کنسٹرکشن انڈسٹری کے لئے بلیک منی کی چھوٹ، عمران حکومت کا مدر آف یوٹرن

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ملک میں اقتصادی اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے اور معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے کنسٹرکشن انڈسٹری کے لیے جس پیکج کا اعلان کیا گیا ہے اور مراعات دی گئی ہیں اس پر عمومی طور پر خوشی کا اظہار کیا گیا ہے اور فاسٹ ٹیکس کے حوالے سے معاملات تو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے یاد رہے کہ وزیراعظم نے 120 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے اعلان کیا ہے کہ کنسٹرکشن میں اس سال جو سرمایہ کاری کرے گا ان سے حکومت کوئی سوال نہیں پوچھا جائے گی اور جو ٹیکس ہے کنسٹرکشن کے لیے وہ فکس ٹیکس کیا جا رہا ہے بار بار تنگ نہیں کریں گے اس طرح ٹیکس کی شرح نیچے آ جائے گی ۔
پاکستان کے بلڈرز ڈویلپرز نے اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور عام تاثر ہے کہ اب معاملات میں بہتری آئے گی اور معیشت کا پیدل چلے گا اور لوگوں کو روزگار کے نئے مواقع ملیں گے ۔

لیکن دوسری طرف اس پالیسی کی پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ اتنا آسان اور سادہ نہیں ہے معاملات کو باریک بینی سے دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے حکومت نے ایک طرح سے کنسٹرکشن انڈسٹری میں بلیک منی لانے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے یہ کسی طرح بھی کوئی اچھی بات نہیں ہے ایمنسٹی اسکیم میں تو پھر بھی کچھ لیا جاتا ہے قومی خزانے کو کچھ ملتا ہے لیکن کنسٹرکشن میں تو بلیک منی لانے والوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے یہ عمران خان اور تحریک انصاف کا مدر آف یو ٹرن کہلائے گا ۔کیونکہ دو سال پہلے تک وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت کہتی تھی کہ سب سے زیادہ بلیک منی کنسٹرکشن انڈسٹری میں ہے ہم اس پر ٹیکس لگائیں گے اور اسی وجہ سے سب کچھ رُک گیا تھا اب وہ سب کچھ واپس لے لیا گیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ بلیک منی سے اکانمی چل پڑے گی یہ حیران کن بات ہے نجم سیٹھی نے اس پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مظہر آف یوٹرن ہے یہ سارے معاملات بڑے بڑے سرمایہ کاروں اور بڑوں کے لیے ہیں حفیظ پاشا کہتے ہیں کہ اگر یہ سہولت دینی ہی تھی تو انٹرسٹ ریٹ 13 فیصد سے کم کرکے 7 فیصد تک لے جاتے تاکہ مڈل کلاس کا آدمی بھی مکان بنانے کے لئے بینک سے آسانی سے قرضہ لے لیتا ۔

اس وقت جو صورتحال ہے ڈیمانڈ نہیں ہیں سپلائی بڑھانے جارہے ہیں لاک ڈاؤن میں ملک چلا گیا ہے اس صورتحال میں کون گھر بنائے گا دبئی جیسی صورتحال ہو جائے گی جہاں بڑی بڑی بلڈنگ ہے تو بن گئی ہیں فلیٹ روکا جھنگل ہے لیکن لینے والا کوئی نہیں ہمارے ملک میں بھی حکومت نے بلڈر اور تعمیراتی شعبے کو سہولت دے دی ہے لیکن خریدار کو کوئی سہولت نہیں دی اب یہ ہوگا کہ بلڈرز بہت خوش ہوں گے اور پے کے پروجیکٹس اناؤنس ہوجائیں گے اور وہ بنا بنا کر بیٹھ جائیں گے پھر فائلیں بکتی رہیں گی اور عام آدمی اپنا گھر بنانا مشکل ہو جائے گا یہ اچھی پالیسی نہیں ہے صوبائی حکومت میں 15 سے 20 ادارے این او سی دیتے ہیں اگر وفاقی حکومت نے کہہ بھی دیا کہ جلدی جلدی بناؤں تو صوبائی حکومت کے ادارے کیا اتنی جلدی این او سی جاری کر دیں گے بڑےبڑے مالدار لوگ تو اپنی فائلوں کو بیہ لگا لیں گے لیکن عام لوگ کہاں جائیں گے ۔