حکومت کی ملی بھگت سے تین لاکھ ٹن چینی اسمگل اور سات لاکھ ٹن چینی ایکسپورٹ ہوئی وزیر اعظم عمران خان خود مستعفی ہوں : اسحاق ڈار

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے چینی بحران کے ذمہ داروں کے حوالے سے ایف آئی اے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کے دورے حکومت میں حکمرانوں کی ملی بھگت سے تین لاکھ ٹن سے زیادہ چینی اسمگل ہوئی اور 7 لاکھ ٹن چینی ایکسپورٹ کر دیں گی اور ملک میں 20 روپے فی کلو قیمت بڑھا کر غریب عوام کو لوٹا گیا ۔لہذا وزیروں کے قلمدان تبدیل کرنے کی بجائے وزیراعظم عمران خان خود مستعفی ہو ں۔
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اصل معاملہ سبسڈی دینا نہیں ہے بلکہ قیمت کو بڑھانہ اصل جرم ہے سبسیڈی تو نوازشریف سمیت ماضی کی حکومتیں بھی دیتی رہی لیکن یاد رکھیں کہ نواز دور میں سبسڈی دینے کے باوجود لوکل مارکیٹ میں قیمت نہیں بڑھنے دی گئی تھی ہم نے مانیٹرنگ رکھی تھی اور کنٹرول رکھا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو بھی یہ بات یقینی بنانی چاہیے تھی کہ چینی کی قیمت اوپر نہ جائے لیکن قیمت بڑھانے والے تو ان کے لیفٹ اور رائٹ پر بیٹھے ہوئے تھے ان کی کابینہ اور پارٹی کے اندر بیٹھے ہوئے تھے ۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ سبسڈی سے زیادہ خطرناک بات قیمت کا بڑھنا تھا 20 روپے کلو قیمت بڑھائیں گی اور سب آنکھیں بند کر بیٹھے رہے آپ نون لیگ کے پانچ سال دیکھ لیں ہم نے چینی کی قیمتوں کو کیسے مستحکم رکھا ۔انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ کی اجازت دی جاتی ہے جب اسٹاک موجود ہو پیداوار بھی اچھی ہو اور مقامی مارکیٹ میں قیمت نہ بڑھے ۔لیکن موجودہ حکمرانوں نے نااہلی دکھائیں پروفیشنل ورکنگ نظر نہیں آئی اتنی بڑی ایکسپورٹ کی اجازت دینا ایک کرمنل ایکٹ ہے اور اس کا جواب دینا پڑے گا ۔
قیمتی روکنا اور مستحکم رکھنا حکومت کا کام ہوتا ہے ہم نے بھی اپنے دور میں آلو کے معاملے میں قیمتیں کنٹرول کی تھی اور ذخیرہ اندوزوں کو ناکام بنایا تھا ۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اب یہ معاملہ آئی سی سی پر نہیں رکھے گا کبھی نہ سے اجازت لی گئی تھی اس لیے کابینہ اور وزیراعظم ذمہ دار ہوں گے 2016 میں سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے کہ ایسے فیصلے آئی سی سی کی طرف سے کابینہ اور وزیراعظم کو بطور اطلاع نہیں بھیجے جاتے بلکہ منظوری کے لیے بھیجے جاتے ہیں اور جب وزیراعظم اور کابینہ منظوری دیتی ہے تو وہ ذمہ دار ہوتے ہیں اور عمران نیازی کو اب سٹاپ ڈاؤن کرنا ہوگا استیفا دینا ہوگا گھر جانا ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ اس نااہلی اور فراڈ پر پوری حکومت کو گھر بھیج دینا چاہیے اس شخص نے زباں چوری سے ٹریننگ شروع کی تھی اور یہ آپ اس رپورٹ پر بیٹھا ہوا ہے معاملے کو آگے بڑھانے کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانا چاہیے وہ ذمہ داروں کا تعین کرے قومی خزانے میں رقم وصول کرے کیونکہ انہوں نے کوئی ٹرانسپرنسی نہیں دکھائی مغل اعظم کی طرح قیمت بڑھانے کی اجازت دیتے رہے اب ان کی چوری پکڑی گئی ہے تو شورشرابا ہورہا ہے تو انہوں نے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے اس کا کریڈٹ دینا شروع کر دیا ہے جب اس ملک میں ایک منتخب وزیر اعظم کو اقامہ لینے پر گھر بھیجا جاسکتا ہے تو اب اربوں کربوں کے فراڈ پر اس وزیراعظم کو جس نے معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے گھر کیوں نہیں بھیجا جا سکتا انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کے عمران خان پر بہت احسانات ہونگے وہ جہاز میں بڑے اداروں کے سربراہان کو لے کر اپنے فارم ہاؤس جاکر بہت انٹرٹین کیا کرتے تھے لیکن یہ سب ان کے ذاتی معاملے تھے اور وہ عمران خان پر ایسا نہ تھے آج عمران خان کے ساتھ کیا کرتے ہیں یہ قوم خود دیکھ لے لیکن ہم 22 کروڑ عوام کی قسمت اور ملکی معیشت کی بات کر رہے ہیں اس کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے یہ فراڈ برداشت نہیں کیا جاسکتا