سرکاری اسپتالوں کی حالت زار اور نجی اسپتالوں کی لوٹ مار

جب جب ہم کسی قومی بحران سے دوچار ہوئے ہیں تو ہر شعبے کا کھوکھلا پن چیختا ہوا نظر آیا ہے، اگر تو ہم جھوٹ کو سچ کے پردوں میں لپیٹنے کی طرح حیات کے دیگر شعبوں میں بھی مہارت حاصل کئے ہوتے تو ہم نہ صرف درپیش بحران سے زندہ قوموں کی طرح نمٹتے بلکہ اس دوران نظرآنے والی کمزوریوں کا ایسا سدباب کر پاتے کہ وہ آنے والے وقتوں میں قومی فیض کا باعث ہوتا۔ ہمیں اپنی کمزوریوں سے متعلق ہر سچ اس لئے جھوٹ لگتا ہے کہ ہم اپنی قومی نفسیات کے تحت خود کو کسی بھی طور کم سمجھنے کے روادار نہیں ہیں، خود احتسابی سے فراراور احساسِ تفاخر کا یہ وہ مرض ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ہم بہتری کیلئے فعال ہونے کی استطاعت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں بلکہ ملک کے ہر شعبے پر قابض وہ ٹولہ جس کا مفاد ہی اسٹیٹس کو یا جھوٹ کے کاروبار سے وابستہ ہے، بے فکری سے جسدِ وطن سے کھیلنے کا وہ کھیل جاری رکھتا ہے جو گزشتہ 7عشروں سے جاری ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کورونا وائرس سے باقی دنیا تو چھٹکارا پا لے گی اور ہم مبتلا ہی رہیں گے، ہم بھی اس بحران سے نکل ہی آئیں گے کہ ہمارا بھی تو خداہے… ہاں یہ الگ سچ ہے کہ ہم خیرات ہی کے وینٹی لیٹرز پر گزارا کرتے رہیں گے۔ آپ خود دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا آپ اپنے ملک کے صحت و معاشی نظام اور سیاسی و مذہبی قیادت پر اسی طرح بھروسہ کر سکتے ہیں جس طرح ترقی کے اوج ثریا پر پہنچنے والے ممالک کے عوام اپنی قیادت پر کر رہے ہیں؟ بلاشبہ ان ممالک میں ہلاکتوں کی شرح بہت زیادہ ہے لیکن کیا وہاں بھی اسی طرح افراتفری کا عالم ہے جیسے ہمارے ہاں ہے؟

حال یہ ہے کہ یکم اپریل کو وزیراعظم نے کہا کہ ایک ہفتے میں ڈیٹا آ جائے گا کہ متاثرین کی اصل تعداد کیا ہے۔ یعنی ہم شہروں کے سوا تاحال اصل صورتحال ہی نہیں جان سکے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں کی حالت زار اور نجی اسپتالوں کی لوٹ مار سے صاف ظاہر ہے کہ ہر بااختیار مسلمان نے لاچار مسلمان ہی کے استحصال کو اپنی دنیا بنانے کا وسیلہ بنا رکھا ہے۔ سندھ حکومت نے گھروں پر راشن پہنچانے کا اعلان کیا تھا لیکن کوئی لائحہ عمل ہی نہیں کہ کس طرح یہ امداد مستحق لوگوں تک پہنچے، یہی حال ملک بھر کا ہے۔ اب نادرا یا ووٹرز فہرستوں میں آبادی کا ڈیٹا تو موجود ہے لیکن یہ اندازہ لگانا کہ ان میں کتنے بیروزگار، مستحقین یا یومیہ اُجرت والے ہیں، مشکل امر ہے۔ بینظیر انکم یا احساس پروگرام میں بعض کمزوریوں کے باوجود مستحق لوگوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے لیکن یہ بھی اصل تعداد سے بہت کم ہے، خود وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ملک کی 45فیصد آبادی انتہائی غریب ہے، پلاننگ کمیشن کے اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہیں لیکن اگر 45فیصد کو بھی مان لیا جائے توآٹھ دس کروڑ کی آبادی ایسی ہوگی جسے لاک ڈائون سے قحط جیسی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ہم چین، امریکہ، یورپ کی مثالیں دیتے ہیں تو کیا ہمارے صحت و معاش کا نظام اس قابل ہے کہ ہم بھی اُن کی تقلید کر سکیں۔

ہم نے سوشل میڈیا پر وزیراعظم کی لاک ڈائون مخالفت بابت سروے کرایا جس میں اکثر لوگوں کی رائے یہ تھی کہ وزیراعظم محض عوام کی ہمدردی کیلئے ایسی تقاریر کرتے ہیں حالانکہ اُن کی صوبائی حکومتوں میں سندھ سے بھی سخت لاک ڈائون ہے۔ اس وقت دنیا میں کورونا سے متاثرہ آبادیوں میں دیگر اقدامات کے ساتھ بڑے پیمانے پر بار بار اسپرے کیا جا رہا ہے جبکہ جناب زرداری کی ولایت میں ہر طرف کچرے کے ڈھیر ہیں، مٹی و دھول اُڑ رہی ہے، آوارہ کتوں، مکھیوں، مچھروں کا راج ہے، کراچی جیسے بین الاقوامی شہر میں بمشکل پانچ فیصد علاقوں میں ایک بار ہی اسپرے کیا جا سکا ہے، شہر کے بڑے حصے کا ذکر ہی کیا۔ لاک ڈائون یوں بھی بےاثر ہے کہ کراچی کی گنجان کچی آبادیوں کی سڑکوں کے قرب جہاں مساجد پر تالے پڑے ہیں تو وہاں یہ نمازی بھی آبادیوں کے اندر موجود مساجد میں چلے آتے ہیں، ہر مسجد میں ہر نماز میں نماز جمعہ سے بڑا اجتماع ہوتا ہے، یوں مولوی صاحبان کے فتاویٰ بےاثر ہوچکے ہیں، جہاں تک ذخیرہ اندوزی کی بات ہے تو قرآن وسنت میں اسے سنگین جرم کہا گیا ہے لہٰذا ذخیرہ اندوزی کے خلاف اب فتوے دینے والے مولوی صاحبان نے کیا اس سے قبل اس کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی یا وہ اس کے خلاف وعظ تو کر رہے تھے لیکن تاجروں پر اس کا اثر ہی نہیں ہوا تھا؟ سورہ یوسف میں خود احتسابی سے عاری نافرمان قوموں کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’ان کی سرگزشتوں میں اہلِ عقل کیلئے بڑا سامانِ عبرت ہے‘‘ کہنا یہ ہے کہ پیارے نبیؐ کے صدقے ہم اس بحران سے نکل ہی آئیں گے لیکن کیا یہ وہ وقت نہیں کہ احتیاط و تدابیر کے ساتھ سیاسی و مذہبی قیادت کم از کم اپنے قول و فعل میں اُس تضاد کا بھی ایک بار جائزہ لے جس کی وجہ سے قوم ان کی بات پر عمل کرتے ہوئے ہچکچاہٹ کا شکار ہو جاتی ہے۔
اجمل خٹک کشرJang