بات جہانگیر ترین پر نہیں رکے گی عمران خان تک جائیگی، نجم سیٹھی کا چینی آٹا بحران کی صورتحال پر تجزیہ

ایف آئی اے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کابینہ میں ہونے والے ردوبدل پر تبصرہ کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ یہ ان کے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں ہے ابھی جن لوگوں کے نام آئے ہیں ان پر صرف الزام ہے خسروبختیار سے ایک وزارت لے لی گئی ہے لیکن کوئی نزلہ نہیں گرا باقی کام وہ آرام سے کر رہے ہیں باقی عہدے ان کے پاس ہیں ان کے بھائی پر بھی کوئی نظریہ نہیں گرا وہ پنجاب میں اپنا کام کر رہے ہیں جہانگیر ترین بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ میں تو ٹاسک فورس کا سربراہ تھا ہی نہیں وہ تو پرنسپل سیکریٹری اعظم خان پر الزام لگا رہے ہیں کہ سارا کیا دھرا ان کا ہے البتہ رزاق داؤد سے ایک عہد لیا گیا ہے تین ہفتے باقی ہیں اسلئے بابراعوان آگئے ہیں انہیں آنا ہی تھا ایم کیو ایم کے مقبول صدیقی کو جانے دیا کیونکہ وہ استعفے دیے بیٹھے تھے فخرامام کو لائے ہیں یہ اچھا فیصلہ ہے اس کے علاوہ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بڑی چیز ہوئی ہے بظاہر لوگوں کو لگ رہا ہے کہ کابینہ میں ردوبدل بڑی بات ہے ۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ جہانگیر ترین کو ظاہر ہے ٹارگٹ کیا گیا ہے جہانگیر ترین نے چلنے سے زیادہ ایم پی اے لاکر پنجاب کی حکومت بنوائی تھی جہانگیر ترین اور خسرو بختیار آج بھی طاقتور ہیں مجھے لگتا ہے کہ نزلہ گرے گا اور اگر نہ بھی چاہیے تو وہ کابینہ پر اور وزیراعظم پر کیونکہ سبسڈی دی گئی تھی اب اس پر سوال ہونگے یہ اجازت کیوں دی گئی تھی وفاقی کابینہ اور وزیراعظم نے منظوری دی تھی تو کیوں دی تھی ۔موجودہ حالات میں اگر جنوبی پنجاب کے لوگوں کو چھیڑا گیا جہانگیر ترین اور دیگر بہت سزا دینے کے لیے ہاتھ لگایا گیا تو فاورڈ بلاک بن جائے گا یہ لوگ عثمان بزدار کی چھٹی کرا کے کسی اور کی حکومت بنانے کے لیے پہلے ہی تیار بیٹھے ہیں اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ فوری طور پر کچھ ہوگا ۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ رپورٹ عمران خان نے خود باہر نکالی ہے یا کسی اور نے قدم اٹھایا ہے ۔کہا جارہا ہے کہ یہ رپورٹ لیک کی گئی ہے حکومت کے لئے جب کوئی راستہ نہیں رہا تو عمران خان کو کہنا پڑا کہ ہم نے یہ رپورٹ نکالی ہے اور وعدہ پورا کردیا اگر یاد کریں تو واجد ضیا کو بلاکر کمیٹی بنائی گئی تھی 26 فروری کو ۔آٹا چینی کے معاملات دیکھنے کے لیے کہا گیا تھا انہوں نے نومارچ کو اپنی رپورٹ تیار کرکے کابینہ میں رکھی تھی ۔جس پر اب میڈیا میں بات ہورہی ہے دراصل یہ ایک ابتدائی رپورٹ تھی جس میں کمیشن بنانے کی اجازت مانگی تھی ایک ایسا کمیشن جس میں آئی ایس آئی بھی ہو دیگر ادارے نیب انٹیلیجنس کے لوگ بھی ہو اور وہ فرانزک تجزیاتی رپورٹ تیار کرے ۔
کابینہ نے کہا تھا ٹھیک ہے 26 اپریل تک آپ اپنی رپورٹ دے دیجئے گا لیکن ادھوری رپورٹ باہر آ گئی ہے اور اب عمران اور ساتھیوں کو کہنا پڑا کہ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ رپورٹ سامنے لائیں گے اور 25 تاریخ کو فرانزک کے بعد بتاؤں گا کہ آپ کیا کرنا ہے ۔سوال یہ ہے کہ 9 مارچ سے اب تک یہ کیا سوچتے رہے غالب ایہ پریشان تھے کہ کیا کرنا ہے لیکن صورتحال کا کریڈٹ عمران خان نے لے لیا حالانکہ یہ ابتدائی فائنڈنگ ہے اور اصل رپورٹ تو 26 کو آنی ہے اس سے پہلے کسی نے رپورٹ کر دی دوستوں نے عمران خان کو کہا کہ آپ کریڈٹ لے لیں سازشی تھیوری ہے کہ ایک گروپ جہانگیر ترین کے خلاف ہے جس کی سربراہی اسد عمر اور پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کرتے ہیں یہ باتیں سنیں آتی ہیں لیکن اب جہانگیر خان ترین اور خسروبختیار تو بد نام ہو گئے ہیں رپورٹ ابھی آئی نہیں بدنامی پہلے ہوگی اس لیے لگتا ہے کہ کوئی سیاست کھیل گیا ہے کسی نے ہاتھ دکھا دیا ہے ۔

اصل میں دو معاملات ہیں کہ سبسڈی کس نے لی اور شوگر ایکسپورٹ کس نے کی اور اجازت کیوں ملی ۔
دوسرا معاملہ ہے کہ ساٹھ روپے سے 75 روپے کے قریب قیمت کیسے بڑھ گئیں جبکہ پیداوار بھی اچھی تھی میڈیا میں بحث کا رخ بدل گیا اور سارا فوکس سبسڈی پر ہوگیا کہ پیسے کس کس نے بنائے ہیں جو بات ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہورہی یعنی کہ قیمت کیسے بڑھیں اور کیوں پڑی جہانگیر ترین خسروبختیار اور مونس الہی اور دیگر رشتہ داروں کے نام آگئے کہ تین ارب روپے ان کے درمیان بانٹے گئے ۔
نیو سیٹھی نے کہاکہ 2016 سے 2018 تک مسلم لیگ نون کی حکومت میں بھی سبسڈی دی گئی تھی تب وفاقی و صوبائی حکومت نے سبسڈی دی تھی لیکن اہم بات یہ تھی کہ مقامی مارکیٹ میں قیمت نہیں پڑھی تھی تب بھی جہانگیر ترین کو سب سے زیادہ سچ بھی ملی تھی جب کہ شریف برادران کو سب سے کم پانچ فیصد بولی تھی سب سے زیادہ حصہ جہانگیرترین کا تھا ۔
اب موجودہ حکومت نے سبسڈی دی لیکن سوال یہ ہے کہ قیمت کیوں پڑی اور اگر اسٹاک-میں شرٹس تھی تو پھر ایکسپورٹ کی اجازت کیوں دی ۔
بتایا جاتا ہے کہ نوسو ٹن ایکسپورٹ چینی کرنے کی اجازت اسد عمر نے دی تھی لیکن اسد عمر نے کہا تھا کہ سبسڈی نہیں ملے گی کیونکہ کافی اسٹاک موجود ہے ۔
اس کے بعد کیا ہوا قیمت بڑھنے لگیں تو پنجاب حکومت نے سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا اور وفاقی حکومت نے نہیں ۔

پنجاب میں جہانگیر ترین کے رشتے دار تھے ان پر اثر رسوخ تھا سبسڈی بھلا دی گئی پھر ایکسپورٹ کی اجازت لینے کے لیے وفاقی کابینہ کے پاس معاملہ بھیجا گیا اور وفاقی کابینہ پہلے بنا کر چکی تھی لیکن پنجاب حکومت کی اجازت مانگنے پر اجازت دے دی گئی ۔
اب انکوائری تو ہونی چاہیے کہ شارٹیج کیسے ہوئی شروع ہوئی جبکہ مال تھا اور قیمت کیوں بننا شروع ہوئیں جب کہ نون لیگ کے دور میں قیمت نہیں بڑھ رہی تھی اور قیمت 57 سے بڑھ کر بہتر روپے چھ مہینے میں کیسے پہنچ گئی ۔
لوگوں کا بتانا ہے کہ کارٹیل بنے ہوئے ہیں ان کو معلوم تھا اس وقت موجود ہے اور اس مرتبہ بمپر فصل آرہی ہے لہذا انہوں نے فیصلہ کیا کریشی روک دیتے ہیں اور قیم شوگر والوں سے کہتے ہیں مال نہیں اٹھائیں گے اور پرانا مال جو اسٹاک میں موجود تھا اس کو نکالنا شروع کر دیا فارم رکانقصان شروع ہوگیا کیونکہ جتنے دن کرنا پڑا رہتا ہے اس کا وزن کم ہوتا رہتا ہے اور اتنی دیر میں انہوں نے اپنا سارا مال نکال دیا اور قیمتیں بڑھا بڑھا کر نکال دیا تاکہ جب نیا گانا مارکیٹ میں آئے تو نارمل طریقے سے پروسیس کیا جائے اس طریقے سے انہوں نے اجازت لے لی جو اس وقت کھڑا ہوا تھا اسے ایکسپورٹ بھی کر لیا جائے اب یہ دو الگ معاملات ہیں ان پر سزا ملنی چاہیے اور جنہوں نے بھی اپنے فرائض نہیں نبھائے ان کا محاسبہ ہونا چاہیے