آٹا بحران کا ذمہ دار پنجاب ہے، وزیراعلیٰ نے چار سیکرٹری بدلے اور سفارشی ڈسٹرکٹ افسران لگائے جنہوں نے تباہی مچائی

ایف آئی اے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اس بات پر بحث ہورہی ہے کہ ذمہ دار کون ہے اور ان کے خلاف اب کیا ایکشن ہوگا آٹا بحران کے حوالے سے مبصرین زیادہ تر ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد کر رہے ہیں نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ آٹے کی ذمہ داری پنجاب اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی ہے کچھ ہوتا ہیں خیبر پختونخواہ اور سندھ نے بھی کی ہے بنیادی طور پر یہ سارا معاملہ خریداری کا ہے چھے مہینے میں یہ کام ہوتا ہے لیکن وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سارے لوگوں کو تبدیل کردیا متعلقہ لوگ حیران تھے کہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے انصار عباسی نے بتایا کہ چار فیکٹری اور ڈسٹرک آفیسرز تبدیل کردیئے گئے اور سفارشی لوگوں کو لا کر بٹھا دیا گیا جن کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ کتنی گندم کب کہاں سے خریدنی ہے کتنی اسٹاک کرنی ہے وفاقی حکومت میں بھی مانیٹرنگ کی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی بظاہر وفاقی حکومت اس خوش فہمی میں رہیں کہ فصل اچھی ہے چھوٹی نہیں ہوگی بلکہ ایک سپورٹ کریں گے نجم سیٹھی کے مطابق 80 سے90 فیصد ذمہ داری پنجاب والوں کی ہے انہوں نے بروقت خریداری نہیں کی جبکہ سندھ والوں نے بھی ٹرانسپورٹ روک دی وہ پہلے اپنی ضرورت پوری کرنے میں لگے رہے وفاق واپس تھا اور اس نے اس صورتحال پر توجہ نہیں دی ایک ملین ٹن ایکسپورٹ کرنے کے خیال میں تھے یہ صرف اور صرف نااہلی ہے اور وفاقی نااہلی ہے پی ٹی آئی کی حکومت کی نااہلی ہے جہانگیر ترین وزیراعظم اور پارٹی کے چہیتے تھے لاڈلے تھے ان کو اچانک پرایا بنا دیا گیا ہے حالانکہ ان کو وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں بھی خصوصی طور پر بلایا جاتا تھا اور عام تاثر یہی ہے کہ انہوں نے ہی عثمان بوزدار کو لگوایا ہوا ہے لیکن اب انکوائری ہونی چاہیے ایکشن ہونا چاہئے اور ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے۔