چیئرمین عبدالبر کی سنگین کرپشن کے سنسنی خیز انکشافات

ماہی گیرو ں میں راشن کی تقسیم کے حوالے سے کرپشن کی شکایات سر اٹھا رہی ہیں چیئرمین فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی عبدالبر کے خلاف راشن کی تقسیم میں لاکھوں روپے ہڑپ کئے جانے کی شکایت سامنے آئی ہے ۔
یاد رہے کہ رجسٹرار کوآپریٹیو سوسائٹی نے 28 اکتوبر 2016 کو فشر مینز کوآپریٹیو سوسائٹی کے 8 سرکاری ڈائریکٹروں کا ڈائریکٹرز شپ کا نوٹیفیکیشن بائی لاز کے مطابق 3 سال کے نکالا تھا۔ نثار مورائی کی گرفتاری کے بعد اپیکس کمیٹی میں طے ہوا تھا کہ سوسائٹی کے 8 ڈائریکٹرز سیکریٹری لیول کے ہوں گے۔19 اپریل 2017 کو کمشنر حیدرآباد کی جگہ عبدالبر کا نوٹیفکیشن نکلا جو Remaining period کے لیئے تھا جو اپیکس کمیٹی کے فیصلے کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ اس کے بعد عبدالبر نے کرپشن میں ماضی کے چیئرمین سعید خان اور نثار مورائی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ عبدالبر کا سرکاری پیریڈ 19 اکتوبر 2019 کو ختم ہو چکا ہے اور اب وہ نئے نوٹیفیکشن تک غیر قانونی طور پر بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔ اب جو راشن بانٹنے کا ڈرامہ ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ جیسے 2000 بیگ ابراہیم حیدری کے ایم پی اے کو دیا گیا۔اس بیگ میں 10 کلو آٹا۔۔۔2 کلو چاول۔۔۔1 کلو گھی۔۔۔1 کلو تیل۔۔۔1 کلو چینی اور آدھا کلو چائے کا پیکٹ۔جس کی قیمت انہیں نے فی بیگ 3 ہزار روپے لگائی جبکہ یوٹیلٹی اسٹور میں 4 سو روپے کا 10 کلو کا بیک ہے۔اس طرح اس پورے بیگ کی قیمت 7 سو روپے بنتی ہے۔ جبکہ عبدالبر اور ان کے کرپٹ حواریوں(مافیا) نے اس کی قیمت 3 ہزار روپے دکھائی اس طرح سیدھا سیدھا 23 سو روپے فی بیگ کے حساب سے رقم مافیا کی جیبوں میں گئی۔ اور یوں صرف ابراہیم حیدری میں 40 لاکھ روپے سے زیادہ رقم عبدالبر ہڑپ کر گئے۔ ابھی مزید 8 ہزار بیگ تقسیم کرنے ہیں۔
چیئرمین عبدالبر کی سنگین کرپشن کے سنسنی خیز انکشافات اور حکومت سندھ کے اہم کرداروں کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت اگلی قسط میں پیش کیے جائیں گے