متاثرین نے مفت راشن خریدنے والے دکانداروں کیخلاف کارروائی کامطالبہ کیا ہے

یاسمین طہٰ

کرونا کی باعث ملک بھر میں معاشی سرگرمیوں کی بندش سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ اربوں روپیہ بتایا جاتا ہے۔اور کراچی میں اس حوالے سے چار ارب یومیہ کا نقصان ہورہا ہے اسی لئے مقامی تاجر تجارتی سرگرمیوں کی بندش سے پریشان ہیں اور حکومت سے ریلیف مانگ رہے ہیں۔جب کے سندھ حکومت کی جانب سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کی مدد کے لئے راشن کی فراہمی کے نظام پر اب تک درست طریقے سے عمل درآمد نہیں کیا جاسکا ہے اور بیس لاکھ مستحق گھروں کو راشن کا سلسلہ شروع نہ ہوسکا ہے۔اس حوالے سے فلاحی تنظیموں کے کردار پر بھی انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں کہ یہ ادارے مدد سے ذیادہ پبلسیٹی پر یقین رکھتے ہیں اور مستحقین کا کہنا ہے ادروں کی جانب سے دئے گئے موبائل نمبر مستقل بند ہیں۔اس صورت حال میں حکومت مستحقین تک پہونچنے کے لئے یونین کونسل اور بلدیاتی اداروں کی مدد لے کر اس کام کو باآسانی ممکن بنا سکتی ہے اس کے علاوہ ہر علاقے کا ڈپٹی کمشنر پولیو مہم کی طرز پر امدادی مہم چلاکر غریبوں کو راشن کی فراہمی ممکن بنا سکتا ہے۔لیکن شرط یہ ہے کہ ارادہ پختہ ہو۔راشن کی تقسیم کے نظام میں سقم کی باعث ہی کراچی میں مفت راشن لیکر دکانوں میں فروخت کرنے کا انکشاف ہواہے، متاثرین نے مفت راشن خریدنے والے دکانداروں کیخلاف کارروائی کامطالبہ کیاہے۔ذرائع کے مطابق مختلف علاقوں میں موجود بھکاری مافیا مخیر حضرات کی جانب راشن لیکر فروخت کردیتے ہیں۔متاثرین کا کہنا ہے کہ مفت راشن خریدنے والے دکانداروں کیخلاف کارروائی کی جائے، کیوں کہ غریبوں کی حق تلفی میں ایسے دکاندار برابر کے شریک ہیں۔شہر میں لاکھوں سفید پوش خاندان بھوک وافلاس کا شکارہیں، تاہم حکومتی سطح پر ایسے عناصر کی سرکوبی کیلئے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن کے باعث متاثر ہونے والے افراد کو راشن تقسیم کرنے کے لیے 58 کروڑ روپے جاری کئے ہیں۔لیکن کوئی مربوط حکمت عملی نہ نونے کی وجہ سے مستحق افراد کو راشن میسر نہیں ہورہا ہے۔. وزیر بلدیات و اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں جراثیم کش اسپرے مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔ اسپرے مہم کی نگرانی سیکرٹری بلدیات براہ راست کررہے ہیں جس کے تحت سندھ بھر کے انتیس اضلاع میں واقع دو ہزار یونین کونسلوں میں اسپرے مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ لاک ڈاون کے دوران تمام رہائشی کالونیوں، کاروباری علاقوں، مرکزی شاہراہوں، اندرونی و بیرونی گلیوں سمیت، عوامی مقامات، مساجد، امام بارگاہوں و دیگر مذہبی عبادت گاہوں میں بھی جراثیم کش اسپرے کیا جارہا ہے جس سے مہلک اور وبائی امراض کے خاتمے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔جب اسپرے مہم میں یونین کونسل سے مدد لی جاسکتی ہے تو راشن نظام کے لئے بھی بلدیاتی اداروں کو محرک کیا جاسکتا ہے۔اس وقت پی ٹی آئی،پی پی پی اور متحدہ تینوں جماعتوں کے کارکن بلدیاتی اداروں میں موجود ہیں، اور وزیر بلدیات ناصر شاہ ان کو فعال کرکے غریبوں کو راشن پہوینچانے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔گورنرسندھ عمران اسماعیل، کورکمانڈر کراچی اور وزیرصحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو، دیگر اعلیٰ حکام کی موجودگی میں والنٹیئرز نے ایکسپو سینٹر کراچی میں 1200 بستروں پر مشتمل فیلڈ آئسو لیشن سینٹر کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر گورنرسندھ نے وہاں،ضروری ادویات و آلات کی دستیابی کو سراہتے ہوئے 5 ہزار حفاظتی لباس فراہم کرنے کا اعلان کیا، واضح رہے کہ فیلڈ آئسو لیشن سینٹر کے لئے وفاقی وصوبائی حکومتوں نے فنڈز کی دستیابی، ادویات کی فراہمی، اور آر او پلانٹ کی تنصیب میں اہم کردار اداکیا ہے۔ یہ سینٹر آئسولیشن فیسیلیٹی ہے جہاں صرف کورونا کے تصدیق شدہ مریضوں کو رکھا جائے گا،سینٹر کی تعمیر میں پاک آرمی نے حکومت کے شانہ بشانہ کام کیاہے جبکہ ہزاروں رضاکار اپنی خدمات کے لئے اندراج کراچکے ہیں۔ سینٹر میں بہترین طبی حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا گیا ہے اور یہاں جنرل آئسولیشن وارڈ کے علاوہ ICU کی سہولت بھی میسر ہے۔اس موقع پر گورنرسندھ نے کہا کہ والنٹیئرز سے اس سینٹرکے باقاعدہ افتتاح کرانے کا مقصد ان کی خدمات کا اعتراف کرنا ہے، گورنرسندھ نے مزید کہا کہ یہ سینٹر عالمی ادارہ صحت کے تجویز کردہ حفاظتی اصولوں کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔

جہاں پر مریضوں کے لئے ویڈیو کالنگ کی سہولت کا انتظام کیا گیا ہے اور ڈاکٹرز اور مریضوں کے لیے علیحدہ علیحدہ داخلے کی سہولت موجود ہے۔ماہرین نے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کو کراچی کے ان علاقوں کو مکمل بند کرنے کا مشورہ دیا ہے کہ جہاں سے کرونا وائرس کے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ماہرین نے کہاکہ شہر میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جس علاقے سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے اسے بند کر دیا جائے کیو نکہ علاقہ بند کرنے سے وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آئے گی۔بیماری کی سنگینی کی باعث شہر میں پہلا ڈرائیو تھرو کرونا ٹیسٹ سینٹر قائم کردیا گیا ہے جس کے ذریعے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ٹیسٹ لیا جائے گا۔ ٹیسٹ سینٹر محکمہ بلدیات اور محکمہ صحت نے مشترکہ طور پر قائم کیا ہے، ڈرائیو تھرو ٹیسٹ سینٹر میں خصوصی ایکسرے مشین بھی لگائی گئی ہے،اس مقصد کے لئے فون ہیلپ لائن ٹیسٹ کے لئے وقت اور کوڈ فراہم کرے گی۔جب کراچی کے عوام کرونا کی باعث گھروں میں بیٹھنے پر مجبور ہیں تو سندھ حکومت کو ڈوگ کنٹرول پروگرام کا خیال آیا ہے۔سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، حکومت سندھ روشن علی شیخ نے آوارہ کتوں کے مسئلے کے حوالے سے سائنٹفک بنیادوں پر معاملے کو حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے تحت مختلف علاقوں میں موجود آوارہ کتوں کو مارے بنا، لوگوں کے لئے بے ضرر بنا دیا جائے گا۔ طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے روشن علی شیخ کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں آوارہ پھرنے والے کتوں کو پکڑ کر ان کی نس بندی کی جائے گی، بعد ازاں سٹریلائزیشن کے عمل سے گزار کر کتوں کو ان کی متعلقہ جگہوں پر دوبارہ چھوڑ دیا جائے گا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے مطابق اس پورے منصوبے کی لاگت 264ملین رکھی گئی ہے اور بروقت تکمیل کے لئے رقم کا اجرا بھی کیا جاچکا ہے۔زرائع کا کہنا ہے جب پورا شہر کرانا کی لپیٹ میں ہے ایسے وقت میں یہ منصوبہ محض فنڈز کو ٹھکانے لگانے کا ایک ذریعہ ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ سندھ اویس قادر شاہ نے ملک بھر میں ٹرینوں کی بندش کی وجہ سے ریلوے اسٹیشن پرقرنطینہ بنانے کا مشورہ دیا ہے,ان کا کہنا ہے کہ تمام ٹرینوں کو قرنطینہ وارڈ میں تبدیل کیا جائے.ملک میں اسپتالوں کے فقدان میں یہ ایک اچھا ثابت ہوسکتا ہے۔