی صنعت کو آزاد کردیں کوئی سبسڈی نہیں مانگے گا ۔چینی کی صنعت میں 1992سے ہوں سیاست کارخ بعد میں کیا ۔ 2013کے ا نتخابات میں شکست ہوئی تو عمران خان سے کہا کہ ایسے الیکشن نہیں جیتے جاسکتے‘ ہمارے امیدوار غلط تھے ۔
پنجاب میں سیاسی گھرانے ہیں جب تک انہیں شامل نہیں کریں گے حکومت نہیں بناسکتے جب میں نے یہ نظریہ پیش کیا تو پارٹی میں میری مخالفت شروع ہوگئی کچھ لوگ کہتے ہیں جہانگیر ترین نے پارٹی ٹیک اوور کرلی ۔انہیں سمجھنا ہوگا کہ یہ میرے لوگ نہیں پنجاب کے سیاسی گھرانے ہیں ۔جوپارٹی اورعمران خان کیلئے بہتر ہے وہ بولا ہے اور بولتا رہوں گا ۔

اسد عمرکو وزارت خزانہ کے عہدے سے میری وجہ سے نہیں ہٹایا گیا ،جو عمران خان کہتے تھے یاچاہتے تھے اسدعمر وہ نہیں کررہے تھے۔میں عمران خا ن سے وفادار ہوں ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا رہوں گا ۔میں پی ٹی آئی کا حصہ ہوں اور رہوں گا اگر عمران خان سے تعلقات انیس بیس ہوئے ہیں تو واپس بیس ہوجائیں گے۔
سبسڈی کے پیسے واپس کرنے سے متعلق جہانگیرترین کا کہنا تھا کہ پیسے واپس نہیں کروں گا میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔
ایک اور ٹی وی پروگرام میں جہانگیرترین نے کہاکہ ملکی معاملات میں فیصلے وزیراعظم ہی کرتے ہیں‘ وزیراعظم کے اقدامات پر مجھے کوئی ایشو نہیں‘ میں بہت سے لوگوں پر اثرانداز ہوسکتا ہوں مگر اسد عمر پر اثرانداز نہیں ہوسکتا‘انکوائری رپورٹ میں کسی پر کوئی الزام نہیں ہے، حتمی رپورٹ آنے تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جاسکتا ہے.
انکوائری رپورٹ خود قبول کرتی ہے کہ چینی کی پیداواری لاگت 80روپے ہے ، حکومت خود چینی کی پیداواری لاگت کا تعین کرے پھر فیصلہ کرے چینی کی قیمت صحیح ہے یا غلط ہے۔
میرا عمران خان کے ساتھ ایسا تعلق ہے کہ کبھی نہیں چھوڑوں گا، میں ہمیشہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کھڑا رہوں گا، یہ وزیراعظم کا حق ہے کہ وہ کس کی مشاورت لیں اور کس کے مشورے زیادہ سنیں۔