کرونا اور لاک ڈاؤن، سپریم کورٹ حکومتی کارکردگی پر کیوں برہم؟

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں اس پر سپریم کورٹ مطمئن نہیں ہے سپریم کورٹ نے حکومتی اقدامات اور کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ سپریم کورٹ کی برہمی پر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے سرکاری اسپتالوں اور نجی اسپتالوں کو روٹین کے کام کرنے سے بھی روک دیا جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے سپریم کورٹ کا یہ پوچھنا درست ہے کہ آپ نے فوری طورپر نئے اسپتال اور ہنگامی مراکز کیوں تیار نہیں کرائے ۔چین اور ترکی نے اپنے شہروں کی سڑکوں اور گلیوں میں اسپرے کرائے ہیں انہیں دھویا جا رہا ہے پاکستان میں اس حوالے سے کوئی تیاری نظر نہیں آرہی ۔

سپریم کورٹ اس حوالے سے بھی حیرت کا اظہار کرچکی ہے کہ کیا ہمارے ملک میں دستانی ماس اور حفاظتی لباس تیار نہیں ہو سکتا جو ہم باہر سے منگوا رہے ہیں ہمارے ملک میں تمام چیزیں تیار کی جاتی ہیں پھر ان سے استفادہ کیوں نہیں کیا جا رہا پبلک فنڈز کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے خریداری مختلف ریٹ پر ہو رہی ہے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کا آپس میں کوئی کوآرڈینیشن نظر نہیں آرہا عوامی صورتحال سے پریشان ہیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک جی صاحب کی اہلیہ کو اسپتال جانا تھا لیکن اسپتال والے صرف کرونا کے مریض لے رہے تھے اس صورتحال پر حکومت کے بارے میں نوٹس لیا گیا اور اسپتالوں کو کھولنے کا حکم دیا گیا تاکہ دل کے مریض گردوں کے مریض اور جو دیگر ضروری دہی اور روٹین کے مطابق اسپتال آج اسکی اور انکا علاج ہو ۔