جدہ – اسکول انتظامیہ موجودہ حالات والدین کو فیسوں میں کوئی مراعات دینے کے بجائے والدین کو دھمکی دی جارہی ہے

جدہ (امیر محمد خان سے) پاکستانی اسکول جدہ کے طلباء  کے والدین نے اس امر کی شدید مذمت کی ہے کہ  اسکول انتظامیہ  موجودہ حالات  والدین کو  فیسوں میں کوئی مراعات دینے کے بجائے  والدین کو  دھمکی دی جارہی ہے کہ  اگر فیس  وقت پر ادا نہیں کی  گئیں تو  بچوں کو  اسکول سے  بے دخل کردیا جائے گا، نیز  اسوقت جبکہ  کرونا کی وجہ  سے  اسکول  تاحکم ثانی بند ہیں بچوں کو  فی طلباء  و طالبات پچاس  ریال کی ادائیگی  کا کہا گیا ہے  اس اضافی  فیس کا اطلاق بھی اسی ماہ سے کیا  جائے گا ۔ والدین نے  کہا ہے کہ  جبکہ  سعودی  شاہ سلمان بن عبدالعزیز  اپنی رعایا  کو  کرونا کے نقصانات کی بناء  پر  بے شمار  مالی  فوائد کا اعلان کررہے ہیں جس میں  تارکین وطن کی بھی سہولت دی جارہی ہے  پاکستان کے ادارے  پاکستانیوں کو مزید  مشکلات پہنچار ہے ہیں۔واضح رہے کہ  سفیر پاکستان راجہ علی اعجاز  سعودی وزارت کے انتظام کے تحت  پاکستانی اسکولوں کے سربراہ  ہیں  مگر اسکول انتظامیہ  من مانے طور پر تمام  اقدامات کررہی ہے۔ کمیونٹی کے مطابق  اگر  شکائت  پاکستان میں متعلقہ حکام کو بھیجی جائے  تو  سفارت خانہ اور قونصل خانہ جان چھڑانے کیلئے غلط  اطلاعات دیتے ہوئے یہ جواب بھیج دیتا ہے اسکو ل  کا انتظام  سعودی وزارت  تعلیم کے مطابق  مقرر کی گئی  والدین کمیٹی تمام  اقدامات  کی مجاز ہے۔ جبکہ  سفارت خانہ ، قونصل خانہ کی ملی بھگت  سے اسکول انتظامیہ  اپنی  من پسند  والدین کی انتطامی کمیٹی  مقرر کردیتی ہے جسکا کمیونٹی سے کوئی رابطہ نہیں ہوتا اور وہ  اسکول انتظامیہ و پرنسپلز و  سفارتکاروں کے اشاروں پر  کام کرتی  ہیں والدین نے مطالبہ کیا ہے اسوقت سعودی عرب کے کئی اداروں میں کام کرونا کی وجہ سے  سست روی کا رجحان ہے  اور تنخواہیں وقت پر نہیں مل رہیں،  متوسط طبقہ جو دوکانوں، تعمیراتی شعبے میں تقریبا  کام بند ہے اور انکے مالکان  مالی بحران کا شکار ہیں اور کارکنوں کو  ادائیگیاں  وقت پر نہیں کی جارہی یا  کم کی جارہی ہیں۔  والدین نے وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ  سعودی عرب میں سفارتکاروں کو ہدائت کی جائے کہ وہ  اسکولوں کی انتظامیہ کو  من مانی کرنے سے باز رکھیں۔ اور  کرونا  وائرس کی وجہ سے  اسکول بند ہونے کی بناء طلباء  و طلبات کی  فیسوں کو معاف کیا جائے۔